المستدرك على الصحيحين سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم الرسالہ
ترقيم الشرکۃ
عربی لفظ
اردو لفظ
13. ذِكْرُ صَلَاةِ الْخَوْفِ عِنْدَ مُقَابَلَةِ الْعَدُوِّ
دشمن کے مقابلے کے وقت نمازِ خوف کا ذکر
حدیث نمبر: 4369
حدثنا أبو العباس محمد بن يعقوب، حدثنا أحمد بن عبد الجبار، حدثنا يونس بن بكير، عن النضر أبي عُمر، عن عكرمة، عن ابن عباس، قال: خرج رسول الله ﷺ في غَزَاةٍ فلقي المشركين بعُسْفان، فلما صلَّى رسول الله ﷺ الظهر فرأوه يركع ويسجد هو وأصحابه، قال بعضُهم لبعض: كان هذه فُرصةً لكم، لو أغَرْتُم عليهم ما علموا بكم حتى تُواقِعُوهم، فقال قائل منهم: فإن لهم صلاةً أُخرى هي أحبُّ إليهم من أهليهم وأموالهم، فاستَعِدُّوا حتى تُغِيرُوا عليهم فيها، فأنزل الله ﷿ على نَبيه ﷺ: ﴿وَإِذَا كُنْتَ فِيهِمْ فَأَقَمْتَ لَهُمُ الصَّلَاةَ﴾ إلى آخر الآية [النساء:102] وأعلمه ما ائتمر به المشركون، فلما صلى رسول الله ﷺ العَصْرَ، وكانوا قبالته في القِبْلة، جعلَ المسلمين خَلْفَه صَفّين، فكبر رسول الله ﷺ فكبّروا معه، فذكر صلاةَ الخَوفِ، وقال في آخره: فلما نَظَرَ إليه المُشركون يسجد بعضُهم ويقوم بعضُهم ينظر إليهم، قالوا: لقد أُخبروا بما أرَدْناهم (1) .
هذا حديث صحيح على شرط البخاري، ولم يُخرجاه.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 4323 - على شرط البخاري
هذا حديث صحيح على شرط البخاري، ولم يُخرجاه.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 4323 - على شرط البخاري
سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ایک غزوے کے لیے نکلے تو مقامِ عسفان پر مشرکین سے سامنا ہوا، جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے (اپنے صحابہ کے ساتھ) ظہر کی نماز ادا کی اور مشرکین نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو اور صحابہ کو ایک ساتھ رکوع و سجود کرتے دیکھا تو وہ ایک دوسرے سے کہنے لگے: ”یہ تمہارے لیے حملہ کرنے کا بہترین موقع تھا، اگر تم ان پر اچانک ٹوٹ پڑتے تو انہیں تمہارے ارادوں کی خبر تک نہ ہوتی“، پھر ان میں سے ایک شخص نے مشورہ دیا: ”یقیناً ان کی ایک اور نماز (عصر) آنے والی ہے جو انہیں ان کی اولاد اور مال و دولت سے بھی زیادہ محبوب ہے، لہٰذا تم مکمل تیاری کر لو تاکہ اس وقت ان پر یکبارگی حملہ کر سکو“، اس موقع پر اللہ عزوجل نے اپنے نبی صلی اللہ علیہ وسلم پر یہ آیت نازل فرمائی: ﴿وَإِذَا كُنْتَ فِيهِمْ فَأَقَمْتَ لَهُمُ الصَّلَاةَ﴾ [سورة النساء: 102] ”اور جب آپ ان میں موجود ہوں اور ان کے لیے نماز قائم کریں“، اور اللہ تعالیٰ نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو مشرکین کی اس سازش سے باخبر کر دیا، چنانچہ جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے عصر کی نماز پڑھائی اور مشرکین قبلے کی سمت میں سامنے ہی موجود تھے، تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے مسلمانوں کو اپنے پیچھے دو صفوں میں کھڑا کیا، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے تکبیرِ تحریمہ کہی تو سب نے آپ کے ساتھ تکبیر کہی، پھر راوی نے صلاۃ الخوف کا مکمل طریقہ ذکر کیا اور اس کے آخر میں بیان کیا: جب مشرکین نے یہ دیکھا کہ مسلمانوں میں سے کچھ سجدہ کر رہے ہیں اور کچھ کھڑے ہو کر ان کی نگرانی کر رہے ہیں، تو وہ (حیران ہو کر) کہنے لگے: ”یقیناً انہیں ہمارے ارادوں کی اطلاع دے دی گئی ہے“۔
یہ حدیث امام بخاری کی شرط پر صحیح ہے لیکن شیخین نے اسے روایت نہیں کیا۔ [المستدرك على الصحيحين/كِتَابُ الْمَغَازِي وَالسَّرَايَا/حدیث: 4369]
یہ حدیث امام بخاری کی شرط پر صحیح ہے لیکن شیخین نے اسے روایت نہیں کیا۔ [المستدرك على الصحيحين/كِتَابُ الْمَغَازِي وَالسَّرَايَا/حدیث: 4369]
تخریج الحدیث: «إسناده ضعيف جدًّا من أجل النضر أبي عمر» [ترقيم الرساله 4369] [ترقيم الشركة 4346] [ترقيم العلميه 4323]
الحكم على الحديث: إسناده ضعيف