المستدرك على الصحيحين سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم الرسالہ
ترقيم الشرکۃ
عربی لفظ
اردو لفظ
9. حديث أم معبد فى الهجرة مفصلا وأشعار الهاتف وجوابه من حسان بن ثابت رضى الله عنه
ہجرت کے واقعے میں حضرت امِّ معبدؓ کی مفصل حدیث اور هاتف کے اشعار اور حضرت حسان بن ثابتؓ کا جواب
حدیث نمبر: 4320
حدثنا أبو سعيد أحمد بن محمد بن عمرو الأحمسي بالكوفة، حدثنا الحسين بن حميد بن الربيع الخزاز، حدثنا سليمان بن الحكم بن أيوب بن سليمان بن ثابت بن يسار الخُزاعي، حدثنا أخي أيوب بن الحكم وسالم بن محمد الخُزاعي، جميعًا عن حزام بن هشام، عن أبيه هشام بن حُبَيش بن خويلد صاحب رسول الله ﷺ: أنَّ رسول الله ﷺ خرج من مكة مُهاجرًا إلى المدينة وأبو بكر ومولى أبي بكر عامر بن فهيرة ودليلهما الليثي عبد الله بن أُريقط، مَرُّوا على خَيمتَي أمَّ مَعْبَدٍ الخُزاعية، وكانت امرأةٌ بَرْزَةٌ جَلْدَةٌ، تحتبي بفناء الخيمة، ثم تسقي وتطعم، فسألوها لحمًا وتمرًا ليشتروا منها، فلم يُصِيبوا عندها شيئًا من ذلك، وكان القوم مُرْمِلِين مُسنِتِين، فنَظَر رسول الله ﷺ إلى شاةٍ في كِسْرِ الخَيمة، فقال:"ما هذه الشاةُ يا أم مَعْبدٍ؟" قالت: شاةٌ خَلَّفها الجَهْدُ عن الغنم، قال:"هل بها مِن لَبَنٍ؟" قالت: هي أجهَدُ من ذلك، قال:"أتأذنين لي أن أحلبها؟" قالت: بأبي وأمي، إن رأيت بها حَلَبًا فاحلبها، فدعا بها رسول الله ﷺ، فَمَسَحَ بيدِه ضَرْعَها وسَمَّى الله تعالى، ودعا لها في شاتها، فتَفاجَتْ عليه ودَرَّتْ فاجترَّتْ، فدعا بإناءٍ يُرِيضُ الرَّهْطَ (1) ، فَحَلَب فيه ثَجًّا حتى علاه البهاء، ثم سقاها حتى رَوِيَتْ، وسقى أصحابه حتى رَوُوا حتى أراضوا وشرِبَ آخِرَهُم، ثم حَلَب فيه الثانية على بَدْءٍ، حتى ملأ الإناء، ثم غادَرَهُ عندها، ثم بايعها وارتَحَلُوا عنها. فقلَّ ما لبثت حتى جاءها زوجها أبو معبد يسوق أعنُزًا عِجافًا تَسَاوَكُن (1) هُزلًا، مُحهن قليل، فلمّا رأى أبو معبدٍ اللبن أعجبَهُ، قال: من أين لك هذا يا أم معبد والشاءُ عازِبٌ حائل ولا حَلُوبَ في البيت؟ قالت: لا والله، إلَّا أنه مَرَّ بنا رجلٌ مبارك، من حاله كذا وكذا، قال: صفيه لي يا أم معبد، قالت: رأيتُ رجلًا ظاهِرَ الوَضاءة، أبْلَجَ الوجه، حسنَ الخُلُقِ، لم تَعِبْهُ ثُجْلَةٌ، ولم تُزْرِ به صَعْلةٌ، وسيمٌ قَسِيم، في عينيه دَعَجٌ، وفي أشفارِه وَطَفٌ، وفي صوته صَهَلٌ، وفي عنقه سَطَعٌ، وفي لحيته كَثَاثَةٌ، أَزْجُ أقْرَنُ، إن صَمَتَ فعليه الوَقارُ، وإن تكلَّم سماه وعلاه البهاء، أجمل الناس وأبهاه من بعيد، وأحسنُه وأجملُه مِن قريب، حُلو المَنطِق فَصْلٌ لا نَزْرٌ ولا هَذَرٌ، كأن مَنطِقَه خَرزاتُ نَظم يتحدَّرن، رَبْعةٌ لا تَشْنَؤُهُ من طُولٍ، ولا تَقتَحِمُه عِينٌ مِن قِصَر، غُصنٌ بين غُصنَين، فهو أنضرُ الثلاثةِ مَنظَرًا وأحسنهم قدرًا، له رُفقاءُ يَحُفُّون به، إن قال استمعوا لقوله، وإن أمر تبادَرُوا إلى أمره، مَحفُود محشُود، لا عابس ولا مُفنَّد. قال أبو مَعبَد: هذا والله صاحب قريش الذي ذُكر لنا من أمرِه ما ذُكر، ولقد هممتُ أن أصحَبَه، ولأفعلَنَّ إن وَجدْتُ إلى ذلك سبيلًا. وأصبحَ صوتٌ بمكة عاليًا يسمعون الصوت ولا يَدرُون مَن صاحبه، وهو يقول: جزى الله ربُّ الناس خير جزائه … رفيقينِ حَلَا خَيمتي أَمِّ مَعبَدِ هما نزلا بالهَدْيِ وارتحلا به … فقد فاز مَن أمسى رفيق محمد فيا لقُصَيٍّ ما زَوَى الله عنكم … به من فَعَال لا تُجارَى وسُؤدَدِ ليَهْنِ أبا بكر سعادة جده … بصحبته، من يسعد الله يسعد ويهن بني كعب (1) مقامُ فَتاتِهِمْ … ومَقعدها للمؤمنين بمرصد سَلُوا أختَكُم عن شاتها وإنائها … فإنكم إن تسألُوا الشاةَ تَشْهَدِ دعاها بشاةٍ حائل فتَحلَّبَتْ … عليه صريحًا ضَرّةُ الشاةِ مُزبِدِ فغادَرَه رَهْنًا لَدَيها لِحَالِبِ … يُردِّدُها في مصدَرٍ بعد مورد فلما سمع حسان بذلك، شَبَّب يُجاوِبُ الهاتف، فقال: لقد خاب قومٌ زال عنهم نبيهم … وقُدِّس مَن يَسْرِي إليهم ويَغْتَدِي ترحَّل عن قومٍ فزالت عقولهم … وحَلَّ على قوم بنور مُجدَّدِ هداهُم به بعد الضلالة ربُّهم … فأرشدهم مَن يَتْبَع الحقَّ يَرشُدِ وهل يستوي ضُلّال قومٍ تَسفّهوا … عمى وهداةٌ يَهتدون بمُهتدي وقد نزلت منه على أهل يثربٍ … ركاب هُدًى حَلّت عليهم بأَسعُدِ نبيٌّ يرى ما لا يرى الناس حوله … ويتلو كتاب الله في كلِّ مَشْهَدِ وإن قال في يومٍ مقالة غائب … فتصديقها في اليوم في ضُحَى الغَدِ (2) ................................
هذا حديث صحيح الإسناد، ولم يخرجاه. ويُستدَلُّ على صحته وصدق رواته بدلائل: فمنها: نزول المصطفى ﷺ بالخيمتين متواتر في أخبار صحيحةٍ ذوات عدد، ومنها: أنَّ الذين ساقُوا الحديث على وجهه أهلُ الخَيمتين من الأعارب الذين لا يتهمون بوضع الحديث والزيادة والنقصان، وقد أخذوه لفظًا بعد لفظٍ عن أبي مَعبَدٍ وأم معبدٍ، ومنها: أنَّ له أسانيد كالأخذ باليد أخَذَهُ الولد عن أبيه، والأبُ عن جَدِّه، لا إرسال ولا وَهَن في الرواة، ومنها: أنَّ الحُر بن الصَّيَّاح النَّخَعي أخذه عن أبي مَعبَدٍ كما أخذه ولده عنه، فأما الإسنادُ الذي رُوِّيناه لسياقة الحديث عن الكعبيِّين فإنه إسنادٌ صحيح عال للعرب الأعاربة، وقد عَلَونا في حديث الحُرِّ بن الصَّيَّاح.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 4274 - صحيح
هذا حديث صحيح الإسناد، ولم يخرجاه. ويُستدَلُّ على صحته وصدق رواته بدلائل: فمنها: نزول المصطفى ﷺ بالخيمتين متواتر في أخبار صحيحةٍ ذوات عدد، ومنها: أنَّ الذين ساقُوا الحديث على وجهه أهلُ الخَيمتين من الأعارب الذين لا يتهمون بوضع الحديث والزيادة والنقصان، وقد أخذوه لفظًا بعد لفظٍ عن أبي مَعبَدٍ وأم معبدٍ، ومنها: أنَّ له أسانيد كالأخذ باليد أخَذَهُ الولد عن أبيه، والأبُ عن جَدِّه، لا إرسال ولا وَهَن في الرواة، ومنها: أنَّ الحُر بن الصَّيَّاح النَّخَعي أخذه عن أبي مَعبَدٍ كما أخذه ولده عنه، فأما الإسنادُ الذي رُوِّيناه لسياقة الحديث عن الكعبيِّين فإنه إسنادٌ صحيح عال للعرب الأعاربة، وقد عَلَونا في حديث الحُرِّ بن الصَّيَّاح.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 4274 - صحيح
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پیارے صحابی سیدنا ہشام بن حبیش بن خویلد رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں: جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ اور ان کے غلام سیدنا عامر بن فہیرہ رضی اللہ عنہ کی معیت میں مکہ سے ہجرت کر کے مدینہ شریف کی جانب روانہ ہوئے اور ان کے راہ بتانے والے سیدنا عبداللہ بن اریقط لیثی رضی اللہ عنہ تھے۔ یہ لوگ ام معبد خزاعیہ رضی اللہ عنہا کے خیموں کے پاس سے گزرے (ام معبد بہت دلیر اور طاقتور خاتون تھیں اور یہ خیمے کے صحن میں چادر لپیٹ کر بیٹھ جاتی تھیں اور یہیں کھانا وغیرہ کھایا کرتی تھیں) انہوں نے (ام معبد سے) پوچھا: تمہارے پاس گوشت یا کھجوریں وغیرہ ہوں تو ہم خریدنا چاہتے ہیں۔ لیکن ام معبد رضی اللہ عنہا کے پاس بیچنے کے لیے کچھ نہ تھا۔ کیونکہ یہ لوگ بہت نادار اور قحط زدہ تھے۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کے خیمے کے ایک کونے میں بکری کھڑی دیکھی تو فرمایا: اے ام معبد! یہ بکری یہاں کیوں کھڑی ہے؟ ام معبد رضی اللہ عنہا نے کہا: اس میں ریوڑ کے ہمراہ چلنے کی سکت نہ تھی۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے پوچھا: کیا یہ دودھ دیتی ہے؟ اس نے بتایا کہ یہ دودھ دینے سے بھی عاجز ہے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: کیا تم مجھے اس کا دودھ دوہنے کی اجازت دیتی ہو؟ اس نے کہا: حضور! میرے ماں باپ آپ پر قربان ہوں اگر آپ اس میں دودھ دیکھتے ہیں تو دوہ لیجیے۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اسے اپنے پاس منگوا کر اس کے تھنوں پر اپنے دست مبارک لگائے، اللہ تعالیٰ کا نام لیا اور اس کے لیے دعا فرمائی، (نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے ہاتھوں اور دعا کی برکت سے) بکری نے اپنی ٹانگیں کھول دیں اور خوب دودھ اتار لیا۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے تمام لوگوں کو بٹھا لیا اور ایک برتن منگوا کر اس میں دودھ دوہا، حتیٰ کہ وہ برتن بھر گیا، حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ دودھ ام معبد رضی اللہ عنہا کو پلایا، اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھیوں نے بھی یہ دودھ پیٹ بھر کر پی لیا۔ حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے دوبارہ پھر اس برتن میں دودھ دوہا حتیٰ کہ برتن بھر گیا، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے وہ دودھ اس برتن میں اسی طرح رہنے دیا، پھر وہ بکری اس سے خرید کر وہیں چھوڑ دی اور وہاں سے روانہ ہو گئے۔ ابھی زیادہ دیر نہیں گزری تھی کہ اس کا شوہر ابومعبد کچھ لاغر سی بکریاں ہانکتے ہوئے آ گیا، وہ بکریاں کمزوری کی وجہ سے بہت سست چل رہی تھیں، ان کی ہڈیوں کا گودا کم ہو چکا تھا۔ جب ابومعبد نے گھر میں دودھ دیکھا تو بہت حیران ہو کر پوچھنے لگا: اے ام معبد! گھر میں تو کوئی دودھ دینے والی بکری نہ تھی، یہ دودھ کہاں سے آیا؟ اس نے کہا: خدا کی قسم! ایک آدمی ادھر سے گزرا ہے جو بہت برکت والا تھا، پھر تمام ماجرا سنا دیا۔ ابومعبد نے کہا: تم مجھے اس کے اوصاف بتاؤ، اس نے کہا: میں نے آج جس آدمی کو دیکھا ہے وہ خوبصورت، ہنس مکھ، اور روشن چہرے والا تھا اس کا ثجلہ تھکاتا نہیں ہے (ثجلہ کا مطلب ہے ” موٹے پیٹ والا ہونا “۔ معنی یہ ہو گا کہ اس کا پیٹ اتنا موٹا نہیں تھا کہ چلنے میں اس کی وجہ سے تھکاوٹ ہوتی ہو) اس میں صعلہ کا عیب بھی نہیں تھا (صعلہ کا مطلب ہے، چھوٹی اور پتلی گردن والا ہونا) بہت ہی خوبصورت ہے، اس کی آنکھیں بڑی اور سیاہ تھیں، اس کی پلکیں گھنی تھیں، اس کی آواز میں تیزی تھی، گردن بلند تھی، داڑھی گھنی تھی، باریک دراز ملے ہوئے ابرو تھے، اگر وہ چپ ہو تو اس کی شخصیت پر ایک وقار ہوتا ہے، اگر گفتگو کرے تو اس وقار میں مزید اضافہ ہو جاتا ہے، اس کو دور سے دیکھو تو سب سے زیادہ خوبصورت نظر آتا ہے، اور قریب سے دیکھو تو حسن و جمال اس سے بھی بڑھ کر دکھتا ہے، ٹھہر ٹھہر کر میٹھی باتیں کرنے والا ہے، نہ بے برکت ہے، نہ بے ہودہ گفتگو کرنے والا ہے، اس کی باتیں ایسی ہیں گویا کہ قیمتی موتیوں کو پرو کر عطر فروش کے ڈبے میں اُتار دیا گیا ہو، نہ اتنے لمبے تھے کہ دیکھنے والا نفرت کرے اور نہ اس قدر پستہ قد تھے کہ آنکھ کو برا لگے، بلکہ میانہ قد تھے، آپ پتیوں سے زیادہ تروتازہ خوبصورت اور باعزت تھے، اس کے دوست ہمیشہ اس کے سائبان کی طرح رہتے تھے، وہ بات کرے تو بہت توجہ سے سنتے ہیں، کسی چیز کا حکم دے تو ایک دوسرے سے آگے بڑھ کر عمل کرتے ہیں، وہ مخدوم ہے، جلد بات ماننے والے ہیں، ترش رو اور ملامت گر نہیں ہیں، (یہ سن کر) ابومعبد بولا: خدا کی قسم! یہ آدمی وہی ہے جس کے بارے میں قریش نے مجھے بتایا تھا، میں اس کی سنگت اختیار کرنے کی کوشش کرتا ہوں اگر میں مجھے اس کی طرف راہ ملا تو میں یہ کام ضرور کروں گا۔ اور مکہ میں ایک آواز بلند ہوئی لوگوں نے یہ آواز سنی مگر کسی کو یہ پتہ نہ چل سکا کہ یہ آواز کہاں سے آ رہی ہے۔ کہنے والا کہہ رہا تھا۔ اللہ تعالیٰ ان دو ساتھیوں کو جزائے خیر عطا فرمائے جو ام معبد کے دو خیموں میں آئے۔ وہ دونوں ہدایت کے ساتھ وہاں سے اترے اور اس (ام معبد) کو بھی اس سے ہدایت ملی پس وہ کامیاب ہو گیا جو محمد صلی اللہ علیہ وسلم کا ساتھی ہوا۔ ابوبکر کو ان کے آباؤ اجداد کی نیک بختی ملی ان کی صحبت کی برکت سے اور سعادت مند وہی ہوتا ہے جس کو اللہ تعالیٰ سعادت مند کرے۔ اور بنی کعب کو ان کی سخاوت ملی اور ان کے بیٹھنے کی جگہ مومنوں کے لیے بدلہ و جزا کا مقام ہے۔ تم اپنی بہن سے اس کی بکری اور برتن کے متعلق پوچھو۔ بے شک اگر تم بکری سے پوچھو گے تو وہ بھی گواہی دے گی۔ انہوں نے ایسی بکری منگوائی جو دودھ دینے کی صلاحیت نہیں رکھتی تھی، لیکن اس بکری نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے سامنے جھاگ پھینکتا (یعنی خالص) دودھ دیا۔ پھر انہوں نے وہ بکری اسی کے پاس رہن چھوڑ دی اور دودھ دوہنے والا بار بار اس کا دودھ دوہتا رہا۔ جب سیدنا حسان رضی اللہ عنہ نے ہاتف غیبی کی یہ آواز سنی تو فوراً اس کے جواب میں آپ نے فرمایا: وہ قوم برباد ہو گئی جن سے ان کا نبی چلا گیا اور وہ لوگ بہت خوش قسمت ہیں جن کی طرف اللہ کا نبی روانہ ہوا۔ وہ اس قوم سے کوچ کر گئے ہیں جن کی عقلیں زائل ہو چکی ہیں اور ایک قوم کے پاس بزرگی والے نور کے ساتھ تشریف لے گئے ہیں۔ ان کے رب نے ان کو گمراہی کے بعد ہدایت عطا فرمائی اور ان کو ہدایت دی جو حق کی پیروی کرتے ہوئے ہدایت ڈھونڈتا ہے، اور کیا برابر ہے بے وقوف اندھی قوم کی گمراہی اور وہ راہنما جو مرشد کامل سے ہدایت حاصل کرتے ہیں۔ اور تحقیق اس سے اتری ہے اہل یثرب پر ہدایت کی رکاب جو کہ ان پر نیک بختی لے کر آئی۔ یہ نبی ہیں جو اپنے اردگرد وہ سب کچھ دیکھتے ہیں جو دوسروں کو نظر نہیں آتا اور یہ ہر مقام پر اللہ کی کتاب کی تلاوت کرتے ہیں۔ اور اگر یہ کسی دن کوئی پیشین گوئی کر دیں تو اسی دن یا اس سے اگلے دن اس کی تصدیق ہو جاتی ہے۔ ٭٭ یہ حدیث صحیح الاسناد ہے لیکن شیخین رحمۃ اللہ علیہما نے اس کو نقل نہیں کیا۔ اور اس کی صحت اور اس کے راویوں کی صداقت پر درج ذیل دلائل موجود ہیں۔ (1) رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا دو خیموں میں تشریف لانا متعدد احادیث صحیحہ سے ثابت ہے۔ (2) جنہوں نے یہ حدیث اس انداز سے بیان کی ہے یہ وہ لوگ ہیں جن پر حدیث گھڑنے اور اس میں کمی زیادتی کی کوئی تہمت نہیں ہے۔ اور انہوں نے ام معبد اور ابومعبد سے لفظ بہ لفظ روایت بیان کی ہے۔ (3) اس کی سند ایسی ہے جیسے بیٹا باپ سے، وہ اس کے دادا سے ہاتھوں ہاتھ حدیث لے۔ اس میں نہ تو کوئی ارسال ہے اور نہ کوئی ضعف ہے۔ (4) حربن الصباح النخعی نے اس کو ابومعبد سے اسی طرح روایت کیا ہے جیسے ان کے بیٹے نے ان سے روایت کی ہے۔ اور وہ اسناد جو ہم نے کعبین کی حدیث کی سند کے ساتھ روایت کی ہے وہ اسناد صحیح ہے اور عرب عرباء کی سند عالی ہے۔ اور بے شک حربن الصباح کی حدیث میں ہماری سند عالی ہے۔ (جیسا کہ درج ذیل ہے) [المستدرك على الصحيحين/كتاب الهجرة/حدیث: 4320]
المستدرك على الصحيحين کی حدیث نمبر 4320 پر
الشیخ عادل مرشد، ڈاکٹر احمد برہوم، ڈاکٹر محمد کامل قرہ بلی، ڈاکٹر سعید اللحام کی
تخريج وتحقيقِ محدثانہ نکات و اصطلاحی مطالعہ
الشیخ عادل مرشد، ڈاکٹر احمد برہوم، ڈاکٹر محمد کامل قرہ بلی، ڈاکٹر سعید اللحام کی
تخريج وتحقيقِ محدثانہ نکات و اصطلاحی مطالعہ
واجترت، أي: أخرجت الجِرّة - وهو العلف - من جوفها إلى فيها لتمضغها.
📝 نوٹ / توضیح: "اجترت": یعنی اس نے جگالی کی (اپنے پیٹ سے چارہ نکال کر منہ میں لائی تاکہ چبائے)۔
والثجُّ: السيلان الكثير.
📝 نوٹ / توضیح: "الثجّ": کثرت سے بہنا۔
والبهاء: وبيصُ رغوة اللبن وبريقها.
📝 نوٹ / توضیح: "البھاء": دودھ کی جھاگ کی چمک دمک۔
والعازب: البعيد.
📝 نوٹ / توضیح: "العازب": دور دراز (چرنے جانے والا جانور)۔
والحائل: التي لم تحمل.
📝 نوٹ / توضیح: "الحائل": وہ جانور جو حاملہ نہ ہو۔
والحلوب: التي تُحلب.
📝 نوٹ / توضیح: "الحلوب": وہ جانور جسے دوہا جائے۔
والأبلج الوجه: الحسن المشرق المضيء.
📝 نوٹ / توضیح: "الابلج الوجہ": خوبصورت، روشن اور چمکدار چہرے والا۔
والثُجْلة: عظم البطن مع استرخاء أسفله.
📝 نوٹ / توضیح: "الثجلۃ": پیٹ کا بڑا ہونا اور نیچے کی طرف ڈھلکنا۔
والإزراء: التهاون بالشيء والاحتقار له.
📝 نوٹ / توضیح: "الازراء": کسی چیز کو حقیر سمجھنا اور بے وقعت جاننا۔
والصَّعْلة: صغر الرأس.
📝 نوٹ / توضیح: "الصعلۃ": سر کا چھوٹا ہونا۔
والوسيم: المشهور بالحُسن.
📝 نوٹ / توضیح: "الوسیم": جو خوبصورتی میں مشہور ہو۔
والقسيم: الحسن الوجه.
📝 نوٹ / توضیح: "القسیم": خوبصورت چہرے والا۔
والدَّعَج: شدة سواد العين مع سعتها.
📝 نوٹ / توضیح: "الدعج": آنکھ کی سیاہی کا شدید ہونا اور آنکھ کا کشادہ ہونا۔
والأشفار: حروف الأجفان التي ينبت عليها الشعر.
📝 نوٹ / توضیح: "الاشفار": پلکوں کے کنارے جہاں بال اگتے ہیں۔
والوَطَف: كثرة شعر العين والاسترخاء، وإنما يكون ذلك مع الطول.
📝 نوٹ / توضیح: "الوطف": آنکھوں کے بالوں (پلکوں) کا گھنا اور لمبا ہو کر جھکا ہونا۔
والصَّهَل: صوت فيه.
📝 نوٹ / توضیح: "الصھل": آواز میں بھاری پن/گرج۔
والسَّطَع: طول العنق. والأزجُّ: المتقوّس الحاجبين.
📝 نوٹ / توضیح: "السطع": گردن کا لمبا ہونا۔ "الازجّ": کمان کی طرح خمیدہ بھنوؤں والا۔
والأقرن: المتصل رأسًا حاجَبيه.
📝 نوٹ / توضیح: "الاقرن": جس کی دونوں بھنویں آپس میں ملی ہوئی ہوں۔
والنزر: القليل.
📝 نوٹ / توضیح: "النزر": کم/تھوڑا۔
والهذر: الكثير غير المفيد.
📝 نوٹ / توضیح: "الھذر": فضول اور زیادہ (غیر مفید) بات۔
لا تشنؤه من طُول: لا يُبغَضُ لفرط طوله.
📝 نوٹ / توضیح: "لا تشنؤہ من طول": زیادہ لمبا ہونے کی وجہ سے ناپسندیدہ نہیں لگتا (یعنی قد غیر معمولی لمبا نہیں تھا)۔
والرَّبْعة: ما بين الطويل والقصير.
📝 نوٹ / توضیح: "الربعۃ": درمیانہ قد (طویل اور قصیر کے درمیان)۔
ولا تقتحمه عينٌ من قصر، أي: لا تحتقره العيون لقصره فتتركه وتتجاوزه إلى غيره.
📝 نوٹ / توضیح: "لا تقتحمہ عین من قصر": چھوٹا قد ہونے کی وجہ سے آنکھیں اسے حقیر نہیں سمجھتیں کہ اسے چھوڑ کر آگے بڑھ جائیں۔
والمحفُود: المخدوم.
📝 نوٹ / توضیح: "المحفود": جس کی خدمت کی جائے۔
والمحشود: الذي يجتمع الناس حوله.
📝 نوٹ / توضیح: "المحشود": جس کے گرد لوگ جمع ہوں۔
والعابس: الكالح الوجه المقطّب.
📝 نوٹ / توضیح: "العابس": ترش رو، چیں بہ جبیں ہونے والا۔
والمُفَنَّد: المنسوب إلى الجهل وقلة العقل.
📝 نوٹ / توضیح: "المفند": جسے جہالت اور کم عقلی کی طرف منسوب کیا جائے (یعنی بہکی باتیں کرنے والا نہیں)۔
والرفيقان: النبي ﷺ وأبو بكر.
📝 نوٹ / توضیح: "الرفیقان": نبی کریم ﷺ اور ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ۔
وزَوَى: قبض ومنع.
📝 نوٹ / توضیح: "زویٰ": سمیٹ لیا، روک لیا۔
والسُّؤدد: السيادة.
📝 نوٹ / توضیح: "السؤدد": سرداری/بزرگی۔
والمرصد: موضع الرَّصد، وهم القوم الذين يحفظون الطرق، وهو انتظار الشيء وارتقابه.
📝 نوٹ / توضیح: "المرصد": گھات لگانے کی جگہ، یا وہ لوگ جو راستوں کی نگرانی کرتے ہیں؛ کسی چیز کا انتظار اور نگرانی کرنا۔
والصريح: اللبن الخالص.
📝 نوٹ / توضیح: "الصریح": خالص دودھ۔
والضَّرَّة: أصل الضَّرْع الذي لا يخلو من اللبن.
📝 نوٹ / توضیح: "الضرّۃ": تھن کی جڑ جو دودھ سے خالی نہیں ہوتی۔
والمزيد: الذي عَلاهُ الزَّبَد.
📝 نوٹ / توضیح: "المزید": وہ (دودھ) جس کے اوپر جھاگ ہو۔
وغادرها رهنًا لديها، أي: تركها محبوسة لديها لمن يحلبها، كالرهن عند المرتهن.
📝 نوٹ / توضیح: "غادرھا رھنا لدیھا": اسے ان کے پاس رہن (گروی) کے طور پر چھوڑ دیا تاکہ جو چاہے اسے دوہ لے، جیسے رہن مرہون کے پاس ہوتا ہے۔
وشبَّبَ، أي: ابتدأ في جواب الهاتف. وهو من تشبيب الكتب، أي: ابتداؤها والأخذ في جوابها.
📝 نوٹ / توضیح: "شبّب": یعنی غیبی آواز دینے والے (ہاتف) کے جواب میں شعر کہنا شروع کیا۔ یہ "تشبیب الکتب" سے ہے، یعنی کتاب کی ابتدا کرنا یا جواب کا آغاز کرنا۔
والسُّرى: سير الليل
📝 نوٹ / توضیح: "السُّری": رات کا سفر۔
والاغتداء: سير الغُدْوة.
📝 نوٹ / توضیح: "الاغتداء": صبح کے وقت کا سفر۔
(1) أي: يرويهم بعض الرّيّ، كما في "النهاية" لابن الأثير، قال: والرواية المشهورة فيه بالباء، يعني: يربض كما أُعجم في (ز).
📝 نوٹ / توضیح: (1) "یرمض" کا مطلب ہے انہیں کچھ سیراب کرتا ہے، جیسا کہ ابن اثیر نے "النھایہ" میں کہا۔ انہوں نے فرمایا: اس میں مشہور روایت "باء" کے ساتھ ہے، یعنی "یربض" (سیرابی سے بھاری کر دینا) جیسا کہ نسخہ (ز) میں نقطہ لگا کر واضح کیا گیا ہے۔
(1) تحرّف في أصولنا الخطية إلى: تساوكهن. بزيادة الهاء، ولا معنى للكلمة بزيادتها، وإنما هي تَسَاوَكُنَ بمعنى: يمشين مشيًا ضعيفًا، والتساوُك: التمايُل من الضعف.
📝 نوٹ / توضیح: (1) ہمارے قلمی نسخوں میں یہ لفظ تحریف ہو کر "تساوکھن" (ہاء کے اضافے کے ساتھ) ہوگیا ہے، جس کا کوئی معنی نہیں بنتا۔ درست لفظ "تساوکن" ہے جس کا مطلب ہے: وہ کمزوری سے چلتی ہیں (التساوک: کمزوری سے لڑکھڑانا)۔
(1) في أصولنا الخطية: أبا بكر، بدل: بني كعب، وهو خطأ نشأ عن انتقال النظر إلى البيت الذي قبله، وبنو كعب هم أحد خُزاعة، وهو كعب بن عمرو بن ربيعة قبيل أم معبد.
📝 نوٹ / توضیح: (1) ہمارے قلمی نسخوں میں "بنی کعب" کی جگہ "ابا بکر" لکھا ہے، یہ غلطی نظر کے پچھلے شعر کی طرف منتقل ہونے سے پیدا ہوئی ہے۔ بنو کعب قبیلہ خزاعہ کی ایک شاخ ہے (کعب بن عمرو بن ربیعہ)، جو ام معبد کا قبیلہ ہے۔
(2) أصل حديث أم معبد هذا حسن إن شاء الله بتعدد طرقه، وقد حسنه الحافظ العلائي في "إثارة الفوائد" 2/ 717، ومن قبله قال ابن عبد البر في "الدرر في اختصار المغازي والسير" ص 83: مشهور عن الثقات، وقال ابن كثير في "البداية والنهاية" 4/ 472: قصة أم معبد مشهورة مروية من طرق يشُدُّ بعضها بعضًا.
⚖️ درجۂ حدیث: (2) ام معبد کی اس حدیث کی اصل متعدد طرق کی بنا پر ان شاء اللہ حسن ہے۔ حافظ العلائی نے "اثارۃ الفوائد" (2/ 717) میں اسے حسن کہا ہے۔ اس سے قبل ابن عبدالبر نے "الدرر فی اختصار المغازی" (ص 83) میں فرمایا: "یہ ثقہ رواۃ سے مشہور ہے"۔ اور ابن کثیر نے "البدایہ والنہایہ" (4/ 472) میں فرمایا: "ام معبد کا قصہ مشہور ہے اور ایسے طرق سے مروی ہے جو ایک دوسرے کو تقویت دیتے ہیں۔"
قلنا: حزام بن هشام وأبوه لا بأس بهما، وقد اختلف في صحبة هشام، والصحيح أنه تابعي، واسم جده خالد وليس خويلدًا كما سُمِّي هنا في رواية المصنف، فقد سمَّى جده خالدًا كل من ترجم لحبيش في الصحابة، وكذلك وقع مسمى في رواية غير المصنف، والصحبة لحبيش بن خالد، وقد نَصَّ على ذكره في إسناد هذا الخبر غير واحد ممّن رواه عن حزام بن هشام، ولهذا ذكر البغوي والطبراني وابن منده وأبو نُعيم وغيرهم ممن ألف في الصحابة هذا الخبر في ترجمة حبيش.
⚖️ درجۂ حدیث: ہم کہتے ہیں: حزام بن ہشام اور ان کے والد (ہشام) میں کوئی حرج نہیں (لا بأس بہما)۔ ہشام کی صحابیت میں اختلاف ہے، صحیح یہ ہے کہ وہ تابعی ہیں۔ ان کے دادا کا نام "خالد" ہے نہ کہ "خویلد" جیسا کہ یہاں مصنف کی روایت میں آیا ہے۔ کیونکہ جن لوگوں نے حبیش کا ترجمہ صحابہ میں کیا ہے انہوں نے ان کے دادا کا نام خالد ہی لکھا ہے، اور مصنف کے علاوہ دیگر کی روایات میں بھی یہی نام ہے۔ صحابیت کا شرف "حبیش بن خالد" کو حاصل ہے، اور حزام بن ہشام سے روایت کرنے والے کئی راویوں نے سند میں ان کا ذکر صراحت سے کیا ہے؛ اسی لیے بغوی، طبرانی، ابن مندہ، ابو نعیم وغیرہ نے (جنہوں نے صحابہ پر کتابیں لکھیں) اس خبر کو حبیش کے ترجمے میں ذکر کیا ہے۔
وقد سمع هشام بن حبيش من عمته أم معبد أيضًا بعض قصتها مما لم يحدثه به أبوه حبيش كما نبه عليه أبو حاتم الرازي فيما نقله عنه ابنه في "الجرح والتعديل" في ترجمة حبيش بن خالد 3/ 299 - 300، فقال: روى حبيش بن خالد الخزاعي عن النبي ﷺ أول حديث الصفة حين أخرج النبي ﷺ من مكة، وباقي حديث الصفة عن أم معبد.
🧾 تفصیلِ روایت: ہشام بن حبیش نے اپنی پھوپھی "ام معبد" سے بھی ان کے قصے کا کچھ حصہ سنا ہے جو ان کے والد حبیش نے بیان نہیں کیا تھا، جیسا کہ ابو حاتم الرازی نے تنبیہ کی ہے (دیکھیں: الجرح والتعدیل از ابن ابی حاتم، حبیش بن خالد کا ترجمہ 3/ 299-300)۔ انہوں نے فرمایا: "حبیش بن خالد الخزاعی نے نبی کریم ﷺ سے حدیثِ صفت (حلیہ مبارک) کا ابتدائی حصہ روایت کیا جب آپ ﷺ مکہ سے نکلے، اور باقی حدیثِ صفت ام معبد سے روایت کی۔"
والحسين بن حميد بن الربيع فيه لين، لكنه لم ينفرد به، فقد توبع فيه.
⚖️ درجۂ حدیث: حسین بن حمید بن الربیع میں "لین" (کمزوری) ہے، لیکن وہ اس روایت میں منفرد نہیں ہیں بلکہ ان کی متابعت کی گئی ہے۔
وسليمان بن الحكم بن أيوب روى عنه غير واحدٍ منهم أبو حاتم الرازي، ولا يعرفُ بجرح، ثم هو متابع أيضًا، وأخوه أيوب بن الحكم روى عنه اثنان وذكره ابن حبان في "الثقات"، ولم ينفرد به، بل توبع، وسالم بن محمد الخزاعي لم نتبينه.
🔍 فنی نکتہ / علّت: سلیمان بن الحکم بن ایوب سے ایک سے زائد راویوں نے روایت کیا ہے جن میں ابو حاتم الرازی شامل ہیں، اور ان پر کوئی جرح معروف نہیں، نیز ان کی متابعت بھی موجود ہے۔ ان کے بھائی ایوب بن الحکم سے دو راویوں نے روایت کیا اور ابن حبان نے انہیں "الثقات" میں ذکر کیا، وہ بھی منفرد نہیں بلکہ ان کی متابعت کی گئی ہے۔ البتہ سالم بن محمد الخزاعی کے بارے میں ہمیں واضح معلومات نہیں ملیں۔
وأخرجه البيهقي في "دلائل النبوة" 11/ 281 عن أبي عبد الله الحاكم، بهذا الإسناد.
📖 حوالہ / مصدر: اسے بیہقی نے "دلائل النبوۃ" (11/ 281) میں ابو عبداللہ الحاکم سے اسی سند کے ساتھ روایت کیا ہے۔
وأخرجه أبو القاسم البغوي في "معجم الصحابة" (505) عن سليمان بن الحكم، به.
📖 حوالہ / مصدر: اسے ابوالقاسم البغوی نے "معجم الصحابہ" (505) میں سلیمان بن الحکم سے اسی سند کے ساتھ روایت کیا ہے۔
وأخرجه أبو القاسم اللالكائي في "أصول الاعتقاد" (1435) من طريق محمد بن هارون الروياني، والبيهقي في "دلائل النبوة" 1/ 277 من طريق عبد الواحد بن يوسف بن أيوب بن الحكم الخزاعي، كلاهما عن سليمان بن الحكم، به. لكن عبد الواحد قال في روايته: عن حزام بن هشام، عن أبيه هشام، عن جده حبيش بن خالد فنصَّ على ذكر جده في الإسناد.
📖 حوالہ / مصدر: اسے ابوالقاسم اللالکائی نے "اصول الاعتقاد" (1435) میں محمد بن ہارون الرویانی کے طریق سے؛ اور بیہقی نے "دلائل النبوۃ" (1/ 277) میں عبدالواحد بن یوسف بن ایوب بن الحکم الخزاعی کے طریق سے روایت کیا ہے۔ یہ دونوں سلیمان بن الحکم سے روایت کرتے ہیں۔ 🧾 تفصیلِ روایت: لیکن عبدالواحد نے اپنی روایت میں کہا: "عن حزام بن ہشام عن ابیہ ہشام عن جدہ حبیش بن خالد"، یعنی انہوں نے سند میں دادا (حبیش) کے نام کی صراحت کی ہے۔
وأخرجه الطبري في "ذيل المذيل" كما في "منتخبه" لعُريب بن سعد القرطبي، 11/ 577، وأبو بكر الشافعي في "الغيلانيات" (1140)، واللالكائي في "أصول الاعتقاد" (1436) و (1437)، والبيهقي في "الدلائل" 1/ 277، وابن عبد البر في "الاستيعاب" (3573)، وأبو القاسم الأصبهاني في "دلائل النبوة" (42)، وابن عساكر في "تاريخ دمشق" 3/ 323، وابن الأثير في "أسد الغابة" 1/ 451 من طريق محمد بن سليمان بن الحكم بن أيوب الخزاعي، عن عمه أيوب بن الحكم، به. وذكر في روايته حبيشًا كذلك.
📖 حوالہ / مصدر: اسے طبری نے "ذیل المذیل" میں (جیسا کہ عریب بن سعد القرطبی کے منتخب 11/ 577 میں ہے)؛ ابوبکر الشافعی نے "الغیلانیات" (1140) میں؛ لالکائی نے "اصول الاعتقاد" (1436 اور 1437) میں؛ بیہقی نے "الدلائل" (1/ 277) میں؛ ابن عبدالبر نے "الاستیعاب" (3573) میں؛ ابوالقاسم الاصبہانی نے "دلائل النبوۃ" (42) میں؛ ابن عساکر نے "تاریخ دمشق" (3/ 323) میں؛ اور ابن الاثیر نے "اسد الغابہ" (1/ 451) میں محمد بن سلیمان بن الحکم بن ایوب الخزاعی عن عمہ ایوب بن الحکم کے طریق سے اسی سند کے ساتھ روایت کیا ہے۔ 🧾 تفصیلِ روایت: انہوں نے بھی اپنی روایت میں "حبیش" کا ذکر کیا ہے۔
وأخرجه الحكيم الترمذي في "نوادر الأصول" مختصرًا (253)، وأبو نعيم في "معرفة الصحابة" (2265) من طريق يحيى بن سليمان بن نضلة الخزاعي، عن حزام بن هشام، به. بذكر حبيش بن خالد، ويحيى بن سليمان هذا قال عنه ابن عدي: روى عن مالك وأهل المدينة أحاديث عامتها مستقيمة. وسيأتي عند المصنف برقم (4322) من طريق مكرم بن محرز بن مهدي الخزاعي، عن أبيه، عن حزام بن هشام بذكر حبيش أيضًا.
📖 حوالہ / مصدر: اسے حکیم ترمذی نے "نوادر الاصول" (253) میں مختصراً؛ اور ابو نعیم نے "معرفۃ الصحابہ" (2265) میں یحییٰ بن سلیمان بن نضلہ الخزاعی عن حزام بن ہشام کے طریق سے "حبیش بن خالد" کے ذکر کے ساتھ روایت کیا ہے۔ 🔍 فنی نکتہ / علّت: یحییٰ بن سلیمان کے بارے میں ابن عدی نے فرمایا: "انہوں نے مالک اور اہل مدینہ سے روایات لی ہیں اور ان کی عام روایات درست (مستقیم) ہیں۔" یہ روایت مصنف کے ہاں آگے (رقم 4322) پر مکرم بن محرز بن مہدی الخزاعی عن ابیہ عن حزام بن ہشام کے طریق سے حبیش کے ذکر کے ساتھ آئے گی۔
وأخرج ابن سعد في "الطبقات الكبرى" 10/ 273 عن محمد بن عمر الواقدي، والبخاري في "تاريخه الكبير" 3/ 116، وأبو نعيم في "معرفة الصحابة" (8041) من طريق أبي النضر هاشم بن القاسم، والطبراني في "الكبير" 24 / (863)، وأبو نعيم في "المعرفة" (7771)، وابن عساكر في "تاريخ دمشق" 12/ 358 من طريق عبد الله بن إدريس، ثلاثتهم عن حزام بن هشام، عن أبيه، عن أم معبد، قالت: طلع علينا أربعة على راحلتين، فنزلوا بي، فجئت رسول الله ﷺ بشاة أريد أن أذبحها، فإذا هي ذاتُ دَرٍّ، فأدنيتها منه، فلمس ضرعها، فقال: "لا تذبحيها" فأرسلتها، قالت: وجئتُ بأخرى فذبحتها، فطحنتُ لهم فأكل هو وأصحابه، قلت: ومن معه؟ قالت: ابن أبي قحافة ومولى ابن أبي قحافة وابن أُريقط وهو على شركه، قالت: فتغدى رسول الله منها وأصحابه وسُفرتهم منها ما وسعت سُفْرتهم، وبقي عندنا لحمها أو أكثره، فبقيت الشاة التي لمس رسول الله ﷺ ضَرعها عندنا حتى كان زمان الرمادة زمان عمر بن الخطاب - وهي سنة ثماني عشرة من الهجرة - قالت: وكنا نحلبها صبوحًا وغبوقًا وما في الأرض قليل ولا كثير. هذا لفظ الواقدي، وهو أتم من رواية الآخرين.
📖 حوالہ / مصدر: اسے ابن سعد نے "الطبقات الکبریٰ" (10/ 273) میں محمد بن عمر الواقدی سے؛ بخاری نے "التاریخ الکبیر" (3/ 116) اور ابو نعیم نے "معرفۃ الصحابہ" (8041) میں ابو النضر ہاشم بن القاسم کے طریق سے؛ اور طبرانی نے "الکبیر" (24/ 863)، ابو نعیم نے "المعرفۃ" (7771) اور ابن عساکر نے "تاریخ دمشق" (12/ 358) میں عبداللہ بن ادریس کے طریق سے روایت کیا ہے۔ یہ تینوں حزام بن ہشام عن ابیہ عن ام معبد سے روایت کرتے ہیں۔ 🧾 تفصیلِ روایت: انہوں نے فرمایا: "چار افراد دو سواریوں پر ہمارے پاس آئے اور میرے ہاں ٹھہرے، میں رسول اللہ ﷺ کے پاس ایک بکری لائی تاکہ اسے ذبح کروں، دیکھا تو وہ دودھ دینے والی تھی، میں اسے آپ ﷺ کے قریب لائی تو آپ نے اس کے تھن کو چھوا اور فرمایا: 'اسے ذبح نہ کرو'، میں نے اسے چھوڑ دیا۔ پھر میں ایک دوسری بکری لائی اور اسے ذبح کیا، میں نے ان کے لیے آٹا پیسا تو آپ ﷺ اور آپ کے اصحاب نے کھایا۔ راوی نے پوچھا: آپ کے ساتھ کون تھے؟ ام معبد نے کہا: ابن ابی قحافہ (ابوبکر)، ان کا غلام (عامر بن فہیرہ)، اور ابن اریقط (رہبر) جو کہ اپنے شرک پر تھا۔ ام معبد کہتی ہیں: رسول اللہ ﷺ اور ان کے اصحاب نے اس سے دوپہر کا کھانا کھایا اور اپنے سفر کا توشہ بھی اس میں سے لیا جتنا لے سکتے تھے، اور اس کا گوشت یا اکثر حصہ ہمارے پاس ہی بچ گیا۔ وہ بکری جس کے تھن کو رسول اللہ ﷺ نے چھوا تھا، ہمارے پاس عام الرمادہ (قحط کا سال) یعنی حضرت عمر کے زمانے تک رہی (جو ہجرت کا اٹھارواں سال تھا)۔ ہم اسے صبح و شام دوہتے تھے جبکہ زمین میں (قحط کی وجہ سے) نہ تھوڑا چارہ تھا نہ زیادہ۔" (یہ واقدی کے الفاظ ہیں جو دوسروں کی روایت سے زیادہ مکمل ہیں)۔
وأخرجه ابن أبي عاصم في "الآحاد والمثاني" (3485) و (3486)، ومن طريقه أبو نعيم في "معرفة الصحابة" (7769) من طريق عبد الرحمن بن محمد بن شُعبة، عن حزام بن هشام، عن أبيه، عن جده، عن أم معبد. وجمع بين روايتي حبيش بن خالد وأخته أم معبد في سياق واحد، وجعله من رواية حبيش عن أم معبد، وقد أورد ابن عبد البر في "الاستيعاب" (3405) هذا الخبر من هذا الطريق نقلًا عن أبي جعفر العقيلي، لكنه سمَّى الراوي عن حزام عبد الرحمن بن محمد بن سعيد اليمامي الحنفي، ولا يُعرف عبد الرحمن هذا، وقد وهم في جمعه بين سياق رواية حبيش مع سياق أخته أم معبد وجعله كله عن أم معبد، وانفرد بذلك.
📖 حوالہ / مصدر: اسے ابن ابی عاصم نے "الآحاد والمثانی" (3485 اور 3486) میں، اور انہی کے طریق سے ابو نعیم نے "معرفۃ الصحابہ" (7769) میں عبدالرحمٰن بن محمد بن شعبہ عن حزام بن ہشام عن ابیہ عن جدہ عن ام معبد کے طریق سے روایت کیا ہے۔ 🔍 فنی نکتہ / علّت: انہوں نے حبیش بن خالد اور ان کی بہن ام معبد دونوں کی روایات کو ایک ہی سیاق میں جمع کر دیا ہے اور اسے حبیش عن ام معبد کی روایت بنا دیا ہے۔ ابن عبدالبر نے "الاستیعاب" (3405) میں ابو جعفر العقیلی سے نقل کرتے ہوئے اسے اسی طریق سے ذکر کیا ہے، لیکن انہوں نے حزام سے روایت کرنے والے راوی کا نام "عبدالرحمٰن بن محمد بن سعید الیمامی الحنفی" لکھا ہے، حالانکہ یہ عبدالرحمٰن مجہول ہے (لا یعرف)۔ اس راوی کو حبیش کی روایت اور ام معبد کی روایت کے سیاق کو جمع کرنے میں وہم ہوا ہے اور اس نے ساری روایت ام معبد سے منسوب کر دی ہے، اور وہ اس میں منفرد ہے۔
وسيأتي بعده من طريق الحُر بن الصيَّاح النخعي عن أبي معبد، لكن الراوي عنه عبد الملك بن وهب المذحجي لا يُعرف إلا في هذا الخبر، على أنَّ أبا حاتم الرازي احتمل أن يكون هو سليمان بن عمرو بن عبد الله بن وهب النخعي المتهم بوضع الحديث، يعني أنَّ الراوي دلس في اسمه وهو ما يُعرف بتدليس الشيوخ. على أنَّ فيه إرسالًا كما سيأتي بيانه.
🧾 تفصیلِ روایت: یہ روایت اس کے بعد الحر بن الصیاح النخعی عن ابی معبد کے طریق سے آئے گی، لیکن ان سے روایت کرنے والا راوی "عبدالملک بن وہب المذحجی" سوائے اس خبر کے کہیں معروف نہیں ہے۔ 🔍 فنی نکتہ / علّت: ابو حاتم الرازی نے احتمال ظاہر کیا ہے کہ یہ شاید "سلیمان بن عمرو بن عبداللہ بن وہب النخعی" ہے جو وضعِ حدیث (حدیث گھڑنے) سے متہم ہے؛ یعنی راوی نے اس کے نام میں تدلیس کی ہے جسے "تدلیسِ شیوخ" کہا جاتا ہے۔ علاوہ ازیں اس میں "ارسال" بھی ہے جیسا کہ آگے بیان ہوگا۔
وأخرج البيهقي في د "لائل النبوة" 2/ 492، وابن عساكر في "تاريخ دمشق" 40/ 378 - 379 قصة بنحو قصة أم معبد، من طريق يحيى بن زكريا بن أبي زائدة، عن محمد بن عبد الرحمن بن أبي ليلي - وهو سيئ الحفظ - عن عبد الرحمن بن الأصبهاني، عن عبد الرحمن بن أبي ليلى، عن أبي بكر الصديق، فذكر بعض ما ورد في حديث حبيش وحديث أم معبد، وقال البيهقي: هذه القصة وإن كانت تنقص عما رُوِّينا في قصة أم معبد ويزيد في بعضها، فهي قريبة منها، ويشبه أن يكونا واحدة، وقد ذكر محمد بن إسحاق بن يسار من قصة أم معبد شيئًا يدل على أنها وهذه واحدة، والله أعلم.
📖 حوالہ / مصدر: بیہقی نے "دلائل النبوۃ" (2/ 492) اور ابن عساکر نے "تاریخ دمشق" (40/ 378-379) میں ام معبد کے قصے کی مثل ایک قصہ یحییٰ بن زکریا بن ابی زائدہ عن محمد بن عبدالرحمٰن بن ابی لیلیٰ (یہ سییٔ الحفظ/خراب حافظے والے ہیں) عن عبدالرحمٰن بن الاصبہانی عن عبدالرحمٰن بن ابی لیلیٰ عن ابی بکر الصدیق کے طریق سے روایت کیا ہے۔ 🧾 تفصیلِ روایت: انہوں نے حبیش اور ام معبد کی حدیث کے بعض اجزاء ذکر کیے۔ بیہقی نے فرمایا: "یہ قصہ اگرچہ ام معبد کے قصے سے کچھ کم ہے اور بعض چیزوں میں زائد ہے، لیکن یہ اس کے قریب ہے اور لگتا ہے کہ یہ ایک ہی واقعہ ہے۔ محمد بن اسحاق نے ام معبد کے قصے میں کچھ ایسی بات ذکر کی ہے جو اس بات پر دلالت کرتی ہے کہ یہ دونوں ایک ہی ہیں، واللہ اعلم۔"
قوله: بَرْزة، أي: عفيفة رزينة يتحدث إليها الرجال فتبرز لهم وهي كهلة قد خلا بها السنُّ، فخرجت عن حد المحجوبات.
📝 نوٹ / توضیح: ان کا قول "برزۃ": اس کا مطلب ہے پاکدامن اور سنجیدہ خاتون جن سے مرد گفتگو کرتے ہیں اور وہ ان کے سامنے آتی ہیں (پردے سے باہر)، یہ ادھیڑ عمر (کہلہ) ہوتی ہیں جن کی عمر ڈھل چکی ہو اور وہ (پردہ نشین) دوشیزاؤں کی حد سے نکل چکی ہوں۔
وقوله: جَلْدة، أي: قوية صُلْبة.
📝 نوٹ / توضیح: ان کا قول "جلدۃ": یعنی مضبوط اور سخت جان۔
والمُرمِلُ: الذي نَفِدَ زاده فرقت حاله.
📝 نوٹ / توضیح: "المُرمل": وہ شخص جس کا زادِ راہ ختم ہوگیا ہو اور اس کی حالت پتلی ہوگئی ہو۔
والمُسنِتُ: الداخل في السنة، وهي الجَدْبُ.
📝 نوٹ / توضیح: "المُسنت": قحط سالی (سنہ) میں داخل ہونے والا، یعنی خشک سالی کا مارا۔
والحَلَبُ: مصدر حلبته.
📝 نوٹ / توضیح: "الحَلَب": یہ (دودھ) دوہنے کا مصدر ہے۔
وتفاجَّت، أي: وسَّعت ما بين رجليها، وتفعله الشاة عند الحلب والبول.
📝 نوٹ / توضیح: "تفاجّت": یعنی اس (بکری) نے اپنی ٹانگیں پھیلا دیں (فاصلہ پیدا کیا)، بکری دودھ دوہتے وقت یا پیشاب کرتے وقت ایسا کرتی ہے۔