🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

Join Whatsapp Channel
المستدرك على الصحيحين سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم الرسالہ
ترقيم الشرکۃ
عربی لفظ
اردو لفظ
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

ترقیم الرساله سے تلاش کل احادیث (9018)
حدیث نمبر لکھیں:
ترقیم الشركة سے تلاش کل احادیث (8909)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:

142. سَنَةُ وِلَادَةِ فَاطِمَةَ - رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا - .
سیدہ فاطمہ رضی اللہ عنہا کی ولادت کا سال
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 4814
أخبرنا الحسن بن محمد بن إسحاق المهرجاني، حدثنا محمد بن زكريا بن دينار البصري [حدثنا العباس بن بَكّار] (1) حدثنا عبد الله بن المثنى، عن ثُمَامة بن عبد الله بن أنس، عن أنس بن مالك، قال: سألتُ أمي عن فاطمة بنت رسول الله ﷺ، فقالت: كانت كالقمرِ ليلةَ البدرِ، أو كشمسٍ كَفَرَ غَمامًا إذا خرج من السَّحاب، بيضاءَ مُشرَبةً حُمرةً، لها شعرٌ أسود، من أشد الناس برسول الله ﷺ شَبَهًا والله، كما قال الشاعر: بيضاءَ تَسحَبُ من قيامٍ شعرَها … وتغيبُ فيه وهو جَثْلٌ (2) أسحَمُ فكأنها فيهِ نَهارٌ مُشرِقٌ … وكأنه ليلٌ عليها مُظلم (3)
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 4759 - موضوع
سیدنا انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ میں نے اپنی والدہ سے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی صاحبزادی سیدہ فاطمہ رضی اللہ عنہا کے حلیہ مبارک کے بارے میں پوچھا تو انہوں نے کہا: وہ چودہویں رات کے چاند کی مانند تھیں، یا جیسے وہ سورج ہو جس سے بادل چھٹ گئے ہوں، وہ گوری رنگت والی تھیں جس میں سرخی کی جھلک تھی، ان کے بال سیاہ تھے، اور اللہ کی قسم وہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے سب سے زیادہ مشابہ تھیں، جیسا کہ شاعر نے کہا ہے: وہ سفید رنگت والی ہیں، جب وہ کھڑی ہوتی ہیں تو ان کے بال (زمین پر) دراز ہوتے ہیں۔ وہ ان بالوں میں (اپنی طوالت اور گنجانی کی وجہ سے) چھپ جاتی ہیں کیونکہ وہ بال بہت گھنے اور گہرے سیاہ ہیں۔ پس وہ ان بالوں کے درمیان (اپنے چہرے کی تابانی کی وجہ سے) چمکتا ہوا دن معلوم ہوتی ہیں، اور وہ بال ان پر چھائی ہوئی ایک تاریک رات کی مانند ہیں۔۔ [المستدرك على الصحيحين/كِتَابُ مَعْرِفَةِ الصَّحَابَةِ رَضِيَ اللهُ تَعَالَى عَنْهُمْ/حدیث: 4814]
تخریج الحدیث: «إسناده تالف بالمرة من أجل محمد بن زكريا بن دينار البصري» [ترقيم الرساله 4814] [ترقيم الشركة 4787] [ترقيم العلميه 4759]

الحكم على الحديث: إسناده تالف
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں