المستدرك على الصحيحين سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم الرسالہ
ترقيم الشرکۃ
عربی لفظ
اردو لفظ
11. اسْتِقْبَالُ الْأَنْصَارِ لِرَسُولِ اللَّهِ وَأَصْحَابِهِ وَقْتَ قُدُومِ الْمَدِينَةِ
مدینہ پہنچنے پر انصار کا رسول اللہ ﷺ اور آپ کے ساتھیوں کا استقبال کرنا
حدیث نمبر: 4323
حدثنا أبو عبد الله محمد بن أحمد بن بُطَّة الأصبهاني، حدثنا الحسن بن الجهم، حدثنا موسى بن المُساوِر، حدثنا عبد الله بن مُعاذ الصَّنْعاني، حدثنا معمر بن راشد، عن الزُّهْري، قال: أخبرني عُروة بن الزبير، أنه سمع الزبير يذكر: أنه لقي الركب من المسلمين كانوا تجارًا بالشام قافِلين من مكة، عارَضُوا رسول الله ﷺ وأبا بكر بثياب بياضٍ حين سمعوا بخروجهم، فلما سمع المسلمون بالمدينة بمَخْرَج رسول الله ﷺ كانوا يَغْدُون كلَّ غَداةٍ إلى الحَرَّة، فينتظرونه حتى يُؤذيهم حَرَّ الظَّهيرة، فانقلَبُوا يومًا بعدما أطالوا انتظاره، فلما أووا إلى بيوتهم أوفى رجلٌ من يهود أُطْمًا من آطامهم لينظُرَ إليه، فبصر برسول الله ﷺ وأصحابه مُبيِّضين يَزُول بهم السَّرابُ، فلم يملِكِ اليهودي أن قال بأعلى صوته: يا معشر العرب، هذا صاحبكم الذي تنتظرون، فثار المسلمون إلى السلاح، فتلقوا رسول الله ﷺ حتى تلقوه بظهر الحرّة (1) .
هذا حديث صحيح على شرط الشيخين، ولم يخرجاه.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 4277 - على شرط البخاري ومسلم
هذا حديث صحيح على شرط الشيخين، ولم يخرجاه.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 4277 - على شرط البخاري ومسلم
سیدنا زبیر رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں: ان کی ملاقات مسلمانوں کی ایک جماعت سے ہوئی کہ شام میں تجارت کیا کرتے تھے، جب ان کو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی ہجرت کا پتہ چلا تو یہ لوگ مکہ سے آنے والوں سے ملتے (اور پوچھتے کہ) انہوں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اور سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ کو سفید کپڑوں میں دیکھا ہے؟ اور جب مدینہ منورہ میں اطلاع پہنچی کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم روانہ ہو چکے ہیں تو یہ لوگ روزانہ صبح سویرے باہر ٹیلوں پر آ کر حضور صلی اللہ علیہ وسلم کا انتظار کرنے لگ جاتے، حالانکہ دوپہر کی گرمی بہت شدید ہوتی تھی، اس کے باوجود طویل انتظار کرتے، پھر وہ لوگ اپنے گھروں کو لوٹ جاتے، ایک یہودی بھی اپنے قلعہ نما گھر سے جھانک کر آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی راہ تکا کرتا تھا، ایک دن اس کی نظر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم پر اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے اصحاب پر پڑ گئی، ان کی سفیدی سے سراب چھٹ رہا تھا، اس یہودی سے رہا نہ گیا اور بلند آواز سے بولا: اے اہل عرب! یہ رہا تمہارا وہ ساتھی جس کا تم آج تک انتظار کرتے رہے ہو، تو مسلمانوں نے اپنے ہتھیار سنبھال لیے اور ” ظہرالحرہ “ نامی ایک ٹیلے پر پہنچ کر آپ صلی اللہ علیہ وسلم کا والہانہ استقبال کیا۔ ٭٭ یہ حدیث امام بخاری رحمۃ اللہ علیہ اور امام مسلم رحمۃ اللہ علیہ کے معیار کے مطابق صحیح ہے لیکن شیخین رحمۃ اللہ علیہما نے اس کو نقل نہیں کیا۔ [المستدرك على الصحيحين/كِتَابُ الْهِجْرَةِ/حدیث: 4323]
حدیث نمبر: 4324
حدثنا أبو بكر بن إسحاق، أخبرنا بشر بن موسى، حدثنا الحميدي، حدثنا سفيان، حدثنا زيد بن أسلم، عن عبد الله بن عمر، قال: دَخَل رسول الله ﷺ مسجد بني عمرو بن عوف، وهو مسجد قُباءٍ، يصلّي فيه، فدخل عليه رجالٌ من الأنصار يُسلِّمون عليه، قال ابن عمر: ودخل معهم صهيبٌ، فسألته: كيف كان رسول الله ﷺ يَصنَع إذا سُلِّم عليه وهو في الصلاة، قال: كان يُشير بيده (1) .
هذا حديث صحيح على شرط الشيخين، ولم يخرجاه.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 4278 - على شرط البخاري ومسلم
هذا حديث صحيح على شرط الشيخين، ولم يخرجاه.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 4278 - على شرط البخاري ومسلم
سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم بنی عمرو بن عوف کی مسجد یعنی مسجد قباء میں تشریف لائے۔ تو مسلمان حضور صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہو کر آپ کو سلام کرتے۔ سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں: صہیب بھی ان کے ساتھ بارگاہ عالی میں حاضر ہوئے تھے۔ میں نے ان سے پوچھا: جب حضور صلی اللہ علیہ وسلم کو سلام کیا جاتا اور آپ اس وقت نماز میں ہوتے تو آپ علیہ السلام کیا کیا کرتے تھے؟ انہوں نے کہا: آپ صلی اللہ علیہ وسلم ہاتھ سے اشارہ کر دیا کرتے تھے۔ ٭٭ یہ حدیث امام بخاری رحمۃ اللہ علیہ اور امام مسلم رحمۃ اللہ علیہ کے معیار کے مطابق صحیح ہے لیکن شیخین رحمۃ اللہ علیہما نے اس کو نقل نہیں کیا۔ [المستدرك على الصحيحين/كِتَابُ الْهِجْرَةِ/حدیث: 4324]