🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

المستدرك على الصحيحين سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم الرسالہ
ترقيم الشرکۃ
عربی لفظ
اردو لفظ
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

ترقیم الرساله سے تلاش کل احادیث (9018)
حدیث نمبر لکھیں:
ترقیم الشركة سے تلاش کل احادیث (8909)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:

148. حَدِيثُ تَسْمِيَةِ الْحَسَنِ وَالْحُسَيْنِ - رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا - .
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی صاحبزادی کے دونوں بیٹوں سیدنا حسن اور سیدنا حسین رضی اللہ عنہما کے مناقب — سیدنا حسن اور سیدنا حسین رضی اللہ عنہما کے نام رکھنے سے متعلق حدیث
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 4828
حدثنا أبو سهل أحمد بن محمد بن عبد الله بن زياد النَّحْوي ببغداد، حدثنا جعفر بن محمد بن شاكر، حدثنا بشر بن مهران، حدثنا شريك، عن عبد الملك بن عُمير، قال: دخل يحيى بن يَعْمَر على الحَجَّاج. وحدثنا إسحاق بن محمد بن علي بن خالد الهاشمي بالكوفة، حدثنا أحمد بن موسى بن إسحاق التميمي، حدثنا محمد بن عُبيد النحاس، حدثنا صالح بن موسى الطَّلحي، حدثنا عاصم بن بَهْدَلة، قال: اجْتَمَعُوا عند الحجاج، فذكر الحسين بن عليّ، فقال الحجاج: لم يكن من ذرية النبي ﷺ، وعنده يحيى بن يَعْمَر، فقال له: كذبت أيها الأميرُ، فقال: لتأتيَنِّي على ما قلت ببيِّنةٍ ومصداقٍ من كتاب الله ﷿، أو لأقتُلنَّكَ، قال: ﴿وَمِنْ ذُرِّيَّتِهِ دَاوُودَ وَسُلَيْمَانَ وَأَيُّوبَ وَيُوسُفَ وَمُوسَى﴾ إلى قوله ﷿: ﴿وَزَكَرِيَّا وَيَحْيَى وَعِيسَى﴾ [الأنعام: 84 - 85] ، فأخبر الله ﷿ أنَّ عيسى من ذُرِّية آدمَ بأُمّه، والحسين بن علي من ذرية محمد ﷺ بأُمه، قال: صدقت، فما حَمَلَك على تكذيبي في مجلسي؟ قال: ما أَخَذَ الله على الأنبياء لَيُبيّننَّه للناس ولا يَكتُمونه، قال الله ﷿: ﴿فَنَبَذُوهُ وَرَاءَ ظُهُورِهِمْ وَاشْتَرَوْا بِهِ ثَمَنًا قَلِيلًا﴾ [آل عمران: 187] ، قال: فنَفاه إلى خُراسان (1) .
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 4772 - سكت عنه الذهبي في التلخيص
سیدنا عاصم بن بہدلہ بیان کرتے ہیں: حجاج کے ہاں کچھ لوگ جمع تھے، وہاں سیدنا حسین بن علی رضی اللہ عنہما کا تذکرہ ہوا، حجاج نے کہا: وہ (سیدنا حسین رضی اللہ عنہ) نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی اولاد میں سے نہیں ہیں۔ وہیں پر سیدنا یحیی بن یعمر موجود تھے وہ بولے: اے امیر! تم جھوٹ بول رہے ہو، اس نے کہا: آپ اپنے موقف پر دلیل دیں اور قرآن پاک کا حوالہ پیش کریں ورنہ میں تجھے قتل کروا دوں گا۔ یحیی بن یعمر نے قرآن پاک کی یہ آیات پڑھیں وَمِنْ ذُرِّیَّتِہ دَاوُدَ وَسُلَیْمَانَ وَاَیُّوْبَ وَیُوْسُفَ وَمُوْسٰی۔۔۔۔۔۔ الی قولہ عزوجل۔۔۔۔۔۔ وَزَکَرِیَّا وَیَحْیٰی وَعِیْسٰی وَاِلْیَاسٍ وَزَکَرِیَّا وَیَحْیٰی وَعِیْسٰی وَاِلْیَاس (الانعام: 85، 54) اور اس کی اولاد میں سے داود اور سلیمان اور ایوب اور یوسف اور موسیٰ اور ہارون کو اور ہم ایسا ہی بدلہ دیتے ہیں نیکوکاروں کو اور زکریا اور یحیی اور عیسیٰ اور الیاس کو ۔ اللہ تعالیٰ نے یہ بتایا کہ عیسیٰ علیہ السلام ماں کی نسبت سے سیدنا آدم علیہ السلام کی اولاد قرار پائے ہیں، اسی طرح سیدنا حسین بن علی رضی اللہ عنہما بھی اپنی والدہ کی نسبت سے محمد صلی اللہ علیہ وسلم کی ذریت قرار پائے ہیں۔ حجاج نے کہا: تم نے سچ بولا (لیکن یہ بتاؤ کہ) بھری مجلس میں آپ نے مجھے کیوں جھٹلایا، یحیی بن یعمر نے کہا: اللہ تعالیٰ نے انبیاء کرام علیہم السلام سے یہ عہد لیا تھا کہ وہ حق بات کو چھپائیں گے نہیں بلکہ اس کو لوگوں میں ظاہر کریں گے۔ اللہ تعالیٰ نے ارشاد فرمایا ہے (وَاِذْ اَخَذَ اللّٰہُ مِیْثَاقَ الَّذِیْنَ اُوتُو الْکِتَابَ لِتُبَیِّنُنَّہٗ لِلنَّاسِ وَلَا تَکْتُمُوْنَہٗ) فَنَبَذُوْہُ وَرَآءَ ظُھُوْرِھِمْ وَاشْتَرَوْا بِہ ثَمَنًا قَلِیْلً اور یاد کرو جب اللہ نے عہد لیا ان سے جنہیں کتاب عطا ہوئی کہ تم ضرور اسے لوگوں سے بیان کر دینا اور نہ چھپانا تو انہوں نے اسے اپنی پیٹھ کے پیچھے پھینک دیا اور اس کے ذلیل دام حاصل کئے چنانچہ حجاج نے سیدنا یحیی بن یعمر کو ملک بدر کر کے خراسان بھیج دیا۔ [المستدرك على الصحيحين/كِتَابُ مَعْرِفَةِ الصَّحَابَةِ رَضِيَ اللهُ تَعَالَى عَنْهُمْ/حدیث: 4828]

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 4829
أخبرنا أبو العباس محمد بن أحمد المحبوبي بمرو، حدثنا سعيد بن مسعود، حدثنا عبيد الله بن موسى، أخبرنا إسرائيل، عن أبي إسحاق، عن هانئ بن هانئ، عن علي بن أبي طالب، قال: لما ولدت فاطمة الحسن جاء رسول الله ﷺ، فقال:"أرُوني ابني، ما سميتموه؟" قال: قلتُ: سميتُه حَرْبًا، قال:"بل هو حَسَنٌ"، فلما وَلَدَت الحسين جاء رسول الله، فقال:"أَرُوني ما سميتموه؟" قال: قلت: سميتُه حَرْبًا، فقال:"بل هو حُسين"، ثم لما وَلَدَت الثالث جاء رسول الله ﷺ، قال:"أَرُوني ابني، ما سميتموه؟" قلت: سمّيته حَرْبًا، قال:"بل هو محسِّن"، ثم قال:"إنما سميتهم باسم ولد هارون: شَبَّرٍ وشَبِيرٍ ومُشَبِّرٍ" (1) .
هذا حديث صحيح الإسناد، ولم يخرجاه.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 4773 - صحيح
سیدنا علی رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں: جب سیدہ فاطمہ رضی اللہ عنہا کے ہاں حسن کی ولادت ہوئی تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم تشریف لائے اور فرمایا: میرا بیٹا مجھے دکھاؤ، تم نے اس کا کیا نام رکھا ہے؟ سیدنا علی رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں: میں نے بتایا کہ میں نے اس کا نام حرب رکھا ہے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: نہیں۔ بلکہ یہ حسن ہے۔ پھر جب ان کے ہاں حسین کی ولادت ہوئی تو اس موقع پر بھی نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم تشریف لائے اور فرمایا: میرا بیٹا مجھے دکھاؤ، تم نے اس کا کیا نام رکھا ہے؟ سیدنا علی رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں: میں نے کہا: میں نے اس کا نام حرب رکھا ہے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: نہیں۔ بلکہ یہ حسین ہے۔ پھر جب سیدہ فاطمہ رضی اللہ عنہا کے ہاں تیسرا بیٹا پیدا ہوا تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم تشریف لائے اور فرمایا: میرا بیٹا مجھے دکھاؤ، تم نے اس کا کیا نام رکھا ہے؟ سیدنا علی رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں: میں نے عرض کی: اس کا نام حرب رکھا ہے۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: نہیں۔ بلکہ یہ محسن ہے۔ پھر فرمایا: تم نے سیدنا ہارون علیہ السلام کے بیٹوں کے ناموں کی طرح نام رکھے ہیں (ان کے تین بیٹوں کے یہ نام تھے) شبر، شبیر اور مشبر۔ ٭٭ یہ حدیث صحیح الاسناد ہے لیکن امام بخاری رحمۃ اللہ علیہ اور امام مسلم رحمۃ اللہ علیہ نے اس کو نقل نہیں کیا۔ [المستدرك على الصحيحين/كِتَابُ مَعْرِفَةِ الصَّحَابَةِ رَضِيَ اللهُ تَعَالَى عَنْهُمْ/حدیث: 4829]

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 4830
حدثني عبد الأعلى بن عبد الله بن سليمان بن الأشعث السِّجستاني ببغداد، حدثني أبي، حدثنا أحمد بن الوليد بن بُرد الأنطاكي، حدثنا محمد بن إسماعيل بن أبي فُدَيك، حدثنا محمد بن موسى المخزومي، حدثنا عَوْن بن محمد، عن أبيه، عن أم جعفر أمِّه، عن جدَّتها أسماء، عن فاطمة: أنَّ رسول الله ﷺ أتاها يومًا فقال:"أين ابناي؟" فقالت: ذهب بهما عليٌّ، فتوجّه رسول الله ﷺ، فوجدهما يلعبان في شَرَبةٍ وبين أيديهما فَضْلٌ من تمرٍ، فقال:"يا علي، ألا تَقلِبُ ابنَيَّ قبلَ الحَرِّ"، وذكر باقي الحديث (2) . محمد بن موسى: هذا هو ابن مَشمُول مَديني ثقة وعون هذا: هو ابن محمد بن عبيد الله بن أبي رافع، هو وأبوه ثقتان، وأم جعفر: هي ابنة القاسم بن محمد بن أبي بكر الصديق، وجدَّتُها أسماء بنت أبي بكر الصديق ﵃ (1) ، وكلُّهم أشراف ثقات.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 4774 - بل محمد ضعفوه
سیدہ فاطمہ رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں: ایک دن رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ان کے پاس تشریف لائے اور پوچھنے لگے: میرے دونوں بیٹے کہاں ہیں؟ سیدہ فاطمہ رضی اللہ عنہا نے جواب دیا: سیدنا علی رضی اللہ عنہ کے ہمراہ گئے ہوئے ہیں۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ان کی تلاش میں نکل پڑے، آپ کو وہ ایک حوض کے قریب کھیلتے ہوئے مل گئے، اس وقت ان کے سامنے کچھ کھجوریں تھیں، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا اے علی! کیا تم میرے بیٹوں کو گرمی سے نہیں بچاؤ گے۔ اس کے بعد باقی حدیث بھی بیان کی۔ ٭٭ مذکورہ حدیث کی سند میں جو محمد بن موسیٰ نامی راوی ہیں، یہ ابن مشمول مدینی ہیں ثقہ ہیں اور عون نامی راوی ہیں یہ محمد بن عبیداللہ ابن ابی رافع کے بیٹے ہیں، یہ اور ان کے والد دونوں ثقہ ہیں۔ اور ام جعفر، قاسم بن محمد بن ابی بکر الصدیق ہیں اور ان کی دادی سیدہ اسماء بنت ابی بکر الصدیق ہیں اور یہ سب کے سب اشراف ہیں ثقہ ہیں۔ [المستدرك على الصحيحين/كِتَابُ مَعْرِفَةِ الصَّحَابَةِ رَضِيَ اللهُ تَعَالَى عَنْهُمْ/حدیث: 4830]

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 4831
حدثنا أبو العباس محمد بن يعقوب، حدثنا أبو جعفر محمد بن عبيد الله بن المُنادِي، حدثنا وهب بن جرير بن حازم، حدثنا أبي، حدثنا محمد بن عبد الله بن أبي يعقوب، عن عبد الله بن شداد بن الهادِ، عن أبيه، قال: خرج علينا رسول الله ﷺ وهو حاملٌ أحد ابنيه، الحَسَنَ أو الحُسينَ، فتقدَّم رسول الله ﷺ فَوَضَعَه عند قدمه اليُمنى، فسجد رسول الله ﷺ سجدةً أطالها، قال أبي: فرفعتُ رأسي من بين الناس، فإذا رسول الله ﷺ ساجدٌ، وإذا الغُلامُ راكبٌ على ظهره، فعُدْتُ فسجدتُ، فلما انصرف رسول الله ﷺ قال الناسُ: يا رسول الله، لقد سجدت في صلاتك هذه سجدةً ما كنتَ تَسجُدُها، أفَشَيءٌ أُمرتَ به، أو كان يُوحَى إليك؟ قال:"كلُّ ذلك لم يكن، إن ابني ارتَحَلَني، فكرهتُ أن أُعجِلَه حتى يَقضي حاجته" (1) .
هذا حديث صحيح على شرط الشيخين، ولم يخرجاه.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 4775 - على شرط البخاري ومسلم
عبداللہ بن شداد بن الہاد اپنے والد کا یہ بیان نقل کرتے ہیں: ایک دفعہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ظہر یا عصر کی نماز کے لئے تشریف لائے تو حسن یا حسین دونوں میں سے کسی ایک کو اٹھائے ہوئے تھے، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم (نماز پڑھانے کے لئے مصلائے امامت پر) تشریف فرما ہوئے تو ان کو اپنے دائیں پہلو کی جانب بٹھا دیا، جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سجدہ میں گئے تو سجدہ بہت طویل کیا۔ میرے والد صاحب کہتے ہیں: میں نے سر اٹھا کر دیکھا تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سجدہ میں تھے اور آپ کا نواسا آپ کی پشت مبارک پر بیٹھا ہوا تھا، میں دوبارہ سجدے میں چلا گیا۔ جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نماز سے فارغ ہوئے تو صحابہ کرام رضی اللہ عنہم نے عرض کی: یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم آپ نے اس نماز میں اتنا طویل سجدہ کیا کہ اس سے پہلے کبھی اتنا لمبا سجدہ نہیں کیا۔ کیا آپ کو اس نماز میں کوئی خاص حکم ملا تھا یا آپ پر وحی نازل ہو رہی تھی؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ان دونوں باتوں میں سے کوئی بھی پیش نہیں آئی، بلکہ میرا بیٹا مجھ پر سوار ہو گیا تھا مجھے یہ اچھا نہیں لگا کہ میں اس کو اس کی مرضی کے بغیر نیچے اتاروں۔ ٭٭ یہ حدیث امام بخاری رحمۃ اللہ علیہ اور امام مسلم رحمۃ اللہ علیہ کے معیار کے مطابق صحیح ہے لیکن انہوں نے اس کو نقل نہیں کیا۔ [المستدرك على الصحيحين/كِتَابُ مَعْرِفَةِ الصَّحَابَةِ رَضِيَ اللهُ تَعَالَى عَنْهُمْ/حدیث: 4831]

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں