المستدرك على الصحيحين سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم الرسالہ
ترقيم الشرکۃ
عربی لفظ
اردو لفظ
15. إِرْسَالُ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ حُذَيْفَةَ بْنَ الْيَمَانِ لِتَفْتِيشِ حَالِ الْعَدُوِّ
نبی کریم ﷺ کا حضرت حذیفہؓ کو دشمن کی خبر لینے کے لیے بھیجنا
حدیث نمبر: 4371
أخبرنا أبو بكر أحمد بن كامل القاضي، حدثنا عيسى بن عبد الله الطَّيالسي، حدثنا أبو نُعيم الفضل بن دكين، حدثنا يوسف بن عبد الله بن أبي بردة، عن موسى بن [أبي] (1) المختار، عن بلالٍ العبسي، عن حذيفة بن اليمان: أنَّ الناس تَفَرَّقُوا عن رسول الله ﷺ ليلة الأحزاب، فلم يبق معه إلَّا اثنا عشر رجلًا فأتاني رسول الله ﷺ وأنا جاثي من البَرْدِ، وقال:"يا ابن اليمان، قم فانطَلِقْ إلى عَسْكَر الأحزاب، فانظُرْ إلى حالهم" قلتُ: يا رسول الله، والذي بعثك بالحقِّ، ما قُمْتُ إليك إلَّا حَياءً منكَ مِنَ البَرْدِ، قال:"فابرُزِ الحَرّةَ وبَرْدَ الصُّبْح (2) ، انطلق يا ابنَ اليمان، فلا بأسَ عليكَ من حَرٍّ ولا بَرْدٍ حتى تَرجِعَ إِليَّ". قال: فانطلقتُ إلى عَسْكَرهم فوجدتُ أبا سفيان يُوقِد النارَ في عُصبةٍ حوله، قد تفرّق الأحزاب عنه، قال: حتى إذا جلستُ فيهم، قال: فحسَّ (3) أبو سفيان أنه دَخَل فيهم مِن غَيْرِهم، قال: يأخذُ كُلُّ رجل منكُم بيدِ جليسه، قال: فضربتُ بيدي على الذي عن يميني وأخذْتُ بيده، ثم ضربت بيدِي على الذي عن يساري فأخذتُ بيده، فلبثْتُ فيهم هنيَّةً ثم قمتُ، فأتيت رسول الله ﷺ وهو قائمٌ يُصلّي، فأومأ إلي بيده: أن ادْنُ، فدنَوتُ، ثم أومأ إليّ أيضًا: أنِ ادْنُ، فدنَوتُ، حتى أسبَلَ عليَّ من الثوب الذي كان عليه وهو يُصلِّي، فلما فرغ من صلاته، قال:"ابن اليمان، اقعد ما الخبرُ؟" قلت: يا رسول الله، تفرّق الناسُ عن أبي سفيان، فلم يَبْقَ إِلَّا عُصبةٌ تُوقِدُ النار، قد صبَّ الله عليه من البَرْدِ مثل الذي صب علينا، ولكنّا نَرجُو من الله ما لا يَرجُو (1) .
هذا حديث صحيح الإسناد، ولم يخرجاه.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 4325 - صحيح
هذا حديث صحيح الإسناد، ولم يخرجاه.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 4325 - صحيح
سیدنا حذیفہ بن یمان رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ غزوہ احزاب کی رات لوگ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس سے (شدید سردی اور خوف کی وجہ سے) چھٹ گئے تھے اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ صرف بارہ افراد باقی رہ گئے تھے، تب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم میرے پاس تشریف لائے جبکہ میں سردی کی شدت کی وجہ سے گھٹنوں میں سر دیے بیٹھا تھا، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اے ابنِ یمان! اٹھو اور احزاب (کفار کے لشکر) کے پڑاؤ کی طرف جاؤ اور ان کے حالات دیکھ کر آؤ“، میں نے عرض کیا: اے اللہ کے رسول! اس ذات کی قسم جس نے آپ کو حق کے ساتھ بھیجا ہے، میں صرف آپ سے حیا کی وجہ سے (تعمیلِ ارشاد کے لیے) کھڑا ہوا ہوں ورنہ سردی بہت زیادہ ہے، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”باہر نکل جاؤ، تمہیں صبح کی اس سردی سے کوئی نقصان نہیں پہنچے گا، اے ابن یمان! جاؤ، جب تک تم میرے پاس واپس نہیں آجاتے تب تک تمہیں نہ گرمی محسوس ہوگی اور نہ سردی اثر کرے گی۔“ سیدنا حذیفہ کہتے ہیں: پس میں ان کے لشکر گاہ میں پہنچا تو دیکھا کہ ابوسفیان اپنے گرد ایک گروہ کے ساتھ آگ جلا رہے ہیں اور باقی لشکری وہاں سے منتشر ہو چکے ہیں، وہ کہتے ہیں کہ میں جا کر ان میں بیٹھ گیا، تو ابوسفیان کو یہ احساس ہوا کہ ان میں کوئی اجنبی داخل ہو گیا ہے، انہوں نے کہا: تم میں سے ہر شخص اپنے ساتھ بیٹھے ہوئے ساتھی کا ہاتھ پکڑ کر (شناخت) کرے، سیدنا حذیفہ کہتے ہیں: میں نے (ذہانت سے کام لیتے ہوئے) فوراً اپنا ہاتھ اپنے دائیں جانب والے شخص کے ہاتھ پر مارا اور اس کا ہاتھ پکڑ لیا، پھر میں نے اپنا ہاتھ اپنے بائیں جانب والے شخص پر مارا اور اس کا ہاتھ تھام لیا (تاکہ وہ مجھ سے نہ پوچھ سکیں)۔ میں تھوڑی دیر ان میں ٹھہرا پھر وہاں سے اٹھ کر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوا، آپ صلی اللہ علیہ وسلم کھڑے نماز پڑھ رہے تھے، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ہاتھ سے مجھے قریب آنے کا اشارہ کیا، میں قریب ہوا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے پھر اشارہ کیا کہ اور قریب آ جاؤ، یہاں تک کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنی وہ چادر مجھ پر ڈال دی جو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے نماز کے دوران اوڑھ رکھی تھی، جب آپ صلی اللہ علیہ وسلم نماز سے فارغ ہوئے تو فرمایا: ”اے ابن یمان! بیٹھ جاؤ، کیا خبر لائے ہو؟“ میں نے عرض کیا: اے اللہ کے رسول! لوگ ابوسفیان کے پاس سے چھٹ چکے ہیں اور صرف ایک مختصر گروہ رہ گیا ہے جو آگ تاپ رہا ہے، اللہ تعالیٰ نے ان پر ویسی ہی سردی مسلط کر دی ہے جیسی ہم پر تھی، لیکن فرق یہ ہے کہ ہمیں اللہ سے وہ امیدیں (نصرت و ثواب) وابستہ ہیں جو انہیں نہیں ہیں۔
یہ حدیث صحیح الاسناد ہے لیکن شیخین نے اسے روایت نہیں کیا۔ [المستدرك على الصحيحين/كِتَابُ الْمَغَازِي وَالسَّرَايَا/حدیث: 4371]
یہ حدیث صحیح الاسناد ہے لیکن شیخین نے اسے روایت نہیں کیا۔ [المستدرك على الصحيحين/كِتَابُ الْمَغَازِي وَالسَّرَايَا/حدیث: 4371]
تخریج الحدیث: «حديث صحيح، وهذا إسناد وهم فيه عيسى بن عبد الله الطيالسي أو من دونه في تسمية شيخ أبي نعيم، فسمّاه يوسف بن عبد الله بن أبي بردة، وإنما هو يوسف بن صهيب كما في رواية أبي بكر بن أبي شيبة عن أبي نعيم، وكذلك رواه عُبيد الله بن موسى العبسي ...» [ترقيم الرساله 4371] [ترقيم الشركة 4348] [ترقيم العلميه 4325]
الحكم على الحديث: حديث صحيح