🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

المستدرك على الصحيحين سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم الرسالہ
ترقيم الشرکۃ
عربی لفظ
اردو لفظ
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

ترقیم الرساله سے تلاش کل احادیث (9018)
حدیث نمبر لکھیں:
ترقیم الشركة سے تلاش کل احادیث (8909)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:

18. ذِكْرُ مُعَاشَرَةِ أَهْلِ الصُّفَّةِ
اہلِ صفہ کے ساتھ رسول اللہ ﷺ کی معاشرت کا ذکر
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 4337
حدثنا أبو العباس محمد بن يعقوب، حدثنا أحمد بن عبد الجبار، حدثنا يونس بن بُكير، عن عمر بن ذر قال: حدثنا مُجاهد، عن أبي هريرة قال: كان أهل الصُّفَّة أضيافَ الإسلام، لا يأوون إلى أهل ولا مالٍ، ووالله الذي لا إله إلا هو إن كنتُ لأعتَمِدُ بكَبدي إلى الأرض من الجوع، وأشدُّ الحَجَر على بطني من الجوع، ولقد قعَدتُ يومًا على طريقهم الذي يَخرُجون فيه، فمَرَّ بي أبو بَكْر فسألته عن آيةٍ من كتاب الله ما أسأله إلا ليستتبعني، فمرَّ ولم يفعل، ثم مَرَّ عمر، فسألته عن آية من كتاب الله ما أسأله إلا ليستَتْبِعَني، فمَرَّ ولم يفعل، ثم مَرَّ أبو القاسم ﷺ فتبسم حين رآني، وقال:"أبا هر" قلت: لبيك يا رسول الله، فقال:"الْحَقْ" ومضى، فاتَّبَعْتُه، ودخل منزله، فاستأذنته فأذن لي، فوجد لبنًا في قدح، فقال:"من أين لكم هذا اللبن؟" فقيل: أهداهُ لنا فلانٌ، فقال رسول الله ﷺ:"أبا هِرّ" فقلت: لبيك، فقال:"الْحَق أهلَ الصُّفّة فادعُهُم"، فهم أضيافُ الإسلام، لا يَأوُون على أهل ولا على مال، إذا أتته صدقةٌ بعثَ بها إليهم ولم يتناول منها شيئًا، وإذا أتته هدية أرسل إليهم، فأصابَ منها وأشرَكَهم فيها، فَسَاءني ذلك، وقلت: ما هذا القَدَحُ بين أهل الصُّفّة، وأنا رسوله إليهم، فيأمرني أن أُدَوِّره عليهم، فما عَسَى أَن يُصيبني منه، وقد كنتُ أرجو أن يصيبني منه ما يُغنيني؟ ولم يكن بُدٌّ من طاعةِ الله وطاعة رسوله ﷺ، فأتيتهم فدعوتُهم. فلما دخَلُوا عليه، وأخذُوا مَجالِسَهم قال:"أبا هِرِّ، خُذِ القَدَحَ فَأَعطِهِم" فأخذتُ القَدَحَ فجعلتُ أنا وله الرجل، فيشربُ حتى يَرْوَى، ثم يَرُدُّه، وأنا وله الآخَرَ فيشربُ، حتى انتهيتُ به إلى رسول الله ﷺ وقد روي القومُ كلهم، فأخذ رسول الله ﷺ القَدَحَ فوضَعَه على يديه، ثم رفع رأسه إليَّ فتبسم، وقال:"أبا هر"، فقلت: لبيك يا رسول الله، فقال:"اقعُدْ فاشرب"، فشربتُ، ثم قال:"اشرب" فشربتُ، ثم قال:"اشرب" فشربتُ، فلم أزل أشربُ ويقول:"اشرب" حتى قلتُ: والذي بعثك بالحقِّ ما أجد له مسلكًا، فأَخَذَ القَدَحَ، فَحَمِدَ الله وسمَّى ثم شَرِب (1) . صحيح على شرط الشيخين ولم يخرجاه بهذه السياقة (2) .
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 4291 - على شرط البخاري ومسلم
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں: اہل صفہ اسلام کے مہمان لوگ تھے، یہ مال و دولت اور رشتہ داریوں کی طرف مائل نہ تھے۔ اور اس اللہ کی قسم جس کے سوا کوئی معبود نہیں ہے۔ میں بھوک کی وجہ سے زمین پر لیٹا رہتا تھا اور بھوک کی شدت کی وجہ سے اپنے پیٹ پر پتھر باندھ لیتا تھا۔ ایک دن میں اس راستے میں بیٹھ گیا جس راستے سے لوگ (مسجد سے) باہر نکلا کرتے تھے۔ میرے پاس سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ گزرے تو میں نے ان سے قرآن پاک کی ایک آیت کا مطلب پوچھا۔ میرے اس سوال کا مقصد سوائے اس کے اور کچھ نہ تھا کہ وہ مجھے اپنے ساتھ چلنے کو کہیں گے، لیکن انہوں نے ایسا نہ کیا۔ پھر سیدنا عمر فاروق رضی اللہ عنہ گزرے، میں نے ان سے بھی قرآن کریم کی ایک آیت کے بارے میں پوچھا، ان سے سوال کرنے کا مقصد بھی صرف یہی تھا کہ یہ مجھے اپنے ساتھ چلنے کو کہیں گے، لیکن انہوں نے بھی ایسا نہ کیا۔ پھر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم گزرے تو مجھے دیکھ کر مسکرا دئیے، اور فرمایا: اے ابوہریرہ! میں نے کہا: لبیک یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ۔ آپ علیہ السلام نے فرمایا: میرے ساتھ چلو، پھر آپ چل دئیے اور میں بھی آپ کے پیچھے ہو لیا، چلتے چلتے آپ علیہ السلام اپنے گھر پہنچ گئے، میں نے اجازت مانگی تو مجھے بھی (اندر آنے کی) اجازت مل گئی، آپ علیہ السلام نے دیکھا کہ ایک پیالے میں دودھ موجود ہے، آپ علیہ السلام نے دریافت کیا کہ یہ دودھ کہاں سے آیا؟ آپ علیہ السلام کو بتایا گیا کہ فلاں آدمی کی جانب سے تحفہ آیا ہے۔ پھر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اے ابوہریرہ! میں نے کہا: لبیک یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ۔ آپ علیہ السلام نے فرمایا: اہل صفہ کو بلا لاؤ، یہ اسلام کے مہمان لوگ ہیں، یہ اہل و عیال اور مال کے پیچھے سرگرداں نہیں پھرتے۔ جب بھی آپ علیہ السلام کے پاس کوئی صدقہ آتا تو آپ علیہ السلام (سارے کا سارا صدقہ) ان کی طرف بھیج دیا کرتے تھے۔ اور خود اس میں سے کچھ بھی نہیں رکھتے تھے، اور جب کبھی آپ کے پاس کوئی ہدیہ (تحفہ) آتا تو ان کے ساتھ ساتھ خود بھی اس میں شریک ہوتے۔ (خیر) مجھے اس وقت یہ بات بہت ناگوار گزری اور میں نے سوچا کہ یہ ایک پیالہ اہل صفہ میں کیسے پورا آئے گا؟ جبکہ میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی طرف سے ان کی طرف بھیجا گیا ہوں اور آپ علیہ السلام مجھے یہ حکم بھی دیں گے کہ یہ پیالہ ان تمام تک پہنچانا ہے۔ لگتا نہیں تھا کہ اس میں سے میرے لیے بھی کچھ بچے گا لیکن مجھے امید تھی کہ مجھے اس میں سے اتنا تو مل ہی جائے گا جو میرے لیے کافی ہو گا۔ اور اللہ تعالیٰ اور اس کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کی اطاعت کے سوا کوئی چارہ بھی نہ تھا، چنانچہ میں ان کے پاس گیا اور ان کو بلا لایا۔ جب وہ سب لوگ آ کر اپنی اپنی جگہوں پر بیٹھ گئے تو آپ علیہ السلام نے مجھ سے فرمایا: ابوہریرہ! یہ پیالہ پکڑو اور ان کو دو، میں نے پیالہ پکڑ لیا اور ایک ایک آدمی کو دینا شروع کیا، وہ دودھ پی پی کر سیراب ہو جاتا پھر واپس کر دیتا۔ پھر میں دوسرے کو دے دیتا وہ بھی پیٹ بھر کر پیتا (اور واپس کر دیتا) حتیٰ کہ یہ پیالہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم تک پہنچ گیا اور تمام لوگ سیر ہو چکے تھے، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے پیالہ پکڑ کر اپنے سامنے رکھا، پھر میری جانب سر اٹھا کر مسکرا دئیے اور فرمایا: اے ابوہریرہ! میں نے کہا: لبیک یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ۔ آپ علیہ السلام نے فرمایا: بیٹھ جاؤ، اور پیئو، میں نے پیا، آپ علیہ السلام نے پھر فرمایا: پیئو، میں نے پھر پیا، آپ علیہ السلام نے پھر فرمایا: پیئو، میں نے پھر پیا، آپ علیہ السلام فرماتے رہے اور میں پیتا رہا حتیٰ کہ میں نے کہا: اس ذات کی قسم! جس نے آپ کو حق کے ساتھ بھیجا ہے اب تو کوئی گنجائش نہیں ہے۔ پھر آپ علیہ السلام نے وہ پیالہ پکڑا اور اللہ تعالیٰ کی حمد و ثناء کی اور بسم اللہ پڑھ کر پی لیا۔ ٭٭ یہ حدیث امام بخاری رحمۃ اللہ علیہ اور امام مسلم رحمۃ اللہ علیہ کے معیار کے مطابق صحیح ہے لیکن شیخین رحمۃ اللہ علیہما نے اس کو اس اسناد کے ہمراہ نقل نہیں کیا۔ [المستدرك على الصحيحين/كِتَابُ الْهِجْرَةِ/حدیث: 4337]

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 4338
حدثنا أبو بكر محمد بن عبد الله بن عتاب العَبْدي ببغداد، حدثنا جعفر بن محمد بن شاكر، حدثنا محمد بن سابق، حدثنا مالك بن مِغْوَل، عن فُضَيل بن غَزْوان، عن أبي حازم، عن أبي هريرة، قال: لقد كان أصحابُ الصُّفّة سبعين رجلًا، ما لهم أرديةٌ (3) .
هذا حديث صحيح على شرط الشيخين، ولم يخرجاه! قال الحاكم: تأمّلتُ هذه الأخبار الواردة في أهل الصفة، فوجدتُهم من أفاضل الصحابة ﵃، وَرَعًا وتوكُّلًا على الله ﷿، ومُلازمةً لخدمة رسول الله ﷺ، اختار الله تعالى لهم ما اختاره لنبيه ﷺ من المسكنة والفقر، والتفرغ لعبادة الله ﷿، وترك الدنيا لأهلها، وهم الطائفة المنتمية إليهم الصُّوفِيَّة قرنًا بعد قَرْنٍ، فمن جَرَى على سُنَّتِهم وصبرهم على تركِ الدنيا، والأُنس بالفقر، وتركِ التعرُّض للسؤال، فهم في كل عصرٍ بأهل الصُّفّة مُقْتَدُون، وعلى خالقهم مُتوكِّلُون.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 4292 - على شرط البخاري ومسلم
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں: اصحاب صفحہ 70 تھے، ان کے پاس باعث زینت کوئی چیز نہ تھی۔ ٭٭ یہ حدیث امام بخاری رحمۃ اللہ علیہ اور امام مسلم رحمۃ اللہ علیہ کے معیار کے مطابق صحیح ہے لیکن شیخین رحمۃ اللہ علیہما نے اس کو نقل نہیں کیا۔ فائدہ: امام حاکم کہتے ہیں: اہل صفحہ کے متعلق وارد ان احادیث میں، میں نے غور کیا تو اکابر صحابہ کرام رضی اللہ عنہم کو پرہیزگار اور صرف اللہ تعالیٰ کی ذات پر بھروسہ کر کے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر رہنے والے پایا، اور اللہ تعالیٰ نے بھی ان کو وہی فقر و فاقہ، وہی مسکنت اور عبادت الٰہی کے لیے گریہ زاری عطا فرمائی اور دنیا کو اہل دنیا کے سپرد کر دینے کا وہی جذبہ عطا فرمایا جو اس نے اپنے پیارے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو عطا فرمایا تھا۔ اور یہ وہی لوگ ہیں جو ہر زمانہ میں صوفیاء کہلائے۔ اور جو آدمی بھی ان کے طریقہ کار پر عمل پیرا ہو کر ترک دنیا پر صبر اختیار کرے، فاقہ مستی کے ساتھ لگاؤ قائم کرے اور اہل دنیا سے سوال ترک کرے، تو ہر زمانہ میں ایسے لوگ اہل صفحہ ہی کے پیروکار کہلائیں گے اور اپنے پیدا کرنے والے پر بھروسہ کرنے والے قرار پائیں گے۔ [المستدرك على الصحيحين/كِتَابُ الْهِجْرَةِ/حدیث: 4338]

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 4339
وقد حدثنا شيخ التصوُّف في عصره أبو محمد جعفر بن محمد بن نصير الخُلْدي، حدثنا أبو محمد الجريري، قال: سمعت سهل بن عبد الله التستري يقول: لمّا بعثَ اللهُ ﷿ النبي ﷺ كان في الدنيا سبعة أصناف من الناس: الملوك والمُزارعون وأصحاب المواشي والتجارُ والصُّناع والأُجَراء والضُّعَفاء والفقراء، لم يؤمر أحدٌ منهم أن ينتقل ممّا هو فيه، ولكن أمرَهُم بالعِلْم واليقين والتَّقْوى والتوكل في جميع ما كانوا فيه، قال سهلٌ رحمة الله عليه وينبغي للعاقل أن يقول: ما ينبغي لي بعدَ عِلْمي بأني عبدُك أن أرجو أو أؤمِّل غيرك، ولا أتوهم عليك إذ خَلَقْتني وصيَّرتني عبدًا لك أن تَكِلَني إلى نفسي، أو تُولّي أُمُورِي غيرك. قال الحاكم: وقد وصف رسول الله ﷺ هذه الطائفة بما خَصَّهم الله تعالى به من بين الطوائف بصفاتٍ، فمن وجدت فيه تلك الصفات استحق بها اسم التصوُّف.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 4293 - سكت عنه الذهبي في التلخيص
سیدنا سہل بن عبداللہ تستری رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں: جب اللہ تعالیٰ نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو مبعوث فرمایا: اس وقت زمانہ میں سات قسم کے لوگ موجود تھے۔ بادشاہ، کھیتوں میں کام کرنے والے، مزارع، جانور وغیرہ پالنے والے، تاجر، کاریگر، مزدور، ضعیف اور فقراء۔ آپ علیہ السلام نے ان میں سے کسی کو بھی اپنی موجودہ حقیقت بدلنے کا حکم نہیں دیا۔ البتہ ان سب کو اپنی اپنی حیثیت میں رہتے ہوئے علم، یقین، تقویٰ اور توکل علی اللہ کا حکم دیا۔ تو سیدنا سہل رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں: ایک عقل مند آدمی کو یوں کہنا چاہئے جب میں یہ جانتا ہوں کہ میں صرف تیرا بندہ ہوں تو میرے لیے یہ مناسب نہیں ہے کہ تیرے سوا کسی اور سے امیدیں لگاؤں۔ اور جب تو نے میری تخلیق کی ہے اور مجھے اپنا بندہ بنایا ہے تو میرے لیے یہ بھی مناسب نہیں ہے کہ میں تیرے بارے میں یہ وہم کروں کہ تو مجھے میرے حال پر چھوڑ دے گا یا تو میرے معاملات اپنے سوا کسی اور کے سپرد کرے گا۔ ٭٭ امام حاکم کہتے ہیں: اللہ تعالیٰ نے دیگر گروہوں میں اس جماعت کو جن اوصاف کے ساتھ خاص کیا ہے، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے بھی ان کی وہ صفات بیان کر دی ہیں چنانچہ جس میں یہ صفات پائی جائیں گی، اس پر تصوف کا اطلاق کرنا درست ہو گا۔ [المستدرك على الصحيحين/كِتَابُ الْهِجْرَةِ/حدیث: 4339]

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں