المستدرك على الصحيحين سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم الرسالہ
ترقيم الشرکۃ
عربی لفظ
اردو لفظ
161. ذكر بيعة الحسن بالكوفة
سیدنا حسن بن علی بن ابی طالب رضی اللہ عنہ کے فضائل، نیز ان کی ولادت اور شہادت کا بیان — کوفہ میں سیدنا حسن رضی اللہ عنہ کی بیعت کا بیان
حدیث نمبر: 4865
أخبرنا حمزة بن العباس بن الفضل العقَبي ببغداد، حدثنا الحسن بن سلّام السَّوّاق، حدثنا عبيد الله بن موسى، حدثنا شَيْبان، عن أبي إسحاق قال: بُويعَ لأبي محمد الحسن بن علي بن أبي طالب بالكوفة عَقِيبَ قتل أمير المؤمنين، وأَخَذَ البيعةَ على أصحابه. فحدَّثني حارثة بن مُضرِّب، قال: سمعتُ الحسن بن عليٍّ يقول: والله لا أُبايعُكم إلا على ما أقول لكم، قالوا: ما هي؟ قال: تُسالمون من سالَمْتُ، وتُحاربون من حارَبْتُ. ولما تمَّتِ البيعةُ خَطَبَهم (3)
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 4805 - سكت عنه الذهبي في التلخيص
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 4805 - سكت عنه الذهبي في التلخيص
ابواسحاق بیان کرتے ہیں کہ سیدنا علی رضی اللہ عنہ کی شہادت کے بعد کوفہ میں ابومحمد حسن بن علی رضی اللہ عنہما کی بیعت کی گئی۔ * حارثہ بن مضرب فرماتے ہیں کہ سیدنا حسن بن علی رضی اللہ عنہما نے بعیت لینے سے پہلے لوگوں سے کہا: خدا کی قسم! میں اس وقت تک تمہاری بیعت قبول نہیں کروں گا جب تک تم میری ایک شرط نہیں مانو گے۔ لوگوں نے پوچھا: آپ کی شرط کیا ہے؟ آپ نے فرمایا: یہ کہ تم اس سے صلح رکھو گے جس سے میری صلح ہو گی اور اس سے جنگ کرو گے جس سے میری جنگ ہو گی۔ جب آپ سب سے بیعت لے چکے تو آپ نے تمام لوگوں کو خطبہ دیا۔ [المستدرك على الصحيحين/كتاب معرفة الصحابة رضي الله تعالى عنهم/حدیث: 4865]
المستدرك على الصحيحين کی حدیث نمبر 4865 پر
الشیخ عادل مرشد، ڈاکٹر احمد برہوم، ڈاکٹر محمد کامل قرہ بلی، ڈاکٹر سعید اللحام کی
تخريج وتحقيقِ محدثانہ نکات و اصطلاحی مطالعہ
الشیخ عادل مرشد، ڈاکٹر احمد برہوم، ڈاکٹر محمد کامل قرہ بلی، ڈاکٹر سعید اللحام کی
تخريج وتحقيقِ محدثانہ نکات و اصطلاحی مطالعہ
(3) إسناده صحيح. أبو إسحاق: هو عمرو بن عبد الله السبيعي، وشيبان: هو ابن عبد الرحمن النحوي.
⚖️ درجۂ سند: یہ سند "صحیح" ہے۔ ابواسحاق سے مراد "عمرو بن عبداللہ السبیعی" ہیں اور شیبان سے مراد "ابن عبدالرحمن النحوی" ہیں۔
وأخرج منه قول الحسن بن عليّ: ابن سعد 6/ 370 عن عُبيد الله بن موسى، عن شيبان، عن أبي إسحاق، عن خالد بن مضرب قال: سمعت الحسن بن علي، فذكره. فذكر خالد بن مُضرِّب بدل حارثة بن مضرِّب، وهما أخوان، وهما تابعيان كبيران وأخرج ابن سعد أيضًا 6/ 379 من طريق ميمون بن مهران الجزري، قال: إنَّ الحسن بن علي بن أبي طالب بايع أهل العراق بعد عليٍّ على بيعتين: بايعهم على الإمرة، وبايعهم على أن يدخلوا فيما دخل فيه، ويرضوا بما رضي به.
📖 تخریج / حوالہ جات: اس میں سے حسن بن علی کا قول ابن سعد (6/ 370) نے عبیداللہ بن موسیٰ سے، انہوں نے شیبان سے، انہوں نے ابواسحاق سے، انہوں نے خالد بن مضرب سے روایت کیا کہ میں نے حسن بن علی سے سنا... پھر ذکر کیا۔ انہوں نے حارثہ بن مضرب کی جگہ "خالد بن مضرب" کا ذکر کیا، یہ دونوں بھائی ہیں اور کبار تابعین میں سے ہیں۔ نیز ابن سعد (6/ 379) نے میمون بن مہران الجزری کے طریق سے بھی روایت کیا، انہوں نے کہا: "حسن بن علی بن ابی طالب نے علیؓ کے بعد اہلِ عراق سے دو بیعتیں لیں: ایک امارت پر بیعت، اور دوسری اس بات پر کہ وہ اس میں داخل ہوں گے جس میں حسن داخل ہوں اور اس پر راضی ہوں گے جس پر حسن راضی ہوں۔"