المستدرك على الصحيحين سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم الرسالہ
ترقيم الشرکۃ
عربی لفظ
اردو لفظ
139. كانت فاطمة إذا دخلت على النبى قام إليها .
جب سیدہ فاطمہ رضی اللہ عنہا نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوتیں تو آپ ان کے احترام میں کھڑے ہو جاتے
حدیث نمبر: 4808
حدثنا أبو العباس محمد بن يعقوب، حدثنا العباس بن محمد الدُّوْرِي، حدثنا عثمان بن عمر، حدثنا إسرائيل، عن ميسرة بن حبيب، عن المنهال بن عمرو، عن عائشة بنت طلحة، عن أم المؤمنين عائشة أم المؤمنين أنها قالت: ما رأيتُ أحدًا كان أشبة كلامًا وحديثًا برسول الله ﷺ من فاطمة، وكانت إذا دخلت عليه قام إليها فقبَّلها ورحّب بها، وأخذ بيدها فأجلسها في مَجلسِه، وكانت هي إذا دخل عليها رسول الله ﷺ قامتْ إليه مستقبلةً وقبلت يده (1) .
هذا حديث صحيح على شرط الشيخين، ولم يخرجاه.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 4753 - حذفه الذهبي من التلخيص لضعفه
هذا حديث صحيح على شرط الشيخين، ولم يخرجاه.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 4753 - حذفه الذهبي من التلخيص لضعفه
ام المومنین سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں: میں نے ایسا کوئی شخص نہیں دیکھا جو فاطمہ بنت رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے زیادہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے ملتی جلتی گفتگو کرتا ہو۔ فاطمہ جب بھی حضور صلی اللہ علیہ وسلم سے ملنے آتیں تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم ان کے لئے اٹھ کر کھڑے ہو جاتے، ان (کی پیشانی) کا بوسہ لیتے، ان کو خوش آمدید کہتے، ان کا ہاتھ اپنے ہاتھ میں پکڑ کر اپنی جگہ پر بٹھاتے، جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ان سے ملنے کے لئے جاتے تو وہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے استقبال کے لئے کھڑی ہو جاتیں اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے ہاتھ چومتیں۔ ٭٭ یہ حدیث امام بخاری رحمۃ اللہ علیہ اور امام مسلم رحمۃ اللہ علیہ کے معیار کے مطابق صحیح ہے لیکن انہوں نے اس کو نقل نہیں کیا۔ [المستدرك على الصحيحين/كتاب معرفة الصحابة رضي الله تعالى عنهم/حدیث: 4808]
المستدرك على الصحيحين کی حدیث نمبر 4808 پر
الشیخ عادل مرشد، ڈاکٹر احمد برہوم، ڈاکٹر محمد کامل قرہ بلی، ڈاکٹر سعید اللحام کی
تخريج وتحقيقِ محدثانہ نکات و اصطلاحی مطالعہ
الشیخ عادل مرشد، ڈاکٹر احمد برہوم، ڈاکٹر محمد کامل قرہ بلی، ڈاکٹر سعید اللحام کی
تخريج وتحقيقِ محدثانہ نکات و اصطلاحی مطالعہ
(1) إسناده صحيح. إسرائيل: هو ابن يونس بن أبي إسحاق السبيعي.
⚖️ درجۂ حدیث: (1) اس کی اسناد صحیح ہے۔ 🔍 فنی نکتہ / راوی: اسرائیل: یہ "اسرائیل بن یونس بن ابی اسحاق السبیعی" ہیں۔
وقد تقدَّم برقم (4785) من طريق محمد بن إسحاق الصغاني عن عثمان بن عمر.
📖 حوالہ / مصدر: یہ حدیث نمبر (4785) پر محمد بن اسحاق الصغانی کے طریق سے گزر چکی ہے جو عثمان بن عمر سے روایت کرتے ہیں۔
وفي هذه الرواية ورواية الطبراني في "الأوسط" (4089) بيان لمحل تقبيل فاطمة لأبيها ﷺ حيث جاء ذلك مطلقًا في الروايات الأخرى، فتبين هنا وعند الطبراني أن المراد تقبيل يده ﷺ، والله تعالى أعلم. وفي رواية أبي داود (5217) ما يشير إليه، حيث جاء في روايته: فأخذت بيده فقبلته.
🧾 تفصیلِ روایت: اس روایت میں اور طبرانی کی "الاوسط" (4089) کی روایت میں اس مقام کا بیان ہے جہاں سیدہ فاطمہ اپنے والد ﷺ کا بوسہ لیتی تھیں، جبکہ دیگر روایات میں یہ مطلق (بغیر تعین کے) آیا ہے۔ پس یہاں اور طبرانی کے ہاں یہ واضح ہوا کہ مراد "دستِ مبارک کا بوسہ" ہے، واللہ تعالیٰ اعلم۔ 🧩 متابعات و شواہد: اور ابوداود (5217) کی روایت میں اس کی طرف اشارہ ملتا ہے، جہاں ان کی روایت میں ہے: "پس انہوں نے آپ ﷺ کا ہاتھ مبارک تھاما اور اسے چوم لیا۔"