🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

Join Whatsapp Channel
المستدرك على الصحيحين سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم الرسالہ
ترقيم الشرکۃ
عربی لفظ
اردو لفظ
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

ترقیم الرساله سے تلاش کل احادیث (9018)
حدیث نمبر لکھیں:
ترقیم الشركة سے تلاش کل احادیث (8909)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:

11. رَدُّ جَوَابِ السَّلَامِ مِنْ شُهَدَاءِ أُحُدٍ وَكَلَامُهُمْ
اُحد کے شہداء کی طرف سے سلام کا جواب دینا اور ان کا کلام کرنا
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 4366
حدثنا أبو بكر إسماعيل بن محمد بن إسماعيل الفقيه بالرّي، حدثنا محمد بن المغيرة السُّكّري، حدثنا عبد الرحمن بن علقمة المَروَزي، حدثنا العَطَّاف بن خالد المخزومي، حدثني عبد الأعلى بن عبد الله بن أبي فروة، عن أبيه: أنَّ النبي ﷺ زار قُبورَ الشهداء بأحدٍ، فقال:"اللهمَّ إِنَّ عَبْدَكَ ونَبيَّك يشهدُ أنَّ هؤلاءِ شُهداء، وأنه مَن زَارَهُم وسلَّم عليهم إلى يوم القيامة رَدُّوا عليه" (3) .
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 4320 - مرسل
سیدنا عبد الاعلی بن عبد اللہ اپنے والد سے روایت کرتے ہیں کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے احد کے شہداء کی قبروں کی زیارت کی اور فرمایا: «اللَّهُمَّ إِنَّ عَبْدَكَ وَنَبِيَّكَ يَشْهَدُ أَنَّ هَؤُلَاءِ شُهَدَاءُ، وَأَنَّهُ مَنْ زَارَهُمْ وَسَلَّمَ عَلَيْهِمْ إِلَى يَوْمِ الْقِيَامَةِ رَدُّوا عَلَيْهِ» اے اللہ! بے شک تیرا بندہ اور تیرا نبی گواہی دیتا ہے کہ یہ سب شہداء ہیں، اور جو کوئی بھی قیامت کے دن تک ان کی زیارت کرے گا اور انہیں سلام پیش کرے گا، وہ اسے سلام کا جواب دیں گے۔ [المستدرك على الصحيحين/كِتَابُ الْمَغَازِي وَالسَّرَايَا/حدیث: 4366]
تخریج الحدیث: «ضعيف لاضطرابه كما تقدم بيانه برقم (3014). وأخرجه البيهقي في "دلائل النبوة" 3/ 307 عن أبي عبد الله الحاكم، بهذا الإسناد.» [ترقيم الرساله 4366] [ترقيم الشركة 4343] [ترقيم العلميه 4320]

الحكم على الحديث: إسناده ضعيف
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 4366M
قال العَطَّاف: وحدثتني خالتي أنها زارت قبور الشُّهداء، قالت: وليس معى إلَّا غُلامانِ يَحفَظان على الدابةَ، فسلَّمتُ عليهم، فسمعت ردَّ السلام، قالوا: والله إنا نَعرِفُكم كما يعرف بعضنا بعضًا، قالت: فاقشعررتُ، فقلتُ: يا غُلام، أَدْنِ بَغْلَتي، فركبتُ (1) . هذا إسناد مديني صحيح، ولم يخرجاه.
عطاف بیان کرتے ہیں کہ مجھے میری خالہ نے بتایا کہ انہوں نے شہداء کی قبروں کی زیارت کی، وہ کہتی ہیں کہ میرے ساتھ سوائے دو لڑکوں کے اور کوئی نہ تھا جو سواری کی حفاظت کر رہے تھے، میں نے شہداء کو سلام کیا تو میں نے ان کے سلام کا جواب سنا، انہوں نے کہا: اللہ کی قسم! ہم تمہیں ایسے ہی پہچانتے ہیں جیسے ہم ایک دوسرے کو پہچانتے ہیں، وہ کہتی ہیں کہ (یہ سن کر) مجھ پر کپکپی طاری ہو گئی، میں نے کہا: اے لڑکے! میری خچر قریب لاؤ، اور میں سوار ہو کر واپس آ گئی۔
یہ اسناد مدنی راویوں کے اعتبار سے صحیح ہے لیکن شیخین نے اسے روایت نہیں کیا۔ [المستدرك على الصحيحين/كِتَابُ الْمَغَازِي وَالسَّرَايَا/حدیث: 4366M]
تخریج الحدیث: [ترقيم الرساله 4366M] [ترقيم الشركة 4343/1]

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 4367
حدثنا أبو العباس محمد بن يعقوب، حدثنا عباس بن محمد الدُّوري، حدثنا أبو النضر، حدثنا أبو سعيد المُؤدِّب، عن هشام بن عروة، عن أبيه، عن عائشة: أنها قالت لعبد الله بن الزبير: يا ابنَ أُختِي، أما واللهِ إِنَّ أباكَ وجَدَّك - تعني أبا بكر والزبير - لَمِنَ الذين قال الله ﷿: ﴿الَّذِينَ اسْتَجَابُوا لِلَّهِ وَالرَّسُولِ مِنْ بَعْدِ مَا أَصَابَهُمُ الْقَرْحُ﴾ [آل عمران: 172] (2) .
هذا حديث صحيح، ولم يخرجاه.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 4321 - صحيح
سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے کہ انہوں نے سیدنا عبداللہ بن زبیر رضی اللہ عنہ سے فرمایا: اے میرے بھانجے! اللہ کی قسم! تمہارے والد (زبیر) اور تمہارے نانا (ابوبکر) یقیناً ان لوگوں میں سے تھے جن کے بارے میں اللہ عزوجل نے ارشاد فرمایا ہے: ﴿الَّذِينَ اسْتَجَابُوا لِلَّهِ وَالرَّسُولِ مِنْ بَعْدِ مَا أَصَابَهُمُ الْقَرْحُ﴾ [آل عمران: 172] وہ لوگ جنہوں نے زخم کھانے کے بعد بھی اللہ اور رسول کے حکم کو مانا۔
یہ حدیث صحیح ہے لیکن شیخین نے اسے روایت نہیں کیا۔ [المستدرك على الصحيحين/كِتَابُ الْمَغَازِي وَالسَّرَايَا/حدیث: 4367]
تخریج الحدیث: «إسناده صحيح، وهو مكرر ما تقدم برقم (3204). وأبو النضر: هو هاشم بن القاسم.» [ترقيم الرساله 4367] [ترقيم الشركة 4344] [ترقيم العلميه 4321]

الحكم على الحديث: إسناده صحيح
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں