🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

Join Whatsapp Channel
المستدرك على الصحيحين سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم الرسالہ
ترقيم الشرکۃ
عربی لفظ
اردو لفظ
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

ترقیم الرساله سے تلاش کل احادیث (9018)
حدیث نمبر لکھیں:
ترقیم الشركة سے تلاش کل احادیث (8909)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:

139. كَانَتْ فَاطِمَةُ إِذَا دَخَلَتْ عَلَى النَّبِيِّ قَامَ إِلَيْهَا .
جب سیدہ فاطمہ رضی اللہ عنہا نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوتیں تو آپ ان کے احترام میں کھڑے ہو جاتے
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 4807
أخبرني أحمد بن جعفر بن حمدان البزار، حدثنا إبراهيم بن عبد الله بن مسلم، حدثنا صالح بن حاتم بن وَرْدان، حدثني أبي حدثني أيوب، عن أبي يزيد المديني، عن أسماء بنت عُميس، قالت: كنتُ في زفاف فاطمة بنت رسول الله ﷺ، فلما أصبحنا جاء النبي ﷺ إلى الباب، فقال:"يا أم أيمن، ادعي لي أخي"، فقالت: هو أخوك وتُنكِحُه؟! قال:"نعم يا أم أيمن"فجاء عليٌّ، فنَضَحَ النبي ﷺ عليه من الماء ودعا له، ثم قال:"ادعي لي فاطمة" قالت: فجاءت تَعَثَّرُ من الحياء، فقال لها رسول الله ﷺ:"اسكُني، فقد أنكحتكِ أحب أهل بيتي إلي" قالت: ونضح النبي ﷺ عليها من الماء، ثم رجع رسول الله ﷺ فرأى سوادًا بين يديه، فقال:"من هذا؟" فقلت: أنا أسماء، قال:"أسماء بنتُ عُميس؟" قلت: نعم، قال:"جئتِ في زفاف ابنة رسول الله" قلت: نعم، فدعا لي (1) .
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 4752 - الحديث غلط
سیدہ اسماء بنت عمیس رضی اللہ عنہا سے روایت ہے، انہوں نے کہا: میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی صاحبزادی سیدہ فاطمہ رضی اللہ عنہا کی رخصتی میں موجود تھی، جب صبح ہوئی تو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم دروازے پر تشریف لائے اور فرمایا: اے ام ایمن! میرے بھائی کو بلاؤ، انہوں نے عرض کیا: وہ آپ کے بھائی ہیں اور آپ اپنی بیٹی کا نکاح ان سے کر رہے ہیں؟! آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ہاں اے ام ایمن! پھر سیدنا علی تشریف لائے تو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ان پر پانی کے چھینٹے مارے اور ان کے لیے دعا فرمائی، پھر فرمایا: فاطمہ کو میرے پاس بلاؤ، اسماء رضی اللہ عنہا کہتی ہیں کہ وہ حیا کی وجہ سے لڑکھڑاتی ہوئی آئیں، تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان سے فرمایا: پرسکون رہو، میں نے تمہارا نکاح اپنے اہل بیت میں سے مجھے سب سے زیادہ محبوب شخص سے کیا ہے، اسماء کہتی ہیں کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ان پر بھی پانی چھڑکا، پھر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم واپس مڑے تو اپنے سامنے ایک سایہ دیکھا، دریافت فرمایا: یہ کون ہے؟ میں نے عرض کیا: میں اسماء ہوں، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے پوچھا: اسماء بنت عمیس؟ میں نے عرض کیا: جی ہاں، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: کیا تم رسول اللہ کی بیٹی کی رخصتی کے لیے آئی ہو؟ میں نے عرض کیا: جی ہاں، تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے میرے لیے دعا فرمائی۔ [المستدرك على الصحيحين/كِتَابُ مَعْرِفَةِ الصَّحَابَةِ رَضِيَ اللهُ تَعَالَى عَنْهُمْ/حدیث: 4807]
تخریج الحدیث: «ضعيف لاضطرابه كما سبق بيانه عند الحديث (4798)، ولنكارة متنه، فإنَّ أسماء بنت عميس كانت وقت زفاف فاطمة مع زوجها جعفر بن أبي طالب بالحبشة، وقد أشار إلى هذا الغلط الذهبي في "تلخيصه"، وكذا ابن حجر في "المطالب العالية" (1629) فقال: أسماء بنت عميس كانت في هذا الوقت بأرض الحبشة ...» [ترقيم الرساله 4807] [ترقيم الشركة 4780] [ترقيم العلميه 4752]

الحكم على الحديث: ضعيف لاضطرابه كما سبق بيانه عند الحديث (4798)
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 4808
حدثنا أبو العباس محمد بن يعقوب، حدثنا العباس بن محمد الدُّوْرِي، حدثنا عثمان بن عمر، حدثنا إسرائيل، عن ميسرة بن حبيب، عن المنهال بن عمرو، عن عائشة بنت طلحة، عن أم المؤمنين عائشة أم المؤمنين أنها قالت: ما رأيتُ أحدًا كان أشبة كلامًا وحديثًا برسول الله ﷺ من فاطمة، وكانت إذا دخلت عليه قام إليها فقبَّلها ورحّب بها، وأخذ بيدها فأجلسها في مَجلسِه، وكانت هي إذا دخل عليها رسول الله ﷺ قامتْ إليه مستقبلةً وقبلت يده (1) .
هذا حديث صحيح على شرط الشيخين، ولم يخرجاه.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 4753 - حذفه الذهبي من التلخيص لضعفه
ام المؤمنین سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے، انہوں نے فرمایا: میں نے گفتگو اور بات چیت کے انداز میں سیدہ فاطمہ رضی اللہ عنہا سے بڑھ کر کسی کو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے مشابہ نہیں دیکھا، اور جب وہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس تشریف لاتیں تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم ان کے استقبال کے لیے کھڑے ہو جاتے، ان کا بوسہ لیتے، انہیں خوش آمدید کہتے اور ان کا ہاتھ تھام کر اپنی جگہ پر بٹھاتے، اسی طرح جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ان کے پاس تشریف لے جاتے تو وہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے استقبال کے لیے کھڑی ہو جاتیں اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے دستِ مبارک کا بوسہ لیتیں۔
یہ حدیث شیخین کی شرط پر صحیح ہے لیکن انہوں نے اسے روایت نہیں کیا۔ [المستدرك على الصحيحين/كِتَابُ مَعْرِفَةِ الصَّحَابَةِ رَضِيَ اللهُ تَعَالَى عَنْهُمْ/حدیث: 4808]
تخریج الحدیث: «إسناده صحيح،إسرائيل: هو ابن يونس بن أبي إسحاق السبيعي.» [ترقيم الرساله 4808] [ترقيم الشركة 4781] [ترقيم العلميه 4753]

الحكم على الحديث: إسناده صحيح
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں