🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

المستدرك على الصحيحين سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم الرسالہ
ترقيم الشرکۃ
عربی لفظ
اردو لفظ
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

ترقیم الرساله سے تلاش کل احادیث (9018)
حدیث نمبر لکھیں:
ترقیم الشركة سے تلاش کل احادیث (8909)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:

59. ذِكْرُ مَنْ نَجَا مِنْ ثَلَاثٍ فَقَدْ نَجَا .
اس شخص کا ذکر جو تین چیزوں سے بچ گیا وہ واقعی بچ گیا
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 4598
حَدَّثَنَا أبو العباس محمد بن يعقوب، حَدَّثَنَا أبو عبد الله محمد بن عبد الله بن عبد الحَكَم المصري، حدثني أبي وشعيب بن الليث، قالا: حَدَّثَنَا الليث، عن يزيد بن أبي حَبيب، عن رَبيعة بن لَقِيط التُّجِيبي، عن عبد الله بن حَوَالة الأسَدي، عن رسول الله ﷺ، قال:"مَن نَجا من ثلاثٍ فقد نَجا" قالوا: ماذا يا رسول الله؟ قال:"مَوتي، وقتلِ خليفةٍ مُصطَبِرٍ بالحقِّ يُعطِيه، ومن الدّجّال" (1) . صحيح الإسناد، ولم يُخرجاه.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 4548 - صحيح
سیدنا عبداللہ بن حوالہ اسدی رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جو شخص تین فتنوں سے بچ گیا وہ (حقیقت میں) نجات پا گیا،“ صحابہ نے عرض کیا: اے اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم ! وہ کیا ہیں؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”میری وفات، حق پر ثابت قدمی کے ساتھ قائم رہنے والے اس خلیفہ کا قتل جو لوگوں کو ان کے حقوق دیتا ہو، اور فتنہ دجال۔“
یہ حدیث صحیح الاسناد ہے، لیکن شیخین نے اسے روایت نہیں کیا۔ [المستدرك على الصحيحين/كِتَابُ مَعْرِفَةِ الصَّحَابَةِ رَضِيَ اللهُ تَعَالَى عَنْهُمْ/حدیث: 4598]
تخریج الحدیث: «إسناده حسن من أجل ربيعة بن لَقيط التُّجيبي، فقد روى عنه جمع ووثقه العجلي، وذكره ابن حبان في "الثقات"، وقال: روى عنه أهل مصر.» [ترقيم الرساله 4598] [ترقيم الشركة 4574] [ترقيم العلميه 4548]

الحكم على الحديث:
إسناده حسن من أجل ربيعة بن لَقيط التُّجيبي
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 4599
أخبرني أبو جعفر محمد بن علي بن دُحَيم الشَّيباني بالكوفة، حَدَّثَنَا أحمد بن حازم بن أبي غَرَزَة، حَدَّثَنَا أبو نُعيم، حَدَّثَنَا شَريك، عن منصور، عن رِبْعيّ بن حِراش، عن البراء بن ناجِيةَ، قال: قال عبد الله: قال رسول الله ﷺ:"إِنَّ رَحَى الإسلام ستدُور بعد خمسٍ وثلاثين أو ستٍّ وثلاثين أو سبعٍ وثلاثين سنةً، فإن يَهْلِكُوا فَسَبيلُ مَن هَلَك، وإن بقيَ لهم دينُهم يَقُمْ سبعين" قال عمر: يا نبي الله، بما مضى أو بما بقي؟ قال:"لا، بل بما بَقِي" (2) .
هذا حديث صحيح على شرط مسلم، وفيه البيانُ الواضحُ لمقتل عثمانَ كما قدمتُ ذكرَه من تاريخ المقتل سنة خمسٍ وثلاثين.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 4549 - على شرط مسلم
سیدنا عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اسلام کی چکی پینتیس، چھتیس یا سینتیس سال بعد (فتنوں کے گرداب میں) گھومے گی، پس اگر وہ لوگ ہلاک ہوئے تو یہ ہلاک ہونے والوں کی راہ ہوگی اور اگر ان کا دین ان کے لیے باقی رہا تو وہ ستر سال تک قائم رہے گا،“ سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے عرض کیا: اے اللہ کے نبی صلی اللہ علیہ وسلم ! یہ مدت گزرے ہوئے سالوں کے حساب سے ہے یا بقایا سالوں کے؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”نہیں، بلکہ بقایا سالوں کے حساب سے۔“
یہ حدیث امام مسلم کی شرط پر صحیح ہے، اور اس میں سیدنا عثمان رضی اللہ عنہ کی شہادت کا واضح بیان موجود ہے جیسا کہ میں نے پہلے ذکر کیا کہ آپ کی شہادت کی تاریخ سن 35 ہجری ہے۔ [المستدرك على الصحيحين/كِتَابُ مَعْرِفَةِ الصَّحَابَةِ رَضِيَ اللهُ تَعَالَى عَنْهُمْ/حدیث: 4599]
تخریج الحدیث: «حديث صحيح، وهذا إسناد محتمل للتحسين من أجل البراء بن ناجية، فهو تابعيّ كبير، وروى عنه تابعيّ كبير، ووثقه العجلي، وذكره ابن حبان في "الثقات"، ووثقه الحافظ ابن حجر في "التقريب"، وذكره البلاذُري في "أنساب الأشراف" 11/ 203، وأنه روى عن علي، وقد رُوي هذا الخبر من وجه آخر عن ...» [ترقيم الرساله 4599] [ترقيم الشركة 4575] [ترقيم العلميه 4549]

الحكم على الحديث:
حديث صحيح
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 4600
حَدَّثَنَا أبو بكر بن بالَوَيهِ، حَدَّثَنَا إبراهيم بن إسحاق الحَرْبي، حَدَّثَنَا مصعب بن عبد الله الزُّبيري قال: الوليد بن عُقبة بن أبي مُعَيط بن عمرو بن أُمية بن عبد شَمس، وكان أخا عثمانَ لأمِّه، وأمُّهما أَروى بنت كُريز بن ربيعة بن عبد شمس، وأمُّها أمُّ حَكيم البيضاءُ بنت عبد المطلب بن عبد مَناف عمةُ رسول الله ﷺ، قَتَل النَّبِيّ ﷺ عُقبة بن أبي مُعَيط في رجوعه، وكان الوليد في زمن رسول الله ﷺ رجلًا، وكان يُكنى أبا وَهْبٍ (1) .
ابراہیم بن اسحاق حربی سے مروی ہے کہ ولید بن عقبہ بن ابی معیط بن عمرو بن امیہ بن عبد شمس، سیدنا عثمان رضی اللہ عنہ کے مادری بھائی تھے، ان دونوں کی والدہ اروی بنت کریز بن ربیعہ بن عبد شمس تھیں، اور اروی کی والدہ ام حکیم البیضاء بنت عبدالمطلب بن عبدمناف تھیں جو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی پھوپھی تھیں، نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے (غزوہ بدر سے) واپسی پر عقبہ بن ابی معیط کو قتل کروایا تھا، جبکہ ولید رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے عہدِ مبارک میں ایک مردِ کامل (بالغ) تھے اور ان کی کنیت ابوہب تھی۔ [المستدرك على الصحيحين/كِتَابُ مَعْرِفَةِ الصَّحَابَةِ رَضِيَ اللهُ تَعَالَى عَنْهُمْ/حدیث: 4600]
تخریج الحدیث: [ترقيم الرساله 4600] [ترقيم الشركة 4576]

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 4601
حَدَّثَنَا أبو النَّضر الفقيه وأبو الحسن العَنَزي، قالا: حَدَّثَنَا عثمان بن سعيد الدارمي، حَدَّثَنَا يزيد بن عبد ربّه (2) الجِرْجِسيّ (3) ، حَدَّثَنَا محمد بن حرب، عن الزُّبيدي، عن الزُّهْري، عن عمرو بن أبان بن عثمان، عن جابر بن عبد الله، قال: قال رسول الله ﷺ:"أُريَ الليلةَ رجلٌ صالحٌ أنَّ أبا بكر نِيطَ برسُول الله، ونِيطَ عمرٌ بأبي بكرٍ، ونِيطُ عثمانُ بعمرَ"، فلما قُمْنا من عند رسول الله ﷺ قلنا: أما الرجلُ الصالحُ فرَسولُ الله ﷺ، وأما ما ذَكر من نَوْط بعضِهم ببعض، فهُم وُلاةُ هذا الأمرِ الذي بعثَ اللهُ به نبيَّه ﷺ (4) . قال الدارمي: فسمعتُ يحيى بن مَعِين يقول: محمد بن حَرْب يُسنِد هذا الحديثَ، والناسُ يُحدّثون به عن الزُّهْري مرسلًا (5) ، إنما هو عُمر بن أبانَ، ولم يكن لأبان بن عثمان ابنٌ يقال له: عَمرو (6) .
سیدنا جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”آج رات ایک صالح شخص کو خواب دکھایا گیا ہے کہ ابوبکر کو رسول اللہ کے ساتھ جوڑ دیا گیا ہے، اور عمر کو ابوبکر کے ساتھ، اور عثمان کو عمر کے ساتھ پیوستہ کر دیا گیا ہے،“ (جابر رضی اللہ عنہ کہتے ہیں) جب ہم رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس سے اٹھے تو ہم نے آپس میں کہا کہ وہ ”صالح شخص“ تو خود رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ہی ہیں، اور جہاں تک ان کے ایک دوسرے سے پیوستہ ہونے کا ذکر ہے، تو اس سے مراد یہ ہے کہ یہی وہ لوگ اس امرِ خلافت کے والی ہوں گے جسے اللہ نے اپنے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ مبعوث فرمایا ہے۔
امام دارمی کہتے ہیں کہ میں نے یحییٰ بن معین کو یہ کہتے سنا کہ محمد بن حرب اس حدیث کو مسنداً روایت کرتے ہیں جبکہ دیگر لوگ اسے امام زہری سے مرسلاً روایت کرتے ہیں، اور (سند میں) یہ عمر بن ابان ہیں کیونکہ ابان بن عثمان کے کسی بھی بیٹے کا نام عمرو نہیں تھا۔ [المستدرك على الصحيحين/كِتَابُ مَعْرِفَةِ الصَّحَابَةِ رَضِيَ اللهُ تَعَالَى عَنْهُمْ/حدیث: 4601]
تخریج الحدیث: «إسناده محتمل للتحسين كما تقدم بيانه برقم (4488) إذ تقدَّم الحديث ثمة من طريق موسى بن هارون البُردي عن محمد بن حرب.» [ترقيم الرساله 4601] [ترقيم الشركة 4577]

الحكم على الحديث:
إسناده محتم
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 4602
حدثني محمد بن صالح بن هانئ، حَدَّثَنَا الحسين بن الفضل البَجَلي، حَدَّثَنَا عفان، حَدَّثَنَا وُهَيب، حَدَّثَنَا أيوب، عن أبي قِلابَة، عن أبي الأَشْعَث، عن مُرّة بن كعب قال: سمعت رسول الله ﷺ يذكر فتنةً فقرَّبَها، فمرَّ به رجلٌ مُقنَّع فِي ثَوبٍ، فقال:"هذا يومئذٍ على الهُدى" فقمتُ إليه فإذا هو عثمانُ بن عفّان، فأقبلتُ إليه بوجهِه، فقلت: هو هذا؟ قال:"نعم" (1) .
هذا حديث صحيح على شرط الشيخين ولم يُخرجاه.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 4552 - على شرط البخاري ومسلم
سیدنا مرہ بن کعب رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، انہوں نے کہا کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو ایک فتنے کا ذکر فرماتے ہوئے سنا جس کے قریب ہونے کے متعلق آپ صلی اللہ علیہ وسلم بتا رہے تھے، اسی دوران ایک شخص گزرا جس نے اپنا سر کپڑے سے ڈھانپ رکھا تھا، تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”یہ شخص اس دن (فتنے کے وقت) ہدایت پر ہو گا۔“ پس میں اٹھ کر اس شخص کی طرف گیا تو وہ سیدنا عثمان بن عفان رضی اللہ عنہ تھے، میں نے ان کا رخ (نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی طرف) کر کے پوچھا: کیا یہ وہی شخص ہے؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جی ہاں۔“
یہ حدیث امام بخاری اور امام مسلم کی شرط پر صحیح ہے لیکن شیخین نے اسے روایت نہیں کیا۔ [المستدرك على الصحيحين/كِتَابُ مَعْرِفَةِ الصَّحَابَةِ رَضِيَ اللهُ تَعَالَى عَنْهُمْ/حدیث: 4602]
تخریج الحدیث: «إسناده صحيح،عفان: هو ابن مسلم الصَّفّار، ووُهَيب: هو ابن خالد، وأبو قلابة: هو عبد الله بن زيد الجَرْمي، وأبو الأشعث: هو شراحيل بن آده.» [ترقيم الرساله 4602] [ترقيم الشركة 4578] [ترقيم العلميه 4552]

الحكم على الحديث:
إسناده صحيح
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں