المستدرك على الصحيحين سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم الرسالہ
ترقيم الشرکۃ
عربی لفظ
اردو لفظ
163. فضائل الحسن بن علي بن أبي طالب رضي الله عنه وذكر مولده ومقتله - كانت ولاية الحسن سبعة أشهر وأياما
سیدنا حسن بن علی بن ابی طالب رضی اللہ عنہ کے فضائل، نیز ان کی ولادت اور شہادت کا بیان — سیدنا حسن رضی اللہ عنہ کی حکومت سات ماہ اور چند دن رہی
حدیث نمبر: 4867
حدثني علي بن الحسن القاضي، حدثنا محمد بن موسى، عن محمد بن أبي السَّرِي، عن هشام بن محمد بن الكلبي، عن أبي مِخْنَفٍ، قال: لما وقعتِ البيعةُ للحسن بن علي جَدَّ في مُكاشفِة معاوية والتوجُّه نحوه، فجعل على مُقدِّمتِه عبد الله بنَ جعفر الطيار في عشرة آلاف، ثم أتبعه بقَيس بن سعد في جيش عظيم، فراسل معاويةُ عبد الله بن جعفر، وضَمِنَ له ألف ألفِ دِرهم على أن يَدفَعَ إليه خمس مئة ألف درهم عند مصيره إليه، وخمس مئة ألف درهم إذا صار إلى الحجاز، فأجابه إلى ذلك وخَلَّى مَسِيرَه، وتوجّه إلى معاوية فوفّى له، وتفرَّق العَسكَرُ، وأقام قيسُ بن سعد على جِدِّه، وانضم إليه كثيرٌ ممَّن كان مع عبد الله بن جعفر، وراسله معاوية وأرغَبَه، فلم يَفْتَّه (2) ذلك إلى أن صالح الحسنُ معاوية وسلَّم إليه الأمر، وتوجه الحسنُ وأصحابه للقاء معاوية، وقد جُرح الحسنُ غِيلةً في مُظلِم (1) ساباطَ، جَرَحَه سَنانُ بن الجَرَّاحِ الأَسَدي أحدُ بني نصر بن قُعَين، طعنه في فَخِذه بمِعْول طعنةٌ مُنكَرةٌ، وكان يرى رأي الخوارج، فاعتنقه الحسنُ في يده وصار معه في الأرض، ووَثَبَ إليه عبد الله بن الأخطل القاري، فنزع المِعوَلَ من يد الجرّاح فطعَنَه به، ووَثَبَ عبد الله بن ظبيان بن عُمارة التميمي، فعضَّ وجهه حتى قطع أنفَه، وشَدَخَ رأسه بحَجَر، فمات من وقته، فسُحقًا لأصحاب الشَّقاء، وحُمِلَ الحَسنُ على سريرٍ إلى المدائن، فنزل على سعد بن مسعود الثقفي عمِّ المختار، وكان عامل عليٍّ على المدائن، فجاءه بطبيبٍ فعالَجَه حتى صَلَحَ (2) .
سیدنا ابومخنف سے روایت ہے کہ جب سیدنا حسن بن علی رضی اللہ عنہما کی بیعت ہو گئی تو انہوں نے معاویہ (رضی اللہ عنہ) کے معاملے میں سختی اختیار کی اور ان کی جانب پیش قدمی کا ارادہ فرمایا، انہوں نے دس ہزار جنگجوؤں پر مشتمل ہراول دستے کی کمان عبداللہ بن جعفر طیار کے سپرد کی اور پھر ان کے پیچھے قیس بن سعد کو ایک عظیم لشکر کے ساتھ روانہ کیا، معاویہ نے عبداللہ بن جعفر کو پیغام بھیجا اور ان کے لیے دس لاکھ درہم کی ضمانت دی جس میں سے پانچ لاکھ درہم ان کے پاس پہنچنے پر اور پانچ لاکھ درہم حجاز پہنچنے پر ادا کیے جانے تھے، وہ اس پیشکش پر راضی ہو گئے اور اپنا راستہ چھوڑ کر معاویہ کی جانب چلے گئے جنہوں نے اپنا وعدہ پورا کیا، اس سے لشکر تتر بتر ہو گیا مگر قیس بن سعد اپنی ثابت قدمی پر قائم رہے اور عبداللہ بن جعفر کے ساتھیوں میں سے بہت سے لوگ قیس بن سعد کے ساتھ شامل ہو گئے، معاویہ نے قیس کو بھی پیغامات بھیجے اور انہیں لالچ دیا مگر وہ اپنی جگہ سے نہ ہلے یہاں تک کہ سیدنا حسن رضی اللہ عنہ نے معاویہ سے صلح کر لی اور اقتدار ان کے سپرد کر دیا، جب سیدنا حسن اور ان کے ساتھی معاویہ سے ملاقات کے لیے روانہ ہوئے تو ساباط کے تاریک مقام پر سیدنا حسن پر اچانک قاتلانہ حملہ ہوا، انہیں بنو نصر بن قعین کے ایک شخص سنان بن جراح اسدی نے، جو خارجی نظریات رکھتا تھا، ران پر کدال (بسولے) سے نہایت گہرا اور برا زخم لگایا، سیدنا حسن نے اسے پکڑ لیا اور دونوں زمین پر آ گرے، تب عبداللہ بن اخطل قاری نے لپک کر جراح کے ہاتھ سے کدال چھین کر اسی سے اسے مارا، پھر عبداللہ بن طبیان بن عمارہ تمیمی نے اس کے چہرے کو کاٹا یہاں تک کہ اس کی ناک کٹ گئی اور پتھر سے اس کا سر کچل دیا جس سے وہ وہیں ڈھیر ہو گیا، پس ہلاکت ہے ان بدبختوں کے لیے، سیدنا حسن کو چارپائی پر اٹھا کر مدائن لایا گیا جہاں وہ مختار کے چچا سعد بن مسعود ثقفی کے ہاں ٹھہرے جو سیدنا علی رضی اللہ عنہ کی جانب سے مدائن کے گورنر تھے، انہوں نے طبیب کا انتظام کیا جس نے آپ کا علاج کیا یہاں تک کہ آپ تندرست ہو گئے۔ [المستدرك على الصحيحين/كِتَابُ مَعْرِفَةِ الصَّحَابَةِ رَضِيَ اللهُ تَعَالَى عَنْهُمْ/حدیث: 4867]
تخریج الحدیث: «إسناده تالف وهو معضل أيضًا، وقد روى هذا الخبر أيضًا البلاذري في "أنساب الأشراف" 3/ 280 - 283، وأبو الفرج الأصبهاني في "مقاتل الطالبيين" 62 - 65، غير أنهما خالفا رواية المصنف هنا في أمور، فسمّيا الذي كان على مقدّمة جيش الحسن بن علي عبيد الله بن العباس بن عبد ...» [ترقيم الرساله 4867] [ترقيم الشركة 4835]
الحكم على الحديث: إسناده تالف وهو معضل أيضًا