المستدرك على الصحيحين سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم الرسالہ
ترقيم الشرکۃ
عربی لفظ
اردو لفظ
14. مُعْجِزَةُ تَكْثِيرِ الطَّعَامِ فِي بَيْتِ جَابِرٍ بِدُعَائِهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ
حضرت جابرؓ کے گھر کھانے کی کثرت نبی کریم ﷺ کی دعا سے
حدیث نمبر: 4370
أخبرنا أبو العباس محمد بن يعقوب، حدثنا العباس بن محمد الدُّوري، حدثنا أبو عاصم. وأخبرنا أبو عمرو بن أبي جعفر المُقرئ - واللفظ له - حدثنا عبد الله بن محمد بن عبد الرحمن، حدثنا عمرو بن علي، حدثنا أبو عاصم، حدثنا حنظلة بن أبي سفيان، حدثنا سعيد بن ميناء، قال: سمعت جابر بن عبد الله يقول: لما حُفِرَ الخندقُ رأيتُ برسول الله ﷺ خَمصًا شديدًا، قال فانكفأتُ إلى امرأتي، فقلتُ: إني رأيتُ برسول الله ﷺ خمصًا شديدًا، فأخرجت إلى جرابًا فيه صاح من شَعِير، ولنا بُهيمةٌ داجِنٌ، قال: فذبَحْتُها وطَحَنت، فجئتُ رسول الله ﷺ فسارَرتُه، فقلت: يا رسول الله، قد ذبحنا بهيمةً لنا وطحنت صاعًا من شعير كان عندنا، فتعال أنت ونفرٌ معك، قال: فصاح رسول الله ﷺ:"يا أهل الخندق، إنَّ جابرًا قد صَنَعَ سُوْرًا، فحيَّ هَلَا بكم" فقال رسول الله ﷺ:"لا تُنزِلُن برمتكم ولا تَخبِرُنَّ عَجِينتكم حتى أجيء" قال: فجئتُ وجاءَ رسول الله ﷺ، فقدم الناسُ حتى جئتُ امرأتي، فأخرجَتْ له عجينًا، فبصَقَ فيه وبارَكَ، ثم قال:"ادعُو لي خابزةً فلتخبز معك، وأفرِغُوا من بُرمَتِكم ولا تُنزِلُوها"، وهم ألف، فأقسم جابرٌ بالله لا كَلُوا حتى تَرَكُوا وانصرَفُوا، وإِنَّ بُرْمتَنا لتغط كما هي، وإن عجيننا ليُخبَرُ كما هو (1) . هذا لفظ حديث أبي عمرو، في حديث أبي العباس اختصار.
هذا حديث صحيح على شرط الشيخين، ولم يخرجاه!
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 4324 - على شرط البخاري ومسلم
هذا حديث صحيح على شرط الشيخين، ولم يخرجاه!
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 4324 - على شرط البخاري ومسلم
سیدنا جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ جب خندق کھودی جا رہی تھی تو میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے شکم مبارک پر بھوک کی وجہ سے شدید سکڑاؤ (گڑھے) دیکھے، میں تیزی سے اپنی اہلیہ کے پاس پہنچا اور کہا: میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو انتہائی سخت بھوک کی حالت میں دیکھا ہے، میری اہلیہ نے ایک تھیلی نکالی جس میں ایک صاع جو تھے اور ہمارے پاس گھر میں پلا ہوا ایک چھوٹا بکری کا بچہ تھا، میں نے اسے ذبح کیا اور آٹا پیسا، پھر میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس حاضر ہوا اور آپ کے کان میں چپکے سے عرض کی: اے اللہ کے رسول! ہم نے اپنا ایک چھوٹا جانور ذبح کیا ہے اور ہمارے پاس جو ایک صاع جو تھا اسے پیس لیا ہے، لہٰذا آپ اور چند افراد ساتھ تشریف لائیں، اس پر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے بلند آواز سے پکارا: ”اے اہل خندق! جابر نے کھانے کی دعوت تیار کی ہے، لہٰذا تم سب جلدی آ جاؤ“، پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھ سے فرمایا: ”جب تک میں نہ آ جاؤں، نہ تو اپنی ہانڈی چولہے سے اتارنا اور نہ ہی آٹے کی روٹیاں پکانا“، میں گھر پہنچا اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم بھی تشریف لائے، لوگ (گروہ در گروہ) آنے لگے یہاں تک کہ میں اپنی اہلیہ کے پاس گیا، انہوں نے گوندھا ہوا آٹا نکال کر آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے سامنے رکھا، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس میں اپنا لعابِ دہن ڈالا اور برکت کی دعا فرمائی، پھر فرمایا: ”کسی روٹی پکانے والی کو بلا لو تاکہ وہ تمہارے ساتھ روٹیاں پکائے اور اپنی ہانڈی سے سالن نکالتے رہو مگر اسے چولہے سے نیچے نہ اتارنا“، جبکہ صحابہ کی تعداد ایک ہزار تھی، جابر رضی اللہ عنہ اللہ کی قسم کھا کر کہتے ہیں کہ ان سب نے پیٹ بھر کر کھانا کھایا یہاں تک کہ وہ کھانا چھوڑ کر واپس چلے گئے، جبکہ ہماری ہانڈی اسی طرح (سالن سے بھری) جوش مار رہی تھی اور ہمارا آٹا اسی طرح (باقی) تھا کہ اس سے روٹیاں پکائی جا رہی تھیں۔
یہ حدیث شیخین کی شرط پر صحیح ہے لیکن انہوں نے اسے روایت نہیں کیا۔ [المستدرك على الصحيحين/كِتَابُ الْمَغَازِي وَالسَّرَايَا/حدیث: 4370]
یہ حدیث شیخین کی شرط پر صحیح ہے لیکن انہوں نے اسے روایت نہیں کیا۔ [المستدرك على الصحيحين/كِتَابُ الْمَغَازِي وَالسَّرَايَا/حدیث: 4370]
تخریج الحدیث: «إسناده صحيح،أبو عاصم: هو الضحاك بن مخلد.» [ترقيم الرساله 4370] [ترقيم الشركة 4347] [ترقيم العلميه 4324]
الحكم على الحديث: إسناده صحيح