🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

المستدرك على الصحيحين سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم الرسالہ
ترقيم الشرکۃ
عربی لفظ
اردو لفظ
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

ترقیم الرساله سے تلاش کل احادیث (9018)
حدیث نمبر لکھیں:
ترقیم الشركة سے تلاش کل احادیث (8909)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:

46. تَعْزِيَةُ الْخَضِرِ عِنْدَ وَفَاتِهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ
نبی کریم ﷺ کی وفات پر حضرت خضر علیہ السلام کی تعزیت
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 4440
حدَّثنا أبو بكر محمد بن أحمد بن بالوَيهِ، حدَّثنا محمد بن بشر بن مَطَر، حدَّثنا كامل بن طلحة، حدَّثنا عباد بن عبد الصمد، عن أنس بن مالك، قال: لما قُبضَ رسولُ الله ﷺ أحدَقَ به أصحابُه، فبَكَوا حولهَ واجتمعُوا، فدخل رجلٌ أصهبُ اللحيةِ جَسِيمٌ صَبِيحٌ فتَخَطَّا رِقابَهم، فبَكى ثم الْتفتَ إلى أصحابِ رسولِ الله ﷺ فقال: إِنَّ في الله عَزاءً من كلِّ مُصيبةٍ، وعِوَضًا من كل فائتٍ وخَلَفًا من كل هالِكٍ، فإلى الله فأنِيبُوا، وإليه فارغَبُوا، ونظرةً إليكم في البَلاء فانظُروا، فإنما المُصابُ من لم يُجبَر، وانصرف، فقال بعضُهم لبعض: تَعرِفُون الرجل؟ قال أبو بكر وعليّ: نعم، هذا أخو رسولِ الله ﷺ، الخَضِرُ ﵇ (1) . هذا شاهِدٌ لما تقدّم، وإن كان عبّاد بن عبد الصمد ليس من شَرْط هذا الكتاب.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 4392 - هذا شاهد لما قبله
سیدنا انس بن مالک رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں: جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا انتقال ہوا تو صحابہ کرام رضی اللہ عنہم نے آپ کو چاروں طرف سے گھیر لیا، جب سب جمع ہو گئے اور رونے لگے تو ایک آدمی وہاں پر آیا جس کی داڑھی سرخی مائل سفید تھی، بہت خوبصورت اور جسیم آدمی تھا۔ یہ لوگوں کی گردنیں پھلانگتا ہوا آیا اور خود بھی رو دیا، پھر یہ صحابہ کرام رضی اللہ عنہم کی جانب متوجہ ہو کر بولا: بے شک اللہ تعالیٰ ہر مصیبت میں سہارا دیتا ہے، ہر ضائع ہونے والی چیز کا عوض دیتا ہے اور ہر فوت ہونے والے کا نائب بناتا ہے، پس تم اللہ ہی کی طرف رجوع کرو اور اسی کی طرف توجہ رکھو، وہ آزمائش میں تمہارے اوپر نگاہ کرم کرے گا۔ اور تم غور کرو، کہ مصیبت زدہ تو وہ ہے جس کے نقصان کی تلافی نہ ہو۔ پھر وہ چلا گیا، تو صحابہ کرام رضی اللہ عنہم ایک دوسرے سے کہنے لگے: کیا تم لوگ اس آدمی کو جانتے ہو؟ تو سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ اور سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے فرمایا: جی ہاں۔ یہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے بھائی سیدنا خضر علیہ السلام ہیں۔ ٭٭ یہ حدیث گزشتہ حدیث کی شاہد ہے اگرچہ عباد بن عبدالصمد اس کتاب کے معیار کے راوی نہیں ہیں۔ [المستدرك على الصحيحين/كِتَابُ الْمَغَازِي وَالسَّرَايَا/حدیث: 4440]

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 4441
أخبرني أبو بكر أحمد بن محمد بن يحيى الأشْقَر، حدَّثنا يوسف بن موسى المَرُّوذِي (1) ، حدَّثنا أحمد بن صالح، حدَّثنا عَنْبَسة، حدَّثنا يُونس، عن ابن شِهَاب، قال: قال عُرْوة: كانت عائشةُ تقول: كان رسولُ الله ﷺ يقولُ في مرضِه الذي تُوفِّي فيه:"يا عائشةُ، إني أجدُ ألمَ الطعامِ الذي أكلتُه بخَيبرَ، فهذا أوانُ انقطاعِ أَبْهَري من ذلك السُّمِّ" (2) .
هذا حديث صحيح على شرط الشيخين، وقد أخرجه البخاريُّ، قال: وقال يُونس.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 4393 - على شرط البخاري ومسلم
ام المومنین سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم مرض الموت میں فرمایا کرتے تھے: اے عائشہ رضی اللہ عنہا! مجھے زہر کا ذائقہ محسوس ہو رہا ہے جو خیبر میں مجھے کھلایا گیا تھا اور اس وقت اسی زہر کے اثر کی وجہ سے میری شہ رگ کٹتی جا رہی ہے۔ ٭٭ یہ حدیث شیخین رحمۃ اللہ علیہما کے معیار کے مطابق ہے اور امام بخاری رحمۃ اللہ علیہ نے اس کو یونس کے حوالے سے نقل کیا ہے۔ [المستدرك على الصحيحين/كِتَابُ الْمَغَازِي وَالسَّرَايَا/حدیث: 4441]

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں