المستدرك على الصحيحين سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم الرسالہ
ترقيم الشرکۃ
عربی لفظ
اردو لفظ
15. رُؤْيَا نُزُولِ الْمِيزَانِ وَوَزْنِ الْخُلَفَاءِ .
خواب میں میزان کے نازل ہونے اور خلفاء کے تولے جانے کا بیان
حدیث نمبر: 4486
أخبرني أبو عبد الرحمن بن أبي الوزير التاجر، حدثنا أبو حاتم الرازي، حدثنا محمد بن عبد الله الأنصاري، حدثنا أشعث بن عبد الملك الحُمْراني، عن الحسن، عن أبي بكرة، أنَّ النبي ﷺ قال:"مَن رأى مِنكُم رؤيا؟" فقال رجلٌ: أنا رأيتُ كأنَّ مِيزانًا نَزَلَ من السماء، فوُزِنتَ أنتَ وأبو بكر فرجَحْتَ أنتَ بأبي بكر، ووُزِنَ عمر وأبو بكر فرجَحَ أبو بكر، ووُزِنَ عمرُ وعثمانُ فرجَحَ عُمر، ثم رُفع الميزانُ، فرأينا الكراهيةَ في وجْهِ رسول الله ﷺ (2) .
هذا حديث صحيح على شرط الشيخين، ولم يُخرجاه. وشاهدُه حديث سعيد بن جُمْهان عن سَفينة الذي:
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 4437 - أشعث بن عبد الملك هذا ثقة لكن ما احتجا به
هذا حديث صحيح على شرط الشيخين، ولم يُخرجاه. وشاهدُه حديث سعيد بن جُمْهان عن سَفينة الذي:
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 4437 - أشعث بن عبد الملك هذا ثقة لكن ما احتجا به
سیدنا ابوبکرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے دریافت فرمایا: ”تم میں سے کسی نے کوئی خواب دیکھا ہے؟“ ایک شخص نے عرض کیا: میں نے دیکھا ہے کہ گویا آسمان سے ایک ترازو اترا، پھر آپ کا اور ابوبکر کا وزن کیا گیا تو آپ کا پلڑا ابوبکر سے بھاری رہا، پھر ابوبکر اور عمر کا وزن کیا گیا تو ابوبکر کا پلڑا بھاری رہا، پھر عمر اور عثمان کا وزن کیا گیا تو عمر کا پلڑا بھاری رہا، پھر وہ ترازو اٹھا لیا گیا۔ (یہ سن کر) ہم نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے چہرہ مبارک پر ناگواری کے آثار دیکھے۔
یہ حدیث شیخین کی شرط پر صحیح ہے لیکن انہوں نے اسے روایت نہیں کیا، اور اس کی شاہد حدیث سعید بن جمہان کی روایت ہے جو انہوں نے سفینہ رضی اللہ عنہ سے نقل کی ہے۔ [المستدرك على الصحيحين/كِتَابُ مَعْرِفَةِ الصَّحَابَةِ رَضِيَ اللهُ تَعَالَى عَنْهُمْ/حدیث: 4486]
یہ حدیث شیخین کی شرط پر صحیح ہے لیکن انہوں نے اسے روایت نہیں کیا، اور اس کی شاہد حدیث سعید بن جمہان کی روایت ہے جو انہوں نے سفینہ رضی اللہ عنہ سے نقل کی ہے۔ [المستدرك على الصحيحين/كِتَابُ مَعْرِفَةِ الصَّحَابَةِ رَضِيَ اللهُ تَعَالَى عَنْهُمْ/حدیث: 4486]
تخریج الحدیث: «إسناده صحيح، والحسن» [ترقيم الرساله 4486] [ترقيم الشركة 4463] [ترقيم العلميه 4437]
الحكم على الحديث: إسناده صحيح