🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

المستدرك على الصحيحين سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم الرسالہ
ترقيم الشرکۃ
عربی لفظ
اردو لفظ
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

ترقیم الرساله سے تلاش کل احادیث (9018)
حدیث نمبر لکھیں:
ترقیم الشركة سے تلاش کل احادیث (8909)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:
133. كان النبى إذا رجع من السفر بدأ بالمسجد ثم يأتى فاطمة .
نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سفر سے واپس آتے تو سب سے پہلے مسجد تشریف لے جاتے، پھر سیدہ فاطمہ رضی اللہ عنہا کے پاس آتے
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 4790
أخبرني أبو الحسين بن أبي عمرو السَّماك وأبو أحمد الحسين بن علي التميمي، قالا: حدثنا عبد الله بن محمد البَغَوي، حدثني سعيد بن يحيى الأُموي، حدثني أبي، حدثني يزيد بن سنان، حدثنا عقبة بن رُوَيم، قال: سمعت أبا ثعلبة الخُشَني، يقول: كان رسول الله ﷺ إذا رجَعَ من غَزَاةٍ أو سفرٍ أتى المسجد فصلى فيه ركعتين، ثم ثَنَّى بفاطمة، ثم يأتي أزواجه، فلما رجَعَ خرج من المسجد، تلقته فاطمةُ عند باب البيت تَلْثَم فاهُ وعينيه تبكي، فقال لها:"يا بنيةُ، ما يُبكيك؟" قالت: يا رسول الله، ألا أراكَ شَعِثًا نَصِبًا، قد اخلَولَقَتْ ثِيابُك، قال: فقال:"فلا تبكي، فإنَّ الله ﷿ بَعَثَ أباكِ لأمرٍ لا يبقى على ظهرِ الأرض بيتُ مَدَرٍ ولا شَعرٍ إِلَّا أَدخلَ الله به عِزًّا أو ذُلًّا، حتى يبلغ حيث بلغ الليلُ" (1) .
هذا حديث صحيح الإسناد، ولم يخرجاه. حدثنا الحاكم الفاضل أبو عبد الله محمد بن عبد الله الحافظُ إملاء غُرةَ ذي القعدة سنة اثنتين وأربع مئة:
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 4737 - يزيد بن سنان هو الرهاوي ضعفه أحمد وغيره وعقبة نكرة لا تعرف
سیدنا ابوثعلبہ خشنی رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم (کی یہ عادت کریمہ تھی کہ آپ) جب بھی کسی سفر یا غزوہ سے واپس تشریف لاتے تو (پہلے) مسجد میں آتے اور دو رکعت نفل ادا کرتے پھر سیدہ فاطمہ رضی اللہ عنہا کے پاس (جاتے، اس کے بعد اپنی ازواج مطہرات کے پاس تشریف لاتے (ایک دفعہ کا ذکر ہے کہ) آپ صلی اللہ علیہ وسلم (ایک سفر سے واپس لوٹے تو حسب عادت مسجد میں آ کر نوافل ادا کئے اس کے بعد آپ) مسجد شریف سے سیدہ فاطمہ رضی اللہ عنہا کے گھر تشریف لے) گئے، سیدہ فاطمہ رضی اللہ عنہا نے گھر کے دروازے پر نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا استقبال کیا اور حضور صلی اللہ علیہ وسلم کے دہان مبارک کا بوسہ لیا۔ اس وقت سیدہ فاطمہ رضی اللہ عنہا آبدیدہ ہو گئیں، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے رونے کی وجہ پوچھی تو عرض کی: یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم میں آپ کو تھکا ہوا، پریشان حال دیکھ رہی ہوں، آپ کا لباس مبارک کس قدر بوسیدہ ہو چکا ہے۔ حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: تم مت رو، کیونکہ اللہ تعالیٰ نے تمہارے والد کو ایسے معاملہ کے ساتھ مبعوث فرمایا ہے کہ اس روئے زمین پر ہر چھوٹے بڑے گھر میں اللہ تعالیٰ اس کے ذریعے اسلام کو داخل فرمائے گا، (گھر والوں کی) عزت کے ساتھ یا ذلت کے ساتھ، حتی کہ وہ وہاں تک پہنچ جائے گا جہاں رات پہنچتی ہے۔ ٭٭ یہ حدیث صحیح الاسناد ہے لیکن امام بخاری رحمۃ اللہ علیہ اور امام مسلم رحمۃ اللہ علیہ نے اس کو نقل نہیں کیا۔ [المستدرك على الصحيحين/كتاب معرفة الصحابة رضي الله تعالى عنهم/حدیث: 4790]

المستدرك على الصحيحين کی حدیث نمبر 4790 پر
الشیخ عادل مرشد، ڈاکٹر احمد برہوم، ڈاکٹر محمد کامل قرہ بلی، ڈاکٹر سعید اللحام کی
تخريج وتحقيقِ محدثانہ نکات و اصطلاحی مطالعہ
(1) إسناده ضعيف كما تقدم بيانه برقم (1817).
⚖️ درجۂ حدیث: اس کی سند ضعیف ہے جیسا کہ نمبر (1817) پر بیان ہو چکا ہے۔
وأخرج أوّله العقيلي في "الضعفاء" (1331)، ومن طريقه ابن عساكر 40/ 536 - 537 عن يحيى بن أحمد المخرمي، عن سعيد بن يحيى، عن أبيه، عن يزيد بن سنان، عن عقبة بن يريم، عن أبي ثعلبة. فسمى شيخه هنا عقبة بن يريم.
📖 حوالہ / مصدر: اس کا ابتدائی حصہ عقیلی نے "الضعفاء" (1331) میں اور ان کے واسطے سے ابن عساکر (40/ 536-537) نے یحییٰ بن احمد مخرمی کے طریق سے روایت کیا ہے۔ انہوں نے اپنے شیخ کا نام یہاں "عقبہ بن یریم" ذکر کیا ہے۔
وأخرجه ابن الأعرابي في "القُبل والمعانقة والمصافحة" (19)، وابن عبد البر في "الاستيعاب" ص 926 من طريق إبراهيم بن سعيد الجوهري، والطبراني في "المعجم الكبير" 22/ (595)، وفي "مسند الشاميين" (523) عن طالب بن قرة الأذني، عن محمد بن عيسى بن الطباع، كلاهما (الجوهري وابن الطبّاع) عن يحيى بن سعيد الأموي، به. أما الجوهري فقال في روايته: عن يزيد بن سنان، عن عقبة بن يريم، عن أبي ثعلبة، وأما ابن الطباع فقال: عن يزيد بن سنان، عن عروة بن رُويم، عن أبي ثعلبة.
📖 حوالہ / مصدر: ابن الاعرابی نے "القبل والمعانقہ" (19) اور ابن عبد البر نے "الاستیعاب" (ص 926) میں ابراہیم بن سعید جوہری کے طریق سے، اور طبرانی نے "المعجم الکبیر" (22/ 595) اور "مسند الشامیین" (523) میں طالب بن قرہ کے طریق سے، دونوں نے یحییٰ بن سعید اموی سے روایت کیا ہے۔ 🧾 تفصیلِ روایت: جوہری نے اپنی روایت میں "عن عقبہ بن یریم عن ابی ثعلبہ" کہا، جبکہ ابن الطباع نے "عن عروہ بن رویم عن ابی ثعلبہ" کہا۔
وأخرجه ابن عساكر 40/ 537 من طريق أبي حاتم الرازي، عن ابن الطبّاع، عن يحيى بن سعيد الأموي، عن أبي فروة يزيد بن سنان، عن عروة بن رويم، عن عقبة بن يريم، عن أبي ثعلبة وهذا أولى من الذي قبله، لأنَّ أبا حاتم الرازي حافظ، وأما طالب بن قرة فمجهول.
📖 حوالہ / مصدر: ابن عساکر (40/ 537) نے ابو حاتم رازی کے طریق سے روایت کیا تو سند یوں تھی: "ابن الطباع عن یحییٰ اموی عن ابی فروہ یزید بن سنان عن عروہ بن رویم عن عقبہ بن یریم عن ابی ثعلبہ"۔ 🔍 فنی نکتہ / علّت: یہ سند پچھلی سند سے بہتر (اولى) ہے، کیونکہ ابو حاتم رازی "حافظ" ہیں، جبکہ طالب بن قرہ "مجہول" ہے۔
وقد تقدَّم هذا الخبر برقم (1817) من طريق يونس بن بكير، عن أبي فروة يزيد بن سنان، عن عروة بن رُويم، قال: سمعت أبا ثعلبة. فذكر عروة بن رويم واقتصر عليه.
🧾 تفصیلِ روایت: یہ خبر (1817) پر یونس بن بکیر کے طریق سے گزر چکی ہے، جس میں "عروہ بن رویم" کا ذکر ہے اور انہی پر اکتفا کیا گیا ہے۔