المستدرك على الصحيحين سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم الرسالہ
ترقيم الشرکۃ
عربی لفظ
اردو لفظ
9. حَدِيثُ أُمِّ مَعْبَدٍ فِي الْهِجْرَةِ مُفَصَّلًا وَأَشْعَارُ الْهَاتِفِ وَجَوَابُهُ مِنْ حَسَّانَ بْنِ ثَابِتٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ
ہجرت کے واقعے میں حضرت امِّ معبدؓ کی مفصل حدیث اور هاتف کے اشعار اور حضرت حسان بن ثابتؓ کا جواب
حدیث نمبر: 4320
حدثنا أبو سعيد أحمد بن محمد بن عمرو الأحمسي بالكوفة، حدثنا الحسين بن حميد بن الربيع الخزاز، حدثنا سليمان بن الحكم بن أيوب بن سليمان بن ثابت بن يسار الخُزاعي، حدثنا أخي أيوب بن الحكم وسالم بن محمد الخُزاعي، جميعًا عن حزام بن هشام، عن أبيه هشام بن حُبَيش بن خويلد صاحب رسول الله ﷺ: أنَّ رسول الله ﷺ خرج من مكة مُهاجرًا إلى المدينة وأبو بكر ومولى أبي بكر عامر بن فهيرة ودليلهما الليثي عبد الله بن أُريقط، مَرُّوا على خَيمتَي أمَّ مَعْبَدٍ الخُزاعية، وكانت امرأةٌ بَرْزَةٌ جَلْدَةٌ، تحتبي بفناء الخيمة، ثم تسقي وتطعم، فسألوها لحمًا وتمرًا ليشتروا منها، فلم يُصِيبوا عندها شيئًا من ذلك، وكان القوم مُرْمِلِين مُسنِتِين، فنَظَر رسول الله ﷺ إلى شاةٍ في كِسْرِ الخَيمة، فقال:"ما هذه الشاةُ يا أم مَعْبدٍ؟" قالت: شاةٌ خَلَّفها الجَهْدُ عن الغنم، قال:"هل بها مِن لَبَنٍ؟" قالت: هي أجهَدُ من ذلك، قال:"أتأذنين لي أن أحلبها؟" قالت: بأبي وأمي، إن رأيت بها حَلَبًا فاحلبها، فدعا بها رسول الله ﷺ، فَمَسَحَ بيدِه ضَرْعَها وسَمَّى الله تعالى، ودعا لها في شاتها، فتَفاجَتْ عليه ودَرَّتْ فاجترَّتْ، فدعا بإناءٍ يُرِيضُ الرَّهْطَ (1) ، فَحَلَب فيه ثَجًّا حتى علاه البهاء، ثم سقاها حتى رَوِيَتْ، وسقى أصحابه حتى رَوُوا حتى أراضوا وشرِبَ آخِرَهُم، ثم حَلَب فيه الثانية على بَدْءٍ، حتى ملأ الإناء، ثم غادَرَهُ عندها، ثم بايعها وارتَحَلُوا عنها. فقلَّ ما لبثت حتى جاءها زوجها أبو معبد يسوق أعنُزًا عِجافًا تَسَاوَكُن (1) هُزلًا، مُحهن قليل، فلمّا رأى أبو معبدٍ اللبن أعجبَهُ، قال: من أين لك هذا يا أم معبد والشاءُ عازِبٌ حائل ولا حَلُوبَ في البيت؟ قالت: لا والله، إلَّا أنه مَرَّ بنا رجلٌ مبارك، من حاله كذا وكذا، قال: صفيه لي يا أم معبد، قالت: رأيتُ رجلًا ظاهِرَ الوَضاءة، أبْلَجَ الوجه، حسنَ الخُلُقِ، لم تَعِبْهُ ثُجْلَةٌ، ولم تُزْرِ به صَعْلةٌ، وسيمٌ قَسِيم، في عينيه دَعَجٌ، وفي أشفارِه وَطَفٌ، وفي صوته صَهَلٌ، وفي عنقه سَطَعٌ، وفي لحيته كَثَاثَةٌ، أَزْجُ أقْرَنُ، إن صَمَتَ فعليه الوَقارُ، وإن تكلَّم سماه وعلاه البهاء، أجمل الناس وأبهاه من بعيد، وأحسنُه وأجملُه مِن قريب، حُلو المَنطِق فَصْلٌ لا نَزْرٌ ولا هَذَرٌ، كأن مَنطِقَه خَرزاتُ نَظم يتحدَّرن، رَبْعةٌ لا تَشْنَؤُهُ من طُولٍ، ولا تَقتَحِمُه عِينٌ مِن قِصَر، غُصنٌ بين غُصنَين، فهو أنضرُ الثلاثةِ مَنظَرًا وأحسنهم قدرًا، له رُفقاءُ يَحُفُّون به، إن قال استمعوا لقوله، وإن أمر تبادَرُوا إلى أمره، مَحفُود محشُود، لا عابس ولا مُفنَّد. قال أبو مَعبَد: هذا والله صاحب قريش الذي ذُكر لنا من أمرِه ما ذُكر، ولقد هممتُ أن أصحَبَه، ولأفعلَنَّ إن وَجدْتُ إلى ذلك سبيلًا. وأصبحَ صوتٌ بمكة عاليًا يسمعون الصوت ولا يَدرُون مَن صاحبه، وهو يقول: جزى الله ربُّ الناس خير جزائه … رفيقينِ حَلَا خَيمتي أَمِّ مَعبَدِ هما نزلا بالهَدْيِ وارتحلا به … فقد فاز مَن أمسى رفيق محمد فيا لقُصَيٍّ ما زَوَى الله عنكم … به من فَعَال لا تُجارَى وسُؤدَدِ ليَهْنِ أبا بكر سعادة جده … بصحبته، من يسعد الله يسعد ويهن بني كعب (1) مقامُ فَتاتِهِمْ … ومَقعدها للمؤمنين بمرصد سَلُوا أختَكُم عن شاتها وإنائها … فإنكم إن تسألُوا الشاةَ تَشْهَدِ دعاها بشاةٍ حائل فتَحلَّبَتْ … عليه صريحًا ضَرّةُ الشاةِ مُزبِدِ فغادَرَه رَهْنًا لَدَيها لِحَالِبِ … يُردِّدُها في مصدَرٍ بعد مورد فلما سمع حسان بذلك، شَبَّب يُجاوِبُ الهاتف، فقال: لقد خاب قومٌ زال عنهم نبيهم … وقُدِّس مَن يَسْرِي إليهم ويَغْتَدِي ترحَّل عن قومٍ فزالت عقولهم … وحَلَّ على قوم بنور مُجدَّدِ هداهُم به بعد الضلالة ربُّهم … فأرشدهم مَن يَتْبَع الحقَّ يَرشُدِ وهل يستوي ضُلّال قومٍ تَسفّهوا … عمى وهداةٌ يَهتدون بمُهتدي وقد نزلت منه على أهل يثربٍ … ركاب هُدًى حَلّت عليهم بأَسعُدِ نبيٌّ يرى ما لا يرى الناس حوله … ويتلو كتاب الله في كلِّ مَشْهَدِ وإن قال في يومٍ مقالة غائب … فتصديقها في اليوم في ضُحَى الغَدِ (2) ................................
هذا حديث صحيح الإسناد، ولم يخرجاه. ويُستدَلُّ على صحته وصدق رواته بدلائل: فمنها: نزول المصطفى ﷺ بالخيمتين متواتر في أخبار صحيحةٍ ذوات عدد، ومنها: أنَّ الذين ساقُوا الحديث على وجهه أهلُ الخَيمتين من الأعارب الذين لا يتهمون بوضع الحديث والزيادة والنقصان، وقد أخذوه لفظًا بعد لفظٍ عن أبي مَعبَدٍ وأم معبدٍ، ومنها: أنَّ له أسانيد كالأخذ باليد أخَذَهُ الولد عن أبيه، والأبُ عن جَدِّه، لا إرسال ولا وَهَن في الرواة، ومنها: أنَّ الحُر بن الصَّيَّاح النَّخَعي أخذه عن أبي مَعبَدٍ كما أخذه ولده عنه، فأما الإسنادُ الذي رُوِّيناه لسياقة الحديث عن الكعبيِّين فإنه إسنادٌ صحيح عال للعرب الأعاربة، وقد عَلَونا في حديث الحُرِّ بن الصَّيَّاح.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 4274 - صحيح
هذا حديث صحيح الإسناد، ولم يخرجاه. ويُستدَلُّ على صحته وصدق رواته بدلائل: فمنها: نزول المصطفى ﷺ بالخيمتين متواتر في أخبار صحيحةٍ ذوات عدد، ومنها: أنَّ الذين ساقُوا الحديث على وجهه أهلُ الخَيمتين من الأعارب الذين لا يتهمون بوضع الحديث والزيادة والنقصان، وقد أخذوه لفظًا بعد لفظٍ عن أبي مَعبَدٍ وأم معبدٍ، ومنها: أنَّ له أسانيد كالأخذ باليد أخَذَهُ الولد عن أبيه، والأبُ عن جَدِّه، لا إرسال ولا وَهَن في الرواة، ومنها: أنَّ الحُر بن الصَّيَّاح النَّخَعي أخذه عن أبي مَعبَدٍ كما أخذه ولده عنه، فأما الإسنادُ الذي رُوِّيناه لسياقة الحديث عن الكعبيِّين فإنه إسنادٌ صحيح عال للعرب الأعاربة، وقد عَلَونا في حديث الحُرِّ بن الصَّيَّاح.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 4274 - صحيح
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پیارے صحابی سیدنا ہشام بن حبیش بن خویلد رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں: جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ اور ان کے غلام سیدنا عامر بن فہیرہ رضی اللہ عنہ کی معیت میں مکہ سے ہجرت کر کے مدینہ شریف کی جانب روانہ ہوئے اور ان کے راہ بتانے والے سیدنا عبداللہ بن اریقط لیثی رضی اللہ عنہ تھے۔ یہ لوگ ام معبد خزاعیہ رضی اللہ عنہا کے خیموں کے پاس سے گزرے (ام معبد بہت دلیر اور طاقتور خاتون تھیں اور یہ خیمے کے صحن میں چادر لپیٹ کر بیٹھ جاتی تھیں اور یہیں کھانا وغیرہ کھایا کرتی تھیں) انہوں نے (ام معبد سے) پوچھا: تمہارے پاس گوشت یا کھجوریں وغیرہ ہوں تو ہم خریدنا چاہتے ہیں۔ لیکن ام معبد رضی اللہ عنہا کے پاس بیچنے کے لیے کچھ نہ تھا۔ کیونکہ یہ لوگ بہت نادار اور قحط زدہ تھے۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کے خیمے کے ایک کونے میں بکری کھڑی دیکھی تو فرمایا: اے ام معبد! یہ بکری یہاں کیوں کھڑی ہے؟ ام معبد رضی اللہ عنہا نے کہا: اس میں ریوڑ کے ہمراہ چلنے کی سکت نہ تھی۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے پوچھا: کیا یہ دودھ دیتی ہے؟ اس نے بتایا کہ یہ دودھ دینے سے بھی عاجز ہے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: کیا تم مجھے اس کا دودھ دوہنے کی اجازت دیتی ہو؟ اس نے کہا: حضور! میرے ماں باپ آپ پر قربان ہوں اگر آپ اس میں دودھ دیکھتے ہیں تو دوہ لیجیے۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اسے اپنے پاس منگوا کر اس کے تھنوں پر اپنے دست مبارک لگائے، اللہ تعالیٰ کا نام لیا اور اس کے لیے دعا فرمائی، (نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے ہاتھوں اور دعا کی برکت سے) بکری نے اپنی ٹانگیں کھول دیں اور خوب دودھ اتار لیا۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے تمام لوگوں کو بٹھا لیا اور ایک برتن منگوا کر اس میں دودھ دوہا، حتیٰ کہ وہ برتن بھر گیا، حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ دودھ ام معبد رضی اللہ عنہا کو پلایا، اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھیوں نے بھی یہ دودھ پیٹ بھر کر پی لیا۔ حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے دوبارہ پھر اس برتن میں دودھ دوہا حتیٰ کہ برتن بھر گیا، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے وہ دودھ اس برتن میں اسی طرح رہنے دیا، پھر وہ بکری اس سے خرید کر وہیں چھوڑ دی اور وہاں سے روانہ ہو گئے۔ ابھی زیادہ دیر نہیں گزری تھی کہ اس کا شوہر ابومعبد کچھ لاغر سی بکریاں ہانکتے ہوئے آ گیا، وہ بکریاں کمزوری کی وجہ سے بہت سست چل رہی تھیں، ان کی ہڈیوں کا گودا کم ہو چکا تھا۔ جب ابومعبد نے گھر میں دودھ دیکھا تو بہت حیران ہو کر پوچھنے لگا: اے ام معبد! گھر میں تو کوئی دودھ دینے والی بکری نہ تھی، یہ دودھ کہاں سے آیا؟ اس نے کہا: خدا کی قسم! ایک آدمی ادھر سے گزرا ہے جو بہت برکت والا تھا، پھر تمام ماجرا سنا دیا۔ ابومعبد نے کہا: تم مجھے اس کے اوصاف بتاؤ، اس نے کہا: میں نے آج جس آدمی کو دیکھا ہے وہ خوبصورت، ہنس مکھ، اور روشن چہرے والا تھا اس کا ثجلہ تھکاتا نہیں ہے (ثجلہ کا مطلب ہے ” موٹے پیٹ والا ہونا “۔ معنی یہ ہو گا کہ اس کا پیٹ اتنا موٹا نہیں تھا کہ چلنے میں اس کی وجہ سے تھکاوٹ ہوتی ہو) اس میں صعلہ کا عیب بھی نہیں تھا (صعلہ کا مطلب ہے، چھوٹی اور پتلی گردن والا ہونا) بہت ہی خوبصورت ہے، اس کی آنکھیں بڑی اور سیاہ تھیں، اس کی پلکیں گھنی تھیں، اس کی آواز میں تیزی تھی، گردن بلند تھی، داڑھی گھنی تھی، باریک دراز ملے ہوئے ابرو تھے، اگر وہ چپ ہو تو اس کی شخصیت پر ایک وقار ہوتا ہے، اگر گفتگو کرے تو اس وقار میں مزید اضافہ ہو جاتا ہے، اس کو دور سے دیکھو تو سب سے زیادہ خوبصورت نظر آتا ہے، اور قریب سے دیکھو تو حسن و جمال اس سے بھی بڑھ کر دکھتا ہے، ٹھہر ٹھہر کر میٹھی باتیں کرنے والا ہے، نہ بے برکت ہے، نہ بے ہودہ گفتگو کرنے والا ہے، اس کی باتیں ایسی ہیں گویا کہ قیمتی موتیوں کو پرو کر عطر فروش کے ڈبے میں اُتار دیا گیا ہو، نہ اتنے لمبے تھے کہ دیکھنے والا نفرت کرے اور نہ اس قدر پستہ قد تھے کہ آنکھ کو برا لگے، بلکہ میانہ قد تھے، آپ پتیوں سے زیادہ تروتازہ خوبصورت اور باعزت تھے، اس کے دوست ہمیشہ اس کے سائبان کی طرح رہتے تھے، وہ بات کرے تو بہت توجہ سے سنتے ہیں، کسی چیز کا حکم دے تو ایک دوسرے سے آگے بڑھ کر عمل کرتے ہیں، وہ مخدوم ہے، جلد بات ماننے والے ہیں، ترش رو اور ملامت گر نہیں ہیں، (یہ سن کر) ابومعبد بولا: خدا کی قسم! یہ آدمی وہی ہے جس کے بارے میں قریش نے مجھے بتایا تھا، میں اس کی سنگت اختیار کرنے کی کوشش کرتا ہوں اگر میں مجھے اس کی طرف راہ ملا تو میں یہ کام ضرور کروں گا۔ اور مکہ میں ایک آواز بلند ہوئی لوگوں نے یہ آواز سنی مگر کسی کو یہ پتہ نہ چل سکا کہ یہ آواز کہاں سے آ رہی ہے۔ کہنے والا کہہ رہا تھا۔ اللہ تعالیٰ ان دو ساتھیوں کو جزائے خیر عطا فرمائے جو ام معبد کے دو خیموں میں آئے۔ وہ دونوں ہدایت کے ساتھ وہاں سے اترے اور اس (ام معبد) کو بھی اس سے ہدایت ملی پس وہ کامیاب ہو گیا جو محمد صلی اللہ علیہ وسلم کا ساتھی ہوا۔ ابوبکر کو ان کے آباؤ اجداد کی نیک بختی ملی ان کی صحبت کی برکت سے اور سعادت مند وہی ہوتا ہے جس کو اللہ تعالیٰ سعادت مند کرے۔ اور بنی کعب کو ان کی سخاوت ملی اور ان کے بیٹھنے کی جگہ مومنوں کے لیے بدلہ و جزا کا مقام ہے۔ تم اپنی بہن سے اس کی بکری اور برتن کے متعلق پوچھو۔ بے شک اگر تم بکری سے پوچھو گے تو وہ بھی گواہی دے گی۔ انہوں نے ایسی بکری منگوائی جو دودھ دینے کی صلاحیت نہیں رکھتی تھی، لیکن اس بکری نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے سامنے جھاگ پھینکتا (یعنی خالص) دودھ دیا۔ پھر انہوں نے وہ بکری اسی کے پاس رہن چھوڑ دی اور دودھ دوہنے والا بار بار اس کا دودھ دوہتا رہا۔ جب سیدنا حسان رضی اللہ عنہ نے ہاتف غیبی کی یہ آواز سنی تو فوراً اس کے جواب میں آپ نے فرمایا: وہ قوم برباد ہو گئی جن سے ان کا نبی چلا گیا اور وہ لوگ بہت خوش قسمت ہیں جن کی طرف اللہ کا نبی روانہ ہوا۔ وہ اس قوم سے کوچ کر گئے ہیں جن کی عقلیں زائل ہو چکی ہیں اور ایک قوم کے پاس بزرگی والے نور کے ساتھ تشریف لے گئے ہیں۔ ان کے رب نے ان کو گمراہی کے بعد ہدایت عطا فرمائی اور ان کو ہدایت دی جو حق کی پیروی کرتے ہوئے ہدایت ڈھونڈتا ہے، اور کیا برابر ہے بے وقوف اندھی قوم کی گمراہی اور وہ راہنما جو مرشد کامل سے ہدایت حاصل کرتے ہیں۔ اور تحقیق اس سے اتری ہے اہل یثرب پر ہدایت کی رکاب جو کہ ان پر نیک بختی لے کر آئی۔ یہ نبی ہیں جو اپنے اردگرد وہ سب کچھ دیکھتے ہیں جو دوسروں کو نظر نہیں آتا اور یہ ہر مقام پر اللہ کی کتاب کی تلاوت کرتے ہیں۔ اور اگر یہ کسی دن کوئی پیشین گوئی کر دیں تو اسی دن یا اس سے اگلے دن اس کی تصدیق ہو جاتی ہے۔ ٭٭ یہ حدیث صحیح الاسناد ہے لیکن شیخین رحمۃ اللہ علیہما نے اس کو نقل نہیں کیا۔ اور اس کی صحت اور اس کے راویوں کی صداقت پر درج ذیل دلائل موجود ہیں۔ (1) رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا دو خیموں میں تشریف لانا متعدد احادیث صحیحہ سے ثابت ہے۔ (2) جنہوں نے یہ حدیث اس انداز سے بیان کی ہے یہ وہ لوگ ہیں جن پر حدیث گھڑنے اور اس میں کمی زیادتی کی کوئی تہمت نہیں ہے۔ اور انہوں نے ام معبد اور ابومعبد سے لفظ بہ لفظ روایت بیان کی ہے۔ (3) اس کی سند ایسی ہے جیسے بیٹا باپ سے، وہ اس کے دادا سے ہاتھوں ہاتھ حدیث لے۔ اس میں نہ تو کوئی ارسال ہے اور نہ کوئی ضعف ہے۔ (4) حربن الصباح النخعی نے اس کو ابومعبد سے اسی طرح روایت کیا ہے جیسے ان کے بیٹے نے ان سے روایت کی ہے۔ اور وہ اسناد جو ہم نے کعبین کی حدیث کی سند کے ساتھ روایت کی ہے وہ اسناد صحیح ہے اور عرب عرباء کی سند عالی ہے۔ اور بے شک حربن الصباح کی حدیث میں ہماری سند عالی ہے۔ (جیسا کہ درج ذیل ہے) [المستدرك على الصحيحين/كِتَابُ الْهِجْرَةِ/حدیث: 4320]