🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

المستدرك على الصحيحين سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم الرسالہ
ترقيم الشرکۃ
عربی لفظ
اردو لفظ
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

ترقیم الرساله سے تلاش کل احادیث (9018)
حدیث نمبر لکھیں:
ترقیم الشركة سے تلاش کل احادیث (8909)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:

19. وَصْفُ أَهْلِ الصُّفَّةِ مُفَصَّلًا
اہلِ صفہ کی تفصیلی کیفیت اور اوصاف
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 4340
أخبرنا أبو عثمان عمرو الله الزاهد حقًّا ابن السماك ببغداد، حدثنا يحيى بن جعفر بن الزِّبْرِقان، حدثنا إبراهيم بن محمد الشافعي، حدثنا الوليد بن مسلم وضَمْرة بن ربيعة، عن حماد بن أبي حميد، عن مكحول، عن عياض بن سليمان وكانت له صحبة قال: قال رسول الله ﷺ:"خيار أمتي فيما أنبأني الملأُ الأعلى قومٌ يضحكون جَهْرًا في سَعَة رحمة ربهم ﷿، ويبكون سِرًا من خوف شدة عذابِ ربِّهم ﷿، يَذكُرون ربَّهم بالغَدَاة والعَشي في البيوت الطيبة المساجد، ويَدعُونه بألسنتهم رَغَبًا ورَهَبًا، ويسألونه بأيديهم خَفْضًا ورَفْعًا، ويُقبلون بقلوبهم عودًا وبدءًا، فمُؤنَتُهم على الناس خفيفةٌ، وعلى أنفسهم ثَقِيلةٌ، يَدِبُّون في الأرض حُفاةً على أقدامهم كدبيب النمل بلا مَرَحٍ ولا بَذَخٍ، يمشون بالسكينة، ويتقربون بالوسيلة، ويقرؤون القرآن، ويُقرِّبون القُرْبان، ويلبسون الخُلْقان، عليهم من الله تعالى شهودٌ حاضرةٌ وعين حافظةٌ، يتوسَّمون العِبادَ، ويتفكرون في البلاد، أرواحهم في الدنيا، وقلوبهم في الآخرة، ليس لهم همٌّ إلَّا أمامهم، أعدُّوا الجهاز لِقُبُورهم، والجواز لسبيلهم، والاستعداد لِمقامهم"، ثم تلا رسول الله ﷺ: ﴿ذَلِكَ لِمَنْ خَافَ مَقَامِي وَخَافَ وَعِيدِ﴾ [إبراهيم:14] (1) . قال الحاكم: فمن وُفِّق لاستعمالِ هذا الوصفِ من مُتصوِّفَة زماننا فطُوبَاهُ، فهو المُقفِّي لَهَدْي مَن تَقدَّمَه، والصوفية: طائفة من طوائف المسلمين، فمنهم أخيارٌ، ومنهم أشرارٌ، لا كما يتوهمُه رعاعُ الناس وعوامُّهم، ولو علِموا محلَّ الطبقة الأولى منهم من الإسلام وقُرْبَهم من رسول الله ﷺ، لأمْسَكُوا عن كثير من الوقيعة فيهم، فأما أهل الصُّفّة على عهد رسول الله ﷺ، فإن أساميهم في الأخبار المنقولة إلينا متفرّقةٌ، ولو ذكرتُ كل حديث منها بإسناده وسياقَةِ مَتْنِه لَطَال به الكتابُ، ولم يَجئ بعض أسانيدها على شرطي في هذا الكتاب، فذكرتُ الأسامي من تلك الأخبار على سبيل الاختصار، وهم: أبو عبد الله سلمان الفارسي، وأبو عبيدة عامر بن عبد الله بن الجراح، وأبو اليقظان عمار بن ياسر، وعبد الله بن مسعود الهُذَلي، والمقداد بن عمرو بن ثعلبة - وقد كان الأسود بن عبد يَغُوثَ تبنّاه فقيل: المقداد بن الأسود الكندي - وخباب بن الأرت، وبلال بن رباح، وصهيب بن سنان، وعتبة بن غزوان، وزيد بن الخطاب أخو عمر، وأبو كبشة مولى رسول الله ﷺ، وأبو مَرْثَد كَنّاز بن حُصَين الغنوي (1) ، وسالمٌ مولى أبي حذيفة بن عتبة بن ربيعة، ومِسْطَح بن أُثاثة بن عباد بن عبد المطلب، وعُكاشة بن مِحْصَن الأسدي، ومسعود بن الربيع القاري، وعُمير بن عوف مولى سهيل بن عمرو، وصفوان بن بيضاء، وأبو عَبْس بن جبر، وعُوَيم بن ساعِدة، وأبو لبابة بن عبد المنذر، وسالم بن عُمير بن ثابت - وكان أحد البكائين من الصحابة، وفيه نزلت: ﴿وَأَعْيُنُهُمْ تَفِيضُ مِنَ الدَّمْعِ حَزَنًا﴾ [التوبة: 92] - وأبو اليسر كعب بن عمرو، وخُبَيب بن يساف، وعبد الله بن أُنَيس، وأبو ذَرّ جُندب بن جنادة الغفاري، وعتبة بن مسعود الهُذَلي. وكان عبد الله بن عمر بن الخطاب ﵄ ممن يأوي إليهم، ويَبيتُ معهم في المسجد، وكان حذيفة بن اليمان أيضًا ممن يأوي إليهم ويبيت معهم. وأبو الدَّرْداء عُوَيْمِر بن عامر وعبد الله بن بدر الجُهَني، والحجاج بن عَمرو الأسلمي، وأبو هريرة الدَّوْسِي، وثَوبان مولى رسول الله ﷺ، ومعاذ بن الحارث القاري، والسائب بن خلاد، وثابت بن وَديعة، ﵃ أجمعين. قال الحاكم: عَلَّقتُ هذه الأسامي من أخبار كثيرة متفرقةٍ فيها ذكر أهل الصفة والنازلين معهم المسجد، فمنهم من تَقدَّمت هجرته مثل عمار بن ياسر، وسلمان، وبلال، وصهيب، والمقداد، وغيرهم، ومنهم من تأخّرت هجرته فسكن المسجد في جملة أهل الصُّفّة، ومنهم من أسلم عام الفتح، ثم وَرَدَ معه وقعد في أهل الصُّفّة إذ لم يأو بالمدينة إلى أهل ولا مال ولا يُعَدُّ في المهاجرين لقوله ﷺ:"لا هجرة بعد الفتح، ولكن جهادٌ ونِيَّةٌ" (1) ، وإنَّ مما أرجو من فضل الله ﷿ أَنَّ كُلَّ من جَرى على سُنّتِهم في التوكُّل والفَقْر إلى يوم القيامة أنه منهم، وممن يُحشر معهم، وأنَّ كل من أحبَّهم، وإن كان يرجعُ إلى دنيا وثروةٍ، فمرجوٌّ له ذلك أيضًا لقوله ﷺ:"من أحب قومًا حُشِرَ معهم" (2) .
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 4294 -
هذا حديث عجيب منكر
سیدنا عیاض بن سلیمان رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: فرشتوں نے جو مجھے بتایا ہے اس کے مطابق میری امت میں بہترین لوگ وہ ہیں جو لوگوں کے سامنے اللہ تعالیٰ کی رحمت کی وسعت پر خوش ہوتے ہیں اور تنہائی میں اپنے رب کے عذاب کی شدت کے خوف سے روتے ہیں، صح و شام پاکیزہ گھروں (یعنی) مساجد میں اللہ تعالیٰ کو یاد کرتے ہیں۔ اپنی زبانوں کے ساتھ رغبت اور خوف سے اس کو پکارتے ہیں، اٹھتے، بیٹھتے اس کی بارگاہ میں دست دعا دراز کرتے ہیں، ابتداء و انتہاء میں اپنے دلوں کے ساتھ اسی کی طرف متوجہ رہتے ہیں، وہ لوگوں پر بوجھ نہیں بنتے، بلکہ وہ اپنا بوجھ اپنے اوپر ہی ڈال کر رکھتے ہیں۔ زمین پر چھوٹی چھوٹی چیونٹیوں کی طرح عاجزی اور انکساری کے ساتھ ننگے پاؤں چلتے ہیں، اطمینان کے ساتھ چلتے ہیں، وسیلہ کے ساتھ اللہ تعالیٰ کا قرب تلاش کرتے ہیں، قرآن کریم کی تلاوت کرتے ہیں قربانی پیش کرتے ہیں، بوسیدہ کپڑے پہنتے ہیں، اللہ تعالیٰ کی طرف سے ان پر (ملائکہ) نگہبان حاضر رہتے ہیں اور وہ حفاظت کرنے والی نگاہوں میں ہوتے ہیں۔ وہ اپنی فراست سے بندوں کو پہچان لیتے ہیں۔ اور بلاد میں غور و فکر کرتے ہیں، ان کی ارواح دنیا میں ہوتی ہیں مگر ان کے دل آخرت (کی یاد) میں ہوتے ہیں۔ ان کی خواہش صرف یہ ہوتی ہے کہ اپنی قبروں کے لیے سامان تیار کر لیں، اپنے راستے کی تیاری کر لیں، اور اپنے آپ کو (اللہ تعالیٰ کی بارگاہ میں) کھڑے ہونے کے لیے تیار کر لیں۔ پھر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ آیت پڑھی۔ {ذَلِكَ لِمَنْ خَافَ مَقَامِي وَخَافَ وَعِيدِ} [إبراهيم: 14] یہ اس کے لیے ہے جو میرے حضور کھڑے ہونے سے ڈرے اور میں نے جو عذاب کا حکم سنایا ہے اس سے خوف کرے۔ ٭٭ امام حاکم کہتے ہیں: ہمارے زمانے کے جن متصوفہ (تصوف کے دعویداروں) کا ان اوصاف پر عمل ہے، ان کو خوشخبری ہو کیونکہ وہ گزشتہ (اہل صفہ) لوگوں کے حقیقی پیروکار ہیں اور صوفیاء مسلمانوں کی ایک جماعت کا نام ہے، ان میں اچھے بھی ہیں اور برے بھی، اور اصل بات وہ نہیں ہے جو عوام الناس سمجھتے ہیں۔ اگر پہلے طبقے کے اسلام اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی بارگاہ میں ان کے قرب کا لوگوں کو پتہ چل جائے تو ان کے متعلق عیب جوئی سے باز آ جائیں۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانے میں جو اہل صفہ تھے، ان کے اسمائے گرامی متعدد الگ الگ احادیث کے ذریعے پہنچے ہیں۔ اگر میں وہ تمام احادیث بیان کروں اور ان سب کے الگ الگ متن تحریر کروں تو یہ کتاب بہت طویل ہو جائے گی، مزید برآں یہ کہ ان میں سے بعض کی سند ہماری اس کتاب کے معیار کے مطابق نہیں ہے۔ چنانچہ ان تمام احادیث میں سے (اصحاب صفہ کے) نام مختصراً ذکر کر رہا ہوں:۔ سیدنا ابوعبداللہ فارسی رضی اللہ عنہ۔ سیدنا ابوعبیدہ عامر بن عبداللہ بن الجراح رضی اللہ عنہ۔ سیدنا ابوالیقظان عمار بن یاسر رضی اللہ عنہ۔ سیدنا عبداللہ بن مسعود الہذلی رضی اللہ عنہ۔ سیدنا مقداد بن عمرو بن ثعلبہ رضی اللہ عنہ (اسود بن عبد یغوث نے ان کو اپنا منہ بولا بیٹا بنایا تھا، اس وجہ سے ان کو مقداد بن الاسود الکندی بھی کہا جاتا ہے)۔ سیدنا خباب بن الارت رضی اللہ عنہ۔ سیدنا بلال بن رباح رضی اللہ عنہ۔ سیدنا صہیب بن سنان بن عتبہ بن غزوان رضی اللہ عنہ۔ سیدنا زید بن خطاب (آپ سیدنا عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ کے بھائی ہیں) رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے آزاد کردہ غلام سیدنا ابوکبشہ رضی اللہ عنہ۔ سیدنا ابومرثد کناز بن حصین العدوی رضی اللہ عنہ۔ سیدنا صفوان بن بیضاء رضی اللہ عنہ۔ سیدنا عبس بن جبر رضی اللہ عنہ۔ سیدنا ابوحذیفہ بن عتبہ بن ربیعہ کے آزاد کردہ غلام سیدنا سالم رضی اللہ عنہ۔ سیدنا مسطح بن اثاثہ بن عباد بن عبدالمطلب رضی اللہ عنہ۔ سیدنا عکاشہ بن محصن الاسدی رضی اللہ عنہ۔ سیدنا مسعود بن ربیع القاری رضی اللہ عنہ۔ سیدنا سہیل بن عمرو کے آزاد کردہ غلام سیدنا عمیر بن عوف رضی اللہ عنہ۔ سیدنا عویم بن ساعدہ رضی اللہ عنہ۔ سیدنا ابولبابہ بن عبدالمنذر رضی اللہ عنہ۔ سیدنا سالم بن عمیر بن ثابت (یہ آہ و بکا کرنے والے صحابہ میں سے تھے اور انہی کے متعلق یہ آیت نازل ہوئی تھی: وَ اَعْیُنُھُمْ تَفِیْضُ مِنَ الدَّمْعِ حَزَنًا (التوبۃ: 92) ان کی آنکھوں سے آنسو ابلتے ہوں اس غم سے کہ خرچ کا مقدور نہ پایا۔ (ترجمہ: کنزالایمان، امام احمد رضا) سیدنا ابوالبشر کعب بن عمرو رضی اللہ عنہ۔ سیدنا خبیب بن یساف رضی اللہ عنہ۔ سیدنا عبداللہ بن انیس رضی اللہ عنہ۔ سیدنا ابوذر جندب بن جنادہ الغفاری رضی اللہ عنہ۔ سیدنا عتبہ بن مسعود الہذلی رضی اللہ عنہ۔ سیدنا عبداللہ بن عمر بن خطاب رضی اللہ عنہما عموماً ان کے پاس رہتے اور رات بھی انہی کے پاس گزارتے تھے، یونہی سیدنا حذیفہ بن یمان رضی اللہ عنہ، سیدنا ابوالدرداء عویمر بن عامر رضی اللہ عنہ، سیدنا عبداللہ بن زید الجہنی رضی اللہ عنہ، سیدنا حجاج بن عمر اسلمی رضی اللہ عنہ، سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے آزاد کردہ غلام سیدنا ثوبان رضی اللہ عنہ، سیدنا معاذ بن حارث القاری رضی اللہ عنہ، سیدنا سائب بن خلاد رضی اللہ عنہ، ثابت بن ودیعہ رضی اللہ عنہ بھی ان کے پاس آ کر ٹھہرتے تھے اور رات بھی یہیں گزارا کرتے تھے۔ امام حاکم کہتے ہیں: میں نے یہ مذکورہ بالا اسماء گرامی متفق احادیث سے اکٹھے کیے ہیں جن میں اہل صفہ اور ان کے ہمراہ مسجد میں ٹھہرنے والوں کے نام موجود ہیں ان میں کچھ ایسے ہیں جنہوں نے پہلے ہجرت کی مثلاً سیدنا عمار بن یاسر رضی اللہ عنہ، سیدنا سلمان رضی اللہ عنہ، سیدنا بلال رضی اللہ عنہ، سیدنا صہیب رضی اللہ عنہ، سیدنا مقداد وغیرہم رضی اللہ عنہم ہیں۔ اور ان میں کچھ ایسے بھی ہیں جنہوں نے بعد میں ہجرت کی اور وہ اہل صفحہ کے ہمراہ مسجد میں ٹھہرے۔ ان میں کچھ وہ بھی ہیں جو فتح مکہ والے سال اسلام لائے، پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ ہی مدینہ آ کر اہل صفہ میں شریک ہو گئے۔ کیونکہ یہ لوگ مدینہ میں اپنے رشتہ داروں اور اپنے مال کی طرف کچھ دھیان نہ دیتے تھے اور ان کا شمار مہاجرین میں بھی نہیں ہوتا کیونکہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ہے: فتح مکہ کے بعد ہجرت نہیں البتہ جہاد اور نیت باقی ہے اور بے شک ہم اللہ تعالیٰ کے فضل و کرم سے یہ امید رکھتے ہیں کہ قیامت تک جو آدمی بھی ان کے راستے پر چلے، توکل اور فقر اختیار کرے گا وہ انہی میں سے شمار ہو گا۔ اور انہی کے ہمراہ ان کا حشر ہو گا۔ اور بے شک جو آدمی ان سے محبت کرے گا وہ اگرچہ دنیا اور اس کی دولت کا امیدوار ہی کیوں نہ ہو اس کے لیے بھی ہم یہی امید رکھتے ہیں کیونکہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: جو آدمی جس قوم سے محبت کرے گا اس کا حشر اسی قوم کے ہمراہ ہو گا۔ [المستدرك على الصحيحين/كِتَابُ الْهِجْرَةِ/حدیث: 4340]

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں