🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

Join Whatsapp Channel
المستدرك على الصحيحين سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم الرسالہ
ترقيم الشرکۃ
عربی لفظ
اردو لفظ
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

ترقیم الرساله سے تلاش کل احادیث (9018)
حدیث نمبر لکھیں:
ترقیم الشركة سے تلاش کل احادیث (8909)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:

133. كَانَ النَّبِيُّ إِذَا رَجَعَ مِنَ السَّفَرِ بَدَأَ بِالْمَسْجِدِ ثُمَّ يَأْتِي فَاطِمَةَ .
نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سفر سے واپس آتے تو سب سے پہلے مسجد تشریف لے جاتے، پھر سیدہ فاطمہ رضی اللہ عنہا کے پاس آتے
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 4789
حدثنا مُكرَم بن أحمد أحمد القاضي، حدثنا أحمد بن يوسف الهمذاني، حدثنا عبد المؤمن بن علي الزّعفراني، حدثنا عبد السلام بن حَرْب، عن عُبيد الله بن عمر، عن زيد بن أسلم، عن أبيه، عن عمر: أنه دخل على فاطمة بنت رسول الله ﷺ، فقال: يا فاطمةُ، والله ما رأيتُ أحدًا أحبّ إلى رسول الله ﷺ منك، والله ما كان أحدٌ من الناس بعد أبيك ﷺ أحب إلي منكِ (3) .
هذا حديث صحيح الإسناد على شرط الشيخين، ولم يخرجاه.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 4736 - غريب عجيب
سیدنا عمر رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ وہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی صاحبزادی سیدہ فاطمہ رضی اللہ عنہا کے پاس تشریف لائے اور فرمایا: اے فاطمہ! اللہ کی قسم، میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے نزدیک آپ سے زیادہ محبوب کسی کو نہیں دیکھا، اور اللہ کی قسم، آپ کے والد صلی اللہ علیہ وسلم کے بعد تمام لوگوں میں سے میرے نزدیک آپ سے زیادہ محبوب کوئی نہیں۔
یہ حدیث شیخین کی شرط پر صحیح الاسناد ہے لیکن انہوں نے اسے روایت نہیں کیا۔ [المستدرك على الصحيحين/كِتَابُ مَعْرِفَةِ الصَّحَابَةِ رَضِيَ اللهُ تَعَالَى عَنْهُمْ/حدیث: 4789]
تخریج الحدیث: [ترقيم الرساله 4789] [ترقيم الشركة 4763] [ترقيم العلميه 4736]

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 4790
أخبرني أبو الحسين بن أبي عمرو السَّماك وأبو أحمد الحسين بن علي التميمي، قالا: حدثنا عبد الله بن محمد البَغَوي، حدثني سعيد بن يحيى الأُموي، حدثني أبي، حدثني يزيد بن سنان، حدثنا عقبة بن رُوَيم، قال: سمعت أبا ثعلبة الخُشَني، يقول: كان رسول الله ﷺ إذا رجَعَ من غَزَاةٍ أو سفرٍ أتى المسجد فصلى فيه ركعتين، ثم ثَنَّى بفاطمة، ثم يأتي أزواجه، فلما رجَعَ خرج من المسجد، تلقته فاطمةُ عند باب البيت تَلْثَم فاهُ وعينيه تبكي، فقال لها:"يا بنيةُ، ما يُبكيك؟" قالت: يا رسول الله، ألا أراكَ شَعِثًا نَصِبًا، قد اخلَولَقَتْ ثِيابُك، قال: فقال:"فلا تبكي، فإنَّ الله ﷿ بَعَثَ أباكِ لأمرٍ لا يبقى على ظهرِ الأرض بيتُ مَدَرٍ ولا شَعرٍ إِلَّا أَدخلَ الله به عِزًّا أو ذُلًّا، حتى يبلغ حيث بلغ الليلُ" (1) .
هذا حديث صحيح الإسناد، ولم يخرجاه. حدثنا الحاكم الفاضل أبو عبد الله محمد بن عبد الله الحافظُ إملاء غُرةَ ذي القعدة سنة اثنتين وأربع مئة:
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 4737 - يزيد بن سنان هو الرهاوي ضعفه أحمد وغيره وعقبة نكرة لا تعرف
سیدنا ابو ثعلبہ خشنی رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، وہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم جب کسی غزوے یا سفر سے واپس تشریف لاتے تو پہلے مسجد میں داخل ہو کر دو رکعت نماز ادا فرماتے، پھر سیدہ فاطمہ رضی اللہ عنہا کے ہاں تشریف لے جاتے اور اس کے بعد اپنی ازواج مطہرات کے پاس جاتے۔ پس جب آپ صلی اللہ علیہ وسلم (ایک بار) واپس آئے اور مسجد سے نکلے تو سیدہ فاطمہ رضی اللہ عنہا نے گھر کے دروازے پر آپ صلی اللہ علیہ وسلم کا استقبال کیا، وہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے دہن مبارک اور آنکھوں کا بوسہ لینے لگیں اور رونے لگیں۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان سے دریافت فرمایا: اے بیٹی! تمہیں کس چیز نے رلایا ہے؟ انہوں نے عرض کی: اے اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم ! میں آپ کو پراگندہ حال اور تھکا ہوا دیکھ رہی ہوں اور آپ کے لباس بھی بوسیدہ ہو گئے ہیں۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: پس تم روؤ نہیں، کیونکہ اللہ عزوجل نے تمہارے باپ کو ایک ایسے کام (دین) کے لیے مبعوث فرمایا ہے جو روئے زمین پر مٹی کے بنے کسی گھر یا بالوں کے بنے کسی خیمے کو نہیں چھوڑے گا مگر اللہ اس میں (اسلام کے ذریعے) عزت یا (کفر کے ذریعے) ذلت داخل کر دے گا، یہاں تک کہ یہ دین وہاں تک پہنچ کر رہے گا جہاں تک رات پہنچتی ہے۔
یہ حدیث صحیح الاسناد ہے لیکن شیخین نے اسے روایت نہیں کیا۔ [المستدرك على الصحيحين/كِتَابُ مَعْرِفَةِ الصَّحَابَةِ رَضِيَ اللهُ تَعَالَى عَنْهُمْ/حدیث: 4790]
تخریج الحدیث: «إسناده ضعيف كما تقدم بيانه برقم (1817).» [ترقيم الرساله 4790] [ترقيم الشركة 4764] [ترقيم العلميه 4737]

الحكم على الحديث: إسناده ضعيف
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں