🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

المستدرك على الصحيحين سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم الرسالہ
ترقيم الشرکۃ
عربی لفظ
اردو لفظ
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

ترقیم الرساله سے تلاش کل احادیث (9018)
حدیث نمبر لکھیں:
ترقیم الشركة سے تلاش کل احادیث (8909)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:

164. إِخْبَارُ النَّبِيِّ بِأَنَّ الْحَسَنَ يُصْلَحُ بِهِ بَيْنَ فِئَتَيْنِ مِنَ الْمُسْلِمِينَ
سیدنا حسن بن علی بن ابی طالب رضی اللہ عنہ کے فضائل، نیز ان کی ولادت اور شہادت کا بیان — نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی خبر کہ سیدنا حسن رضی اللہ عنہ کے ذریعے مسلمانوں کے دو گروہوں میں صلح کرائی جائے گی
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 4868
حدثنا أبو بكر محمد بن إسحاق وعلي بن حَمْشاد، قالا: حدثنا بشر بن موسى، حدثنا الحُميدي، حدثنا سفيان، حدثنا أبو موسى، سمعتُ الحسن يقول: استقبلَ الحَسنُ بن علي معاوية بكتائب أمثال الجبال، فقال عمرو بن العاص: والله إني لأرى كتائب لا تُولِّي أو تقتل أقرانها، فقال معاوية - وكان خير الرجُلين -: أرأيت إن قَتلَ هؤلاء هؤلاء، مَن لي بدمائهم؟ من لي بأمورهم؟ من لي بنسائهم؟ قال: فبعث معاوية عبد الرحمن بن سَمُرة بن حبيب بن عبد شمس - قال سفيان: وكانت له صحبةٌ - فصالح الحسنُ معاوية وسلَّم الأمر له، وبايعه بالخلافة على شروطٍ ووثائق، وحَمَلَ معاوية إلى الحسن مالًا عظيمًا يقال: خمس مئة ألف ألف درهم، وذلك في جمادى الأولى سنة إحدى وأربعين، وإنما كان وَلِيَ إلى أن سَلَّمَ الأمرَ (1) لمعاوية سبعة أشهرٍ وأحد عشر يومًا (2) .
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 4808 - سكت عنه الذهبي في التلخيص
سیدنا حسن رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں: سیدنا حسن بن علی رضی اللہ عنہما نے سیدنا معاویہ رضی اللہ عنہ کی جانب پہاڑوں کے برابر لشکر کے ہمراہ پیش قدمی شروع کی، سیدنا عمرو بن العاص رضی اللہ عنہ نے کہا: خدا کی قسم! میں ایسے لشکر کو دیکھ رہا ہوں جو موت کو تو گلے لگا لیں گے لیکن پیٹھ پھیر کر بھاگنے والے نہیں ہیں، تو سیدنا معاویہ رضی اللہ عنہ نے کہا: اور یہ خیرالرجلین (دو آدمیوں میں سے بہتر) تھے، تمہارا کیا خیال ہے میں ان لوگوں کو قتل ہونے دوں گا جن کے خون، جن کی عورتوں اور جملہ امور کی ذمہ داری میری ہے؟ راوی کہتے ہیں: پھر سیدنا معاویہ رضی اللہ عنہ نے سیدنا عبدالرحمن بن سمرہ بن حبیب بن عبدشمس کو قاصد کے طور پر بھیجا۔ ٭٭ سیدنا سفیان (صحابی ہیں) فرماتے ہیں: سیدنا حسن رضی اللہ عنہ نے سیدنا معاویہ رضی اللہ عنہ کے ساتھ صلح کر لی اور امور سلطنت ان کے سپرد کر کے ان کے ہاتھ پر کچھ شرائط پر خلافت کی بیعت کر لی۔ اور سیدنا معاویہ رضی اللہ عنہ نے آپ کو بہت مال و دولت پیش کیا۔ کہا جاتا ہے کہ پانچ لاکھ درہم پیش کیے تھے۔ وہ واقعہ 41 ہجری جمادی الاولی کا ہے۔ سیدنا معاویہ رضی اللہ عنہ کو امور خلافت سونپنے سے سات ماہ اور گیارہ دن پہلے آپ نے خلافت سنبھالی تھی۔ [المستدرك على الصحيحين/كِتَابُ مَعْرِفَةِ الصَّحَابَةِ رَضِيَ اللهُ تَعَالَى عَنْهُمْ/حدیث: 4868]

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 4869
فأخبرنا عبد الرحمن بن حَمْدان والحُسين بن الحسن، قالا: حدثنا أبو حاتم الرازي، حدثنا محمد بن عبد الله الأنصاري، حدثنا أشعث بن عبد الملك، عن الحسن عن أبي بَكْرة، قال: قال رسول الله ﷺ الحسن بن علي:"إِنَّ ابني هذا سيِّدٌ، لعل الله أن يُصلِحَ به بين فئتين من المسلمين عظيمتين" (3) .
سیدنا ابوبکرہ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے سیدنا حسن بن علی رضی اللہ عنہما کے بارے میں فرمایا: میرا یہ بیٹا سردار ہے، ہو سکتا ہے کہ اللہ تعالیٰ اس کے ذریعے مسلمانوں کے دو عظیم گروہوں کے درمیان صلح کروائے گا۔ [المستدرك على الصحيحين/كِتَابُ مَعْرِفَةِ الصَّحَابَةِ رَضِيَ اللهُ تَعَالَى عَنْهُمْ/حدیث: 4869]

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 4870
وحدثنا محمد بن هانئ، حدثنا الحسين بن الفضل، حدثنا عفان وسليمان بن حرب، قالا حدثنا حماد بن زيد، حدثنا علي بن زيد، عن الحسن، عن أبي بكرة قال: بَيْنا رسول الله ﷺ يخطُب الناس إذ جاء الحَسنُ بن علي فصَعِد إليه فضمه رسول الله ﷺ، وقال:"ألا إن ابني هذا سيّدٌ، وإنَّ الله ﷿ عَلَّه أن يُصلح به بين فئتين من المسلمين عظيمتين" (1) .
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 4810 - أخرجهما البخاري من طريق أبي موسى إسرائيل عن الحسن
سیدنا ابوبکرہ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں: ایک دفعہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم خطبہ دے رہے تھے کہ اسی دوران سیدنا حسن بن علی رضی اللہ عنہما رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آ گئے، آپ علیہ السلام نے ان کو اپنے ساتھ چپکا لیا اور فرمایا: میرا یہ بیٹا سردار ہے اور بے شک اللہ تعالیٰ اس کے ذریعے مسلمانوں کی دو بڑی جماعتوں میں صلح کروائے گا۔ [المستدرك على الصحيحين/كِتَابُ مَعْرِفَةِ الصَّحَابَةِ رَضِيَ اللهُ تَعَالَى عَنْهُمْ/حدیث: 4870]

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 4871
حدثنا أبو العباس محمد بن يعقوب، حدثنا العباس بن محمد الدُّوْرِي، حدثنا قُرَادٌ أبو نُوح، أخبرنا القاسم بن الفضل، عن يوسف بن مازن، قال: عَرَض رجلٌ للحسن بن علي حين بايع معاوية، فأنبَّه وقال: سَوَّدت وجوه المؤمنين، وفعلتَ وفعلت، فقال: لا تُؤنِّبني، فإنَّ رسول الله ﷺ رأى بني أميَّة يتواثَبُون على مِنبَره رجلًا رجلًا، فشق ذلك عليه واهتمَّ، فأنزل الله ﷿: ﴿إِنَّا أَعْطَيْنَاكَ الْكَوْثَرَ (1)[الكوثر: 1] نهرٌ في الجنة، ﴿إِنَّا أَنْزَلْنَاهُ فِي لَيْلَةِ الْقَدْرِ (1) وَمَا أَدْرَاكَ مَا لَيْلَةُ الْقَدْرِ (2) لَيْلَةُ الْقَدْرِ خَيْرٌ مِنْ أَلْفِ شَهْرٍ﴾، يقولُ (1) : بَعدَك (2) .
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 4811 - حذفه الذهبي من التلخيص لضعفه
یوسف بن مازن روایت کرتے ہیں کہ جب سیدنا حسن بن علی رضی اللہ عنہما نے سیدنا معاویہ رضی اللہ عنہ کی بیعت کی تو ایک آدمی نے ان کو ملامت کرتے ہوئے کہا: تم نے مومنین کا منہ کالا کروا دیا، تم نے یہ کیا، تم نے وہ کیا۔ سیدنا حسن رضی اللہ عنہ نے فرمایا: بے شک رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے بنی امیہ کو (خواب میں) ایک ایک کر کے اپنے منبر پر چڑھتے دیکھا تو ان کی یہ حرکت آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو بری لگی، تو اللہ تعالیٰ نے یہ آیت نازل فرما دی اَعْطَیْنَاکَ الْکَوْثَرْ اور کوثر جنت کی ایک نہر ہے۔ اور یہ آیات نازل فرمائیں۔ اِنَّا اَنْزَلْنَاہُ فِی لَیْلَۃِ الْقَدْرِ وَمَا اَدْرَاکَ مَا لَیْلَۃُ الْقَدْرِ لَیْلَۃُ الْقَدْرِ خَیْرٌ مِنْ اَلْفِ شَھْرٍ یہ لوگ آپ کے بعد حکومت کریں گے۔ [المستدرك على الصحيحين/كِتَابُ مَعْرِفَةِ الصَّحَابَةِ رَضِيَ اللهُ تَعَالَى عَنْهُمْ/حدیث: 4871]

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں