🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

Join Whatsapp Channel
المستدرك على الصحيحين سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم الرسالہ
ترقيم الشرکۃ
عربی لفظ
اردو لفظ
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

ترقیم الرساله سے تلاش کل احادیث (9018)
حدیث نمبر لکھیں:
ترقیم الشركة سے تلاش کل احادیث (8909)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:

55. ذِكْرُ بَعْضِ خُصُوصِيَّاتِ عُثْمَانَ - رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ - .
سیدنا عثمان رضی اللہ تعالیٰ عنہ کی بعض خصوصیات کا بیان
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 4588
أخبرنا أبو عبد الله محمد بن يعقوب، حَدَّثَنَا يحيى بن محمد بن يحيى، حَدَّثَنَا مُسدَّد، حَدَّثَنَا المُعتمِر بن سليمان، قال: سمعت كُليب بن وائل، قال: حدثني حَبيب بن أبي مُلَيكة قال: جاء رجلٌ إلى ابن عمر، فقال: أَشَهِدَ عثمانُ بيعة الرِّضْوان؟ قال: لا، قال: فشَهِدَ بدرًا، قال: لا، قال فكان ممَّن استزلَّه الشيطانُ؟ قال: نعم، فقام الرجل: فقال له بعضُ القوم: إِنَّ هذا يَزعُم الآن أنك وقعتَ في عثمان، قال: كذلك يقول؟ قال: رُدُّوا عليَّ الرجلَ، فقال: عَقَلتَ ما قلتُ لك؟ قال: نعم، سألتُك هل شهدَ عثمانُ بيعةَ الرِّضوان؟ فقلت: لا، وسألتُك هل شهِد بدرًا؟ فقلت: لا، وسألتك هل كان ممَّن استزلَّه الشيطانُ؟ فقلت: نعم، فقال: أما بيعةُ الرِّضْوان، فإِنَّ رسولَ الله ﷺ قام فقال:"إنَّ عثمانَ انطلقَ في حاجةِ اللهِ وحاجةِ رسوله، وإني أُبايعُ له" فضرب إحدى يدَيه على الأخرى، وأما يوم بدرٍ، فإنَّ نبيَّ الله ﷺ قام فقال:"إنَّ عثمان انطَلَق في حاجةِ اللهِ وحاجةِ رسولِه" فضربَ له بسهمٍ، ولم يضربْ لأحدٍ غابَ غيرَه، وأما الذين تَولَّوا يوم التقى الجَمْعَانِ ﴿إِنَّمَا اسْتَزَلَّهُمُ الشَّيْطَانُ بِبَعْضِ مَا كَسَبُوا وَلَقَدْ عَفَا اللَّهُ عَنْهُمْ إِنَّ اللَّهَ غَفُورٌ حَلِيمٌ﴾ [آل عمران: 155] (1) .
هذا حديث صحيح الإسناد، ولم يُخرجاه.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 4538 - صحيح
سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ ان کے پاس ایک شخص آیا اور اس نے سوال کیا: کیا عثمان (رضی اللہ عنہ) بیعتِ رضوان میں شریک تھے؟ انہوں نے جواب دیا: نہیں، پھر اس نے پوچھا: کیا وہ بدر میں شریک تھے؟ انہوں نے کہا: نہیں، اس نے پوچھا: کیا وہ ان لوگوں میں سے تھے جنہیں (جنگِ احد میں) شیطان نے لغزش میں ڈال دیا تھا؟ انہوں نے کہا: ہاں۔ وہ شخص اٹھ کھڑا ہوا، تو حاضرین میں سے کسی نے ابن عمر رضی اللہ عنہما سے کہا: یہ شخص اب یہ دعویٰ کر رہا ہے کہ آپ نے عثمان رضی اللہ عنہ پر طعن کیا ہے۔ ابن عمر رضی اللہ عنہما نے پوچھا: کیا وہ ایسا کہہ رہا ہے؟ اس شخص کو میرے پاس واپس لاؤ۔ جب وہ آیا تو آپ نے اس سے پوچھا: جو کچھ میں نے تمہیں بتایا کیا تم نے اس کی حقیقت کو سمجھا بھی ہے؟ اس نے کہا: جی ہاں، میں نے آپ سے عثمان (رضی اللہ عنہ) کی بیعتِ رضوان میں شرکت کا پوچھا تو آپ نے نفی کی، بدر کی شرکت کا پوچھا تو آپ نے نفی کی، اور شیطان کے لغزش دینے کا پوچھا تو آپ نے اقرار کیا۔ تب ابن عمر رضی اللہ عنہما نے وضاحت فرمائی: جہاں تک بیعتِ رضوان کا معاملہ ہے، تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے خود کھڑے ہو کر فرمایا تھا: بے شک عثمان اللہ اور اس کے رسول کی ایک ضرورت (مشن) کے لیے گئے ہوئے ہیں، اور میں ان کی طرف سے بیعت کرتا ہوں، پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنا ایک ہاتھ دوسرے پر مار کر (ان کی طرف سے بیعت لی)۔ اور جہاں تک جنگِ بدر کا تعلق ہے، تو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے کھڑے ہو کر فرمایا تھا: بے شک عثمان اللہ اور اس کے رسول کی ضرورت (مشن) کے لیے گئے ہوئے ہیں، چنانچہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے (مالِ غنیمت میں) ان کا حصہ مقرر فرمایا، جبکہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کے علاوہ کسی بھی غیر حاضر شخص کا حصہ مقرر نہیں فرمایا تھا۔ اور جہاں تک ان لوگوں کا ذکر ہے جو (احد کے دن) دو گروہوں کے ٹکراؤ کے وقت پیٹھ پھیر گئے تھے (تو ان کے بارے میں اللہ کا فرمان ہے): ﴿إِنَّمَا اسْتَزَلَّهُمُ الشَّيْطَانُ بِبَعْضِ مَا كَسَبُوا وَلَقَدْ عَفَا اللَّهُ عَنْهُمْ إِنَّ اللَّهَ غَفُورٌ حَلِيمٌ﴾ شیطان نے انھیں ان بعض اعمال ہی کی وجہ سے پھسلایا جو انھوں نے کیے تھے اور بلاشبہ یقینا اللہ نے انھیں معاف کر دیا، بے شک اللہ بے حد بخشنے والا، نہایت بردبار ہے۔ [سورة آل عمران: 155] (یعنی جب اللہ نے معاف کر دیا تو اب کسی کو اعتراض کا حق نہیں)۔
یہ حدیث صحیح الاسناد ہے لیکن شیخین نے اسے روایت نہیں کیا۔ [المستدرك على الصحيحين/كِتَابُ مَعْرِفَةِ الصَّحَابَةِ رَضِيَ اللهُ تَعَالَى عَنْهُمْ/حدیث: 4588]
تخریج الحدیث: «إسناده صحيح،مسدَّد: هو ابن مُسَرْهَد.» [ترقيم الرساله 4588] [ترقيم الشركة 4564] [ترقيم العلميه 4538]

الحكم على الحديث: إسناده صحيح
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 4589
حَدَّثَنَا أبو بكر أحمد بن سلْمان الفقيه، حَدَّثَنَا أبو داود سليمان بن الأشعث، حَدَّثَنَا موسى بن إسماعيل، حَدَّثَنَا حمّاد بن سَلَمة، حَدَّثَنَا الجَريري، عن عبد الله بن شَقِيق، عن عبد الله بن حَوَالة، قال: قال رسول الله ﷺ ذاتَ يومٍ:"تَهجُمون على رجلٍ مُعتَجِرٍ ببُردةٍ يُبايِعُ الناسَ مِن أهلِ الجنةِ"، فَهَجَمْتُ على عثمانَ وهو مُعتَجِرٌ ببردةِ حِبَرَة يُبايع الناسَ (2) .
هذا حديث صحيح الإسناد، ولم يُخرجاه.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 4539 - صحيح
سیدنا عبداللہ بن حوالہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک دن فرمایا: عنقریب تم ایک ایسے شخص کے پاس پہنچو گے جس نے چادر (سر اور کندھوں پر) اوڑھ رکھی ہوگی اور وہ لوگوں سے بیعت لے رہا ہوگا، اور وہ جنتیوں میں سے ہے۔ (ابن حوالہ کہتے ہیں:) پھر میں اچانک سیدنا عثمان رضی اللہ عنہ کے پاس پہنچا جبکہ انہوں نے یمنی دھاری دار چادر اوڑھ رکھی تھی اور وہ لوگوں سے بیعت لے رہے تھے۔
یہ حدیث صحیح الاسناد ہے لیکن شیخین نے اسے روایت نہیں کیا۔ [المستدرك على الصحيحين/كِتَابُ مَعْرِفَةِ الصَّحَابَةِ رَضِيَ اللهُ تَعَالَى عَنْهُمْ/حدیث: 4589]
تخریج الحدیث: «إسناده صحيح،الجُريري: هو سعيد بن إياس.» [ترقيم الرساله 4589] [ترقيم الشركة 4565] [ترقيم العلميه 4539]

الحكم على الحديث: إسناده صحيح
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں