المستدرك على الصحيحين سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم الرسالہ
ترقيم الشرکۃ
عربی لفظ
اردو لفظ
161. ذِكْرُ بَيْعَةِ الْحَسَنِ بِالْكُوفَةِ
سیدنا حسن بن علی بن ابی طالب رضی اللہ عنہ کے فضائل، نیز ان کی ولادت اور شہادت کا بیان — کوفہ میں سیدنا حسن رضی اللہ عنہ کی بیعت کا بیان
حدیث نمبر: 4860
حدثنا أبو عبد الله الأصبهاني، حدثنا الحسن بن الجهم، حدثنا الحسين بن الفَرَج، حدثنا محمد بن عمر، حدثني عبد الله بن جعفر، عن أم بكر بنت المِسور، قالت: كان الحَسنُ بن علي سُمَّ مِرارًا، كلَّ ذلك يُفلِتُ حتى كانت المرة الأخيرةُ التي مات فيها، فإنه كان يُجتَلَفُ (1) كَبِدُه، فلما مات أقام نساء بني هاشمٍ النَّوحَ عليه شهرًا (2) .
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 4804 - سكت عنه الذهبي في التلخيص
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 4804 - سكت عنه الذهبي في التلخيص
م بکر بنت مسور کا بیان ہے کہ سیدنا حسن بن علی رضی اللہ عنہما کو کئی مرتبہ زہر دیا گیا، ہر مرتبہ اس کا اثر زائل ہو گیا، لیکن آخری مرتبہ جو زہر دیا گیا جس سے آپ کی شہادت واقع ہوئی وہ اس قدر سخت تھا کہ جگر کو کاٹ رہا تھا۔ جب ان کا انتقال ہو گیا تو بنی ہاشم کی عورتوں نے پورا ایک مہینہ ان کا افسوس کیا۔ [المستدرك على الصحيحين/كِتَابُ مَعْرِفَةِ الصَّحَابَةِ رَضِيَ اللهُ تَعَالَى عَنْهُمْ/حدیث: 4860]
حدیث نمبر: 4861
قال ابن عُمر: وحدثنا حفص بن عمر، عن أبي جعفر قال: مَكَثَ الناسُ يبكون على الحسن بن علي، وما تقوم الأسواق (1) .
ابوجعفر بیان کرتے ہیں کہ سیدنا حسن بن علی رضی اللہ عنہما کی شہادت پر ہر آنکھ اشکبار تھی اور (لوگوں نے آپ کے غم میں کئی روز تک) بازار بند رکھے۔ [المستدرك على الصحيحين/كِتَابُ مَعْرِفَةِ الصَّحَابَةِ رَضِيَ اللهُ تَعَالَى عَنْهُمْ/حدیث: 4861]
حدیث نمبر: 4862
قال ابن عمر: وحدثتنا عُبيدة بنت نابل (2) ، عن عائشة بنت سعد، قالت: حد نساء الحسن بن علي سنة (3) .
سیدہ عائشہ بن سعد رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں کہ سیدنا حسن بن علی رضی اللہ عنہما کی بیویوں نے پورا ایک سال سوگ منایا۔ [المستدرك على الصحيحين/كِتَابُ مَعْرِفَةِ الصَّحَابَةِ رَضِيَ اللهُ تَعَالَى عَنْهُمْ/حدیث: 4862]
حدیث نمبر: 4863
قال ابن عُمر: وحدثنا داود بن سنان، سمعت ثعلبة بن أبي مالك، قال: شَهِدْنا الحسن بن علي يومَ مات ودفناه بالبقيع، ولو طُرِحتْ إبرةٌ ما وقعتْ إِلَّا على رأس إنسانٍ (4) .
سیدنا ثعلبہ بن ابی مالک فرماتے ہیں ” میں سیدنا حسن بن علی رضی اللہ عنہما کی شہادت کے وقت اور بقیع مبارک کے قبرستان میں اس کی تدفین کے وقت موجود تھا (وہاں لوگوں کا اس قدر ہجوم تھا کہ) اگر سوئی پھینک دی جاتی تو وہ بھی لوگوں کے سروں پر ہی رہتی۔ (اور نیچے نہ گرتی، کیونکہ نیچے گرنے کی کوئی گنجائش ہی نہیں تھی)۔ [المستدرك على الصحيحين/كِتَابُ مَعْرِفَةِ الصَّحَابَةِ رَضِيَ اللهُ تَعَالَى عَنْهُمْ/حدیث: 4863]
حدیث نمبر: 4864
قال ابن عُمر: وحدثني علي بن محمد (1) ، حدثني مسلمةُ بن مُحارِب، قال: مات الحسن بن علي سنة خمسين لخمسٍ خَلَونَ من ربيع الأول، وهو ابن ستٍّ وأربعين سنة، وصلى عليه سعيدُ بن العاص وكان يبكي، وكان مرضُه أربعين يومًا (2) .
سیدنا محارب کا بیان ہے کہ سیدنا حسن بن علی رضی اللہ عنہما 40 دن کی شدید علالت کے بعد 50 ہجری، ماہ ربیع الاول میں اس دارفانی سے رحلت فرما گئے، اس وقت آپ کی عمر 46 سال تھی۔ سیدنا سعید بن العاص رضی اللہ عنہ نے اشکبار حالت میں ان کی نماز جنازہ پڑھائی۔ [المستدرك على الصحيحين/كِتَابُ مَعْرِفَةِ الصَّحَابَةِ رَضِيَ اللهُ تَعَالَى عَنْهُمْ/حدیث: 4864]
حدیث نمبر: 4865
أخبرنا حمزة بن العباس بن الفضل العقَبي ببغداد، حدثنا الحسن بن سلّام السَّوّاق، حدثنا عبيد الله بن موسى، حدثنا شَيْبان، عن أبي إسحاق قال: بُويعَ لأبي محمد الحسن بن علي بن أبي طالب بالكوفة عَقِيبَ قتل أمير المؤمنين، وأَخَذَ البيعةَ على أصحابه. فحدَّثني حارثة بن مُضرِّب، قال: سمعتُ الحسن بن عليٍّ يقول: والله لا أُبايعُكم إلا على ما أقول لكم، قالوا: ما هي؟ قال: تُسالمون من سالَمْتُ، وتُحاربون من حارَبْتُ. ولما تمَّتِ البيعةُ خَطَبَهم (3)
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 4805 - سكت عنه الذهبي في التلخيص
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 4805 - سكت عنه الذهبي في التلخيص
ابواسحاق بیان کرتے ہیں کہ سیدنا علی رضی اللہ عنہ کی شہادت کے بعد کوفہ میں ابومحمد حسن بن علی رضی اللہ عنہما کی بیعت کی گئی۔ * حارثہ بن مضرب فرماتے ہیں کہ سیدنا حسن بن علی رضی اللہ عنہما نے بعیت لینے سے پہلے لوگوں سے کہا: خدا کی قسم! میں اس وقت تک تمہاری بیعت قبول نہیں کروں گا جب تک تم میری ایک شرط نہیں مانو گے۔ لوگوں نے پوچھا: آپ کی شرط کیا ہے؟ آپ نے فرمایا: یہ کہ تم اس سے صلح رکھو گے جس سے میری صلح ہو گی اور اس سے جنگ کرو گے جس سے میری جنگ ہو گی۔ جب آپ سب سے بیعت لے چکے تو آپ نے تمام لوگوں کو خطبہ دیا۔ [المستدرك على الصحيحين/كِتَابُ مَعْرِفَةِ الصَّحَابَةِ رَضِيَ اللهُ تَعَالَى عَنْهُمْ/حدیث: 4865]