المستدرك على الصحيحين سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم الرسالہ
ترقيم الشرکۃ
عربی لفظ
اردو لفظ
64. ذِكْرُ أَسْمَاءِ قَاتِلِي عُثْمَانَ - رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ -
سیدنا عثمان رضی اللہ تعالیٰ عنہ کے قاتلوں کے ناموں کا ذکر
حدیث نمبر: 4617
أخبرنا عبد الله بن إسحاق الخُراساني، حَدَّثَنَا عبد الله بن رَوْح المَدَائني، حَدَّثَنَا شَبَابة بن سَوّار، حَدَّثَنَا محمد بن طلحة، حَدَّثَنَا كِنانة العَدَوي (1) ، قال: كنتُ فيمن حاصَرَ عثمانَ، قال: قلت: محمدُ بن أبي بكر قتلَه؟ قال: لا، قتلَه جَبَلة بن الأَيْهَم رجلٌ من أهل مِصر (2) . قال: وقيل: قتله قُتَيرة (3) السَّكُوني، فقُتل في الوقت، وقيل: قتلَه كِنانةُ بن بِشْر التُّجِيبي، ولعلهم اشتركُوا في قتله لعنهم الله. وقال الوليد بن عُقبة: ألا إنَّ خيرَ الناسِ بعدَ نبيِّهِ … قَتِيلُ التُّجِيبيّ الذي جاء مِن مصرِ يعني بالتُّجيبي قاتلَ عثمان.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 4568 - سكت عنه الذهبي في التلخيص
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 4568 - سكت عنه الذهبي في التلخيص
کنانہ عدوی سے روایت ہے، انہوں نے کہا: میں ان لوگوں میں شامل تھا جنہوں نے سیدنا عثمان رضی اللہ عنہ کا محاصرہ کیا ہوا تھا، وہ کہتے ہیں کہ میں نے پوچھا: کیا محمد بن ابی بکر نے انہیں قتل کیا؟ انہوں نے کہا: نہیں، بلکہ اہل مصر کے ایک شخص جبلہ بن ایہم نے انہیں قتل کیا، راوی کہتے ہیں: اور ایک قول یہ ہے کہ انہیں قتیرہ سکونی نے قتل کیا جو اسی وقت مارا گیا، اور یہ بھی کہا گیا ہے کہ انہیں کنانہ بن بشر تجیبی نے قتل کیا، اور شاید ان سب نے مل کر ان کے قتل میں شرکت کی تھی، اللہ ان پر لعنت کرے، اور ولید بن عقبہ نے (اس پر) یہ اشعار کہے: ”خبردار! اپنے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے بعد لوگوں میں سب سے بہتر وہ شخص ہے جسے مصر سے آنے والے اس تجیبی نے شہید کر دیا،“ یہاں تجیبی سے مراد عثمان رضی اللہ عنہ کا قاتل ہے۔ [المستدرك على الصحيحين/كِتَابُ مَعْرِفَةِ الصَّحَابَةِ رَضِيَ اللهُ تَعَالَى عَنْهُمْ/حدیث: 4617]
تخریج الحدیث: «إسناده حسن كسابقه، وكنانة: هو مولى صفية، ومحمد بن طلحة: هو ابن مُصرِّف.» [ترقيم الرساله 4617] [ترقيم الشركة 4594] [ترقيم العلميه 4568]
الحكم على الحديث: إسناده حسن كسابقه
حدیث نمبر: 4618
أخبرنا أبو عبد الله محمد بن عبد الله الصَّفّار، حَدَّثَنَا أحمد بن مِهْران الأصبهاني، حَدَّثَنَا عبيد الله بن موسى، حدثني أبو سِيْدان عُبيد (1) بن طُفيل: حدثني رِبْعيّ بن حِراش، عن عُثمان بن عفّان: أنه خَطَبَ إلى عمرَ ابنتَه، فردَّه، فبلغ ذلك النَّبِيّ ﷺ، فلما أن راحَ إليه عمرُ قال:"يا عُمرُ، أدلُّك على خَتَنٍ خيرٍ لك من عُثمان، وأدلُّ عُثمانَ على خَتَنٍ (2) خيرٍ له مِنكَ" قال: نعم يا رسول الله، قال:"زَوِّجْني ابنتَك، وأُزوِّجُ عثمانَ ابنتي" (3) .
هذا حديث صحيح الإسناد، ولم يُخرجاه.
هذا حديث صحيح الإسناد، ولم يُخرجاه.
سیدنا عثمان بن عفان رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ انہوں نے سیدنا عمر رضی اللہ عنہ کی صاحبزادی کا رشتہ مانگا لیکن انہوں نے انکار کر دیا، یہ بات نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم تک پہنچی، تو جب عمر رضی اللہ عنہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوئے تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اے عمر! کیا میں تمہیں ایسا داماد نہ بتاؤں جو تمہارے لیے عثمان سے بہتر ہو، اور عثمان کو ایسا سسر نہ بتاؤں جو ان کے لیے تم سے بہتر ہو؟“ انہوں نے عرض کیا: جی ہاں، اے اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم ! آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”تم اپنی صاحبزادی کا نکاح مجھ سے کر دو، اور میں اپنی صاحبزادی کا نکاح عثمان سے کر دوں گا۔“
یہ حدیث صحیح الاسناد ہے لیکن شیخین نے اسے روایت نہیں کیا۔ [المستدرك على الصحيحين/كِتَابُ مَعْرِفَةِ الصَّحَابَةِ رَضِيَ اللهُ تَعَالَى عَنْهُمْ/حدیث: 4618]
یہ حدیث صحیح الاسناد ہے لیکن شیخین نے اسے روایت نہیں کیا۔ [المستدرك على الصحيحين/كِتَابُ مَعْرِفَةِ الصَّحَابَةِ رَضِيَ اللهُ تَعَالَى عَنْهُمْ/حدیث: 4618]
تخریج الحدیث: «إسناده حسن من أجل أحمد بن مهران الأصبهاني وأبي سيدان عُبيد بن طُفيل، فهما صدوقان حسنا الحديث. وقد صحَّح هذا الخبر الطبريُّ فيما نقله عنه الحافظ ابن حجر في "فتح الباري" 15/ 351، وقال الضياء المقدسي في "الأحاديث المختارة" 1/ (337): إسناده لا بأس به.» [ترقيم الرساله 4618] [ترقيم الشركة 4595]
الحكم على الحديث: إسناده حسن من أجل أحمد بن مهران الأصبهاني وأبي سيدان عُبيد بن طُفيل