🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

Join Whatsapp Channel
المستدرك على الصحيحين سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم الرسالہ
ترقيم الشرکۃ
عربی لفظ
اردو لفظ
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

ترقیم الرساله سے تلاش کل احادیث (9018)
حدیث نمبر لکھیں:
ترقیم الشركة سے تلاش کل احادیث (8909)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:

47. اتَّخَذَهُ اللَّهُ نَبِيًّا وَاتَّخَذَهُ شَهِيدًا
اللہ تعالیٰ نے انہیں نبی بھی بنایا اور شہید بھی
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 4442
حدَّثنا أبو العباس محمد بن يعقوب، حدَّثنا أحمد بن عبد الجبار، حدَّثنا أبو معاوية عن الأعمش، عن عبد الله بن مُرَّة، عن أبي الأحوص، عن عبد الله قال: لأن أحلفَ تِسعًا أنَّ رسول الله ﷺ قُتِلَ قَتْلًا، أحبُّ إليَّ من أن أحلفَ واحدةً أنه لم يُقتل، وذلك أنَّ الله ﷿ اتخذه نبيًا واتخذه شهيدًا (1) .
هذا حديث صحيح على شرط الشيخين، ولم يُخرجاه.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 4394 - على شرط البخاري ومسلم
سیدنا عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، انہوں نے کہا: میں نو بار اس بات پر قسم کھاؤں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم (زہر کے اثر سے) شہید کیے گئے ہیں، تو یہ مجھے اس بات پر ایک بار قسم کھانے سے زیادہ محبوب ہے کہ آپ شہید نہیں ہوئے، اور یہ اس لیے ہے کہ اللہ عزوجل نے آپ کو منصبِ نبوت کے ساتھ ساتھ مقامِ شہادت پر بھی فائز فرمایا ہے۔
یہ حدیث شیخین کی شرط پر صحیح ہے لیکن انہوں نے اسے روایت نہیں کیا۔ [المستدرك على الصحيحين/كِتَابُ الْمَغَازِي وَالسَّرَايَا/حدیث: 4442]
تخریج الحدیث: «خبر صحيح، وهذا إسناد حسن من أجل أحمد بن عبد الجبار، وقد توبع أبو معاوية: هو محمد بن خازم الضرير والأعمش هو سليمان بن مهران وأبو الأحوص: هو عوف بن مالك الجُشمي.» [ترقيم الرساله 4442] [ترقيم الشركة 4419] [ترقيم العلميه 4394]

الحكم على الحديث: خبر صحيح
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 4443
فحدثنا أبو أحمد بكر بن محمد المَروَزي غيرَ مرة، حدَّثنا عبد الصمد بن الفَضْل البَلْخي، حدَّثنا مَكِّي بن إبراهيم، حدَّثنا داود بن يزيد الأَوْدِي، قال: سمعت الشَّعْبي يقول: والله لقد سُمَّ رسولُ الله ﷺ، وسُمَّ أبو بكر الصّدّيق، وقُتل عُمر بن الخطاب صَبْرًا، وقُتل عثمان بن عفّان صَبْرًا، وقُتل علي بن أبي طالب صَبْرًا، وسُمَّ الحسنُ بن علي، وقُتل الحسين بن علي صَبْرًا، فما نَرجُوا بعدَهم؟ (1) .
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 4395 - سكت عنه الذهبي في التلخيص
امام شعبی رحمہ اللہ فرماتے ہیں: اللہ کی قسم! رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو زہر دیا گیا، سیدنا ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ کو زہر دیا گیا، سیدنا عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ کو قید و بند کی حالت میں (اچانک) شہید کیا گیا، سیدنا عثمان بن عفان رضی اللہ عنہ کو مظلومانہ طور پر شہید کیا گیا، سیدنا علی بن ابی طالب رضی اللہ عنہ کو شہید کیا گیا، سیدنا حسن بن علی رضی اللہ عنہما کو زہر دیا گیا اور سیدنا حسین بن علی رضی اللہ عنہما کو مظلومانہ طور پر شہید کیا گیا، تو ان (عظیم ہستیوں) کے بعد اب ہم (دنیا سے) کیا امید رکھیں؟ [المستدرك على الصحيحين/كِتَابُ الْمَغَازِي وَالسَّرَايَا/حدیث: 4443]
تخریج الحدیث: «ضعيف لضعف داود بن يزيد الأودي، وسيتكرر برقم (4460) لكن بذكر السّري بن إسماعيل بدل الأودي، وهو متروك الحديث.» [ترقيم الرساله 4443] [ترقيم الشركة 4420] [ترقيم العلميه 4395]

الحكم على الحديث: ضعيف لضعف داود بن يزيد الأودي
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 4444
حدّثني أبو بكر محمد بن أحمد بن بالَوَيهِ، حدَّثنا عبد الله بن أحمد بن حَنبل، حدّثني أبي، حدَّثنا عبد الرزاق، أخبرنا معمر، عن ثابت عن أنس: أنَّ فاطمةَ بنت رسول الله ﷺ بَكَتْ رسولَ الله ﷺ فقالت: يا أَبَتاه مِن رَبِّه ما أدناه، يا أَبَتاه إلى جبريلَ أَنْعاه، يا أَبَتاه جنةُ الفردَوس مأواه (2) .
هذا حديث صحيح على شرط الشيخين، ولم يُخرجاه.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 4396 - على شرط البخاري ومسلم
سیدنا انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ سیدہ فاطمہ رضی اللہ عنہا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے (وصال پر) گریہ و زاری کرتے ہوئے کہتی تھیں: ہائے ابا جان! جو اپنے رب کے کتنے قریب ہو گئے، ہائے ابا جان! میں جبریل علیہ السلام کو ان کی وفات کی خبر دیتی ہوں، ہائے ابا جان! جنت الفردوس اب ان کا ٹھکانا ہے۔
یہ حدیث شیخین کی شرط پر صحیح ہے لیکن انہوں نے اسے روایت نہیں کیا۔ [المستدرك على الصحيحين/كِتَابُ الْمَغَازِي وَالسَّرَايَا/حدیث: 4444]
تخریج الحدیث: «إسناده صحيح،معمر: هو ابن راشد الصَّنْعاني، وثابت: هو ابن أسلم البُناني.» [ترقيم الرساله 4444] [ترقيم الشركة 4421] [ترقيم العلميه 4396]

الحكم على الحديث: إسناده صحيح
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں