المستدرك على الصحيحين سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم الرسالہ
ترقيم الشرکۃ
عربی لفظ
اردو لفظ
12. سُقُوطُ السَّيْفِ مِنْ يَدِ كَافِرٍ يُرِيدُ قَتْلَ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ
ایک کافر کا نبی کریم ﷺ کو قتل کرنے کا ارادہ اور اس کے ہاتھ سے تلوار گر جانا
حدیث نمبر: 4368
أخبرنا أبو العباس محمد بن أحمد المَحْبُوبي، حدثنا محمد بن معاذ، حدثنا أبو النعمان محمد بن الفضل عارِمٌ، حدثنا أبو عَوَانة، عن أبي بشر، عن سليمان بن قيس، عن جابر بن عبد الله، قال: قاتل رسولُ اللهِ ﷺ مُحارِبَ خَصَفَةَ بنَخْل، فرأوا من المسلمين غِرَّةً، فجاء رجلٌ منهم يُقال له: غَوْرَث (1) بن الحارث، حتى قام على رأسِ رسول الله ﷺ بالسيف، فقال: مَن يَمنعُك مني؟ قال:"الله" قال: فسَقَطَ السيفُ من يده، فأخذ رسول الله ﷺ السيف فقال:"مَن يَمنعُك؟" قال: كُنْ خيرَ آخِذٍ، قال:"تَشْهَدُ أن لا إله إلا الله وأني رسول الله؟" قال الأعرابي: أَعاهِدُك أن لا أقاتلك، ولا أكون مع قومٍ يُقاتِلُونك، قال: فخَلَّى رسول الله ﷺ سَبِيله، فجاء إلى قومه، فقال: جئتكم من عند خير الناسِ، فلما حضرتِ الصلاةُ صلَّى رسول الله ﷺ صلاة الخوف، وكان الناسُ طائفتين، طائفةٌ بإزاء العدو، وطائفةٌ تُصلّي مع رسول الله ﷺ، فصلّى بالطائفة الذين معه ركعتين، فانصرفُوا فكانوا مع أولئك الذين بإزاء عَدُوِّهم، وجاء أولئك فصلى بهم رسول الله ﷺ ركعتين، فكانت للناس ركعتين ركعتين وللنبي ﷺ أربع ركعات (2) .
هذا حديث صحيح على شرط الشيخين، ولم يخرجاه.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 4322 - على شرط البخاري ومسلم
هذا حديث صحيح على شرط الشيخين، ولم يخرجاه.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 4322 - على شرط البخاري ومسلم
سیدنا جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے نخل کے مقام پر (قبیلہ) محارب خصفہ سے قتال فرمایا، ان لوگوں نے مسلمانوں میں غفلت کا ایک موقع پایا تو ان میں سے ایک شخص جس کا نام غورث بن حارث تھا، وہ اچانک رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے سر مبارک پر تلوار تانے کھڑا ہو گیا اور کہنے لگا: ”اب آپ کو مجھ سے کون بچائے گا؟“ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے (بغیر کسی خوف کے) فرمایا: ”اللہ“، یہ سنتے ہی تلوار اس کے ہاتھ سے گر گئی، پھر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے وہی تلوار اٹھا لی اور اس سے پوچھا: ”اب تجھے (مجھ سے) کون بچائے گا؟“ اس نے (عاجزی سے) کہا: ”آپ بہترین بدلہ لینے والے بن جائیں“، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”کیا تم گواہی دیتے ہو کہ اللہ کے سوا کوئی سچا معبود نہیں اور میں اللہ کا رسول ہوں؟“ اس اعرابی نے جواب دیا: ”میں آپ سے یہ عہد کرتا ہوں کہ میں نہ تو آپ سے قتال کروں گا اور نہ ہی ان لوگوں کا ساتھ دوں گا جو آپ کے خلاف جنگ کریں گے“، چنانچہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس کا راستہ چھوڑ دیا، وہ جب اپنی قوم کے پاس پہنچا تو کہنے لگا: ”میں تمہارے پاس اس شخصیت کے پاس سے آیا ہوں جو تمام لوگوں میں سب سے بہتر ہے“، پھر جب نماز کا وقت ہوا تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے صلاۃ الخوف (خوف کی نماز) پڑھائی، صحابہ کرام دو گروہوں میں منقسم تھے، ایک گروہ دشمن کے سامنے صف آرا تھا اور دوسرا گروہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ نماز ادا کر رہا تھا، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے ساتھ والے گروہ کو دو رکعتیں پڑھائیں، پھر وہ اپنی جگہ سے ہٹ کر دشمن کے سامنے چلے گئے، پھر دوسرا گروہ آیا تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے انہیں بھی دو رکعتیں پڑھائیں، یوں صحابہ کی دو دو رکعتیں ہوئیں اور نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی کل چار رکعتیں ہوئیں۔
یہ حدیث شیخین کی شرط پر صحیح ہے لیکن انہوں نے اسے روایت نہیں کیا۔ [المستدرك على الصحيحين/كِتَابُ الْمَغَازِي وَالسَّرَايَا/حدیث: 4368]
یہ حدیث شیخین کی شرط پر صحیح ہے لیکن انہوں نے اسے روایت نہیں کیا۔ [المستدرك على الصحيحين/كِتَابُ الْمَغَازِي وَالسَّرَايَا/حدیث: 4368]
تخریج الحدیث: «حديث صحيح، وسليمان بن قيس - وهو اليشكري - جزم أحمد وابن معين بأنه قتل أيام ابن الزبير، أي: قبل وفاة جابر بن عبد الله، لهذا جزم البخاري في "علل الترمذي الكبير" (550) بأنَّ أبا بشر - وهو جعفر بن أبي وَحْشِيَّة - لم يسمع من سليمان، بل قال ابن ...» [ترقيم الرساله 4368] [ترقيم الشركة 4345] [ترقيم العلميه 4322]
الحكم على الحديث: حديث صحيح