🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

المستدرك على الصحيحين سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم الرسالہ
ترقيم الشرکۃ
عربی لفظ
اردو لفظ
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

ترقیم الرساله سے تلاش کل احادیث (9018)
حدیث نمبر لکھیں:
ترقیم الشركة سے تلاش کل احادیث (8909)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:
163. فضائل الحسن بن على بن أبى طالب رضى الله عنه وذكر مولده ومقتله - كانت ولاية الحسن سبعة أشهر وأياما
سیدنا حسن بن علی بن ابی طالب رضی اللہ عنہ کے فضائل، نیز ان کی ولادت اور شہادت کا بیان — سیدنا حسن رضی اللہ عنہ کی حکومت سات ماہ اور چند دن رہی
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 4867
حدثني علي بن الحسن القاضي، حدثنا محمد بن موسى، عن محمد بن أبي السَّرِي، عن هشام بن محمد بن الكلبي، عن أبي مِخْنَفٍ، قال: لما وقعتِ البيعةُ للحسن بن علي جَدَّ في مُكاشفِة معاوية والتوجُّه نحوه، فجعل على مُقدِّمتِه عبد الله بنَ جعفر الطيار في عشرة آلاف، ثم أتبعه بقَيس بن سعد في جيش عظيم، فراسل معاويةُ عبد الله بن جعفر، وضَمِنَ له ألف ألفِ دِرهم على أن يَدفَعَ إليه خمس مئة ألف درهم عند مصيره إليه، وخمس مئة ألف درهم إذا صار إلى الحجاز، فأجابه إلى ذلك وخَلَّى مَسِيرَه، وتوجّه إلى معاوية فوفّى له، وتفرَّق العَسكَرُ، وأقام قيسُ بن سعد على جِدِّه، وانضم إليه كثيرٌ ممَّن كان مع عبد الله بن جعفر، وراسله معاوية وأرغَبَه، فلم يَفْتَّه (2) ذلك إلى أن صالح الحسنُ معاوية وسلَّم إليه الأمر، وتوجه الحسنُ وأصحابه للقاء معاوية، وقد جُرح الحسنُ غِيلةً في مُظلِم (1) ساباطَ، جَرَحَه سَنانُ بن الجَرَّاحِ الأَسَدي أحدُ بني نصر بن قُعَين، طعنه في فَخِذه بمِعْول طعنةٌ مُنكَرةٌ، وكان يرى رأي الخوارج، فاعتنقه الحسنُ في يده وصار معه في الأرض، ووَثَبَ إليه عبد الله بن الأخطل القاري، فنزع المِعوَلَ من يد الجرّاح فطعَنَه به، ووَثَبَ عبد الله بن ظبيان بن عُمارة التميمي، فعضَّ وجهه حتى قطع أنفَه، وشَدَخَ رأسه بحَجَر، فمات من وقته، فسُحقًا لأصحاب الشَّقاء، وحُمِلَ الحَسنُ على سريرٍ إلى المدائن، فنزل على سعد بن مسعود الثقفي عمِّ المختار، وكان عامل عليٍّ على المدائن، فجاءه بطبيبٍ فعالَجَه حتى صَلَحَ (2) .
ابومخنف کا بیان ہے کہ جب سیدنا حسن بن علی رضی اللہ عنہما کی بیعت ہو چکی تو آپ نے سب سے پہلے سیدنا معاویہ والا معاملہ سلجھانے کی طرف توجہ دی، چنانچہ دس ہزار افراد پر مشتمل ایک دستہ تیار کیا جس کی سربراہی سیدنا عبداللہ بن جعفر طیار کے سپرد کی، پھر اس قیس بن سعد کو ان کے پیچھے ایک بڑے لشکر کی ہمراہی میں روانہ کر دیا، جب عبداللہ بن جعفر حجاز کے قریب پہنچے تو سیدنا معاویہ رضی اللہ عنہ نے ان کی جانب خط بھیجا کہ تم ہمارا راستہ چھوڑ دو، جب تم حجاز پہنچ جاؤ گے تو میں تمہیں ایک لاکھ درہم ضمان کے طور پر پیش کروں گا۔ چنانچہ عبداللہ بن جعفر نے ان کی بات مان لی اور جنگ کا ارادہ ترک کر کے سیدنا معاویہ رضی اللہ عنہ کے پاس جا پہنچے، سیدنا معاویہ رضی اللہ عنہ نے ان کو ان کا زر ضمانت ادا کر دیا تو ان کا لشکر وہاں سے ہٹ گیا۔ ادھر قیس بن سعد رضی اللہ عنہ الگ ایک مقام پر پڑاؤ کئے ہوئے تھے ان کے ساتھ اور بھی بہت سارے لوگ آ آ کر شامل ہو رہے تھے، سیدنا عبداللہ بن جعفر رضی اللہ عنہ کے ہمراہ لوگوں کو معاویہ رضی اللہ عنہ نے خطوط لکھے اور ان کی ذہن سازی کی۔ ابھی یہ سلسلہ مکمل نہیں ہوا تھا کہ سیدنا حسن رضی اللہ عنہ نے سیدنا معاویہ رضی اللہ عنہ سے صلح کر لی اور امور خلافت سیدنا معاویہ رضی اللہ عنہ کے سپرد کر دیئے، ادھر سیدنا حسن رضی اللہ عنہ سیدنا معاویہ رضی اللہ عنہ سے ملاقات کی غرض سے روانہ ہوئے تو ساباط کے علاقے میں سیدنا حسن رضی اللہ عنہ کو دھوکے سے زخمی کر دیا گیا۔ سنان بن جراح اسدی جو کہ بنی نصر کا بھائی تھا اس نے کدال کے ساتھ آپ کی ران پر بہت بری طرح نیزہ مارا۔ وہ خوارج کے نظریات رکھتا تھا، سیدنا حسن رضی اللہ عنہ نے اس کو گرفتار کروا کے اپنے ساتھ ساتھ رکھا اور اپنے ہمراہ لے گئے، اور سیدنا عبداللہ بن ظبیان بن عمارہ تمیمی کو اس پر مسلط کر دیا، انہوں نے اس کی شکل بگاڑ کے رکھ دی، اس کا ناک کان وغیرہ کاٹ ڈالے اور ایک پتھر مار کر اس کا سر کچل دیا، جس کی وجہ سے وہ موقع پر ہی ہلاک ہو گیا۔ تو پھٹکار ہو دوزخیوں کو، پھر سیدنا حسن رضی اللہ عنہ کو ایک چارپائی پر ڈال کر مدائن پہنچایا گیا اور مختار کے چچا سعد بن مسعود ثقفی کے ہاں آپ کو ٹھہرایا گیا۔ یہ سعد بن مسعود، سیدنا علی رضی اللہ عنہ کے دور خلافت سے مدائن کے گورنر تھے۔ اس نے ایک طبیب کا انتظام کیا، جس نے آپ کا علاج معالجہ کیا، اور آپ صحت یاب ہو گئے۔ [المستدرك على الصحيحين/كتاب معرفة الصحابة رضي الله تعالى عنهم/حدیث: 4867]

المستدرك على الصحيحين کی حدیث نمبر 4867 پر
الشیخ عادل مرشد، ڈاکٹر احمد برہوم، ڈاکٹر محمد کامل قرہ بلی، ڈاکٹر سعید اللحام کی
تخريج وتحقيقِ محدثانہ نکات و اصطلاحی مطالعہ
(2) في (ص) و (م) و (ع): يفه، والمثبت من (ز) و (ب) هو الجادَّة، والمعنى: لم يكسِرْه ولم يُضعفه معاوية بتلك العِدَة والأمنيّة. وهو من قولهم: فَتَّ في ساعده أو في عَضُده، إذا أضعفه وأوهَنَه.
📝 لغوی تحقیق: نسخہ (ص)، (م) اور (ع) میں لفظ "یفہ" ہے، جبکہ نسخہ (ز) اور (ب) میں جو ثابت کیا گیا ہے وہی صحیح راستہ (جادّہ) ہے۔ اس کا معنی ہے: معاویہ نے اس وعدے اور آرزو کے ذریعے اسے توڑا نہیں اور کمزور نہیں کیا۔ یہ محاورہ "فَتَّ فِی سَاعِدِہِ" یا "فِی عَضُدِہِ" سے ہے، جب کوئی کسی کو کمزور اور نڈھال کر دے۔
(1) تحرّف في النسخ الخطية إلى: مطلع. والصواب ما أثبتنا كما في المصادر التي ذكرت الخبر، ومنها "أنساب الأشراف" للبلاذُري 3/ 282، و "مقاتل الطالبيين" لأبي الفرج الأصبهاني ص 64. وقال ياقوت: مظلم ساباط: مضاف إلى ساباط: مضاف إلى ساباط التي قرب المدائن، موضع هناك.
🔍 تصحیحِ متن / جغرافیہ: قلمی نسخوں میں یہ لفظ تحریف ہو کر "مطلع" بن گیا ہے۔ درست وہ ہے جو ہم نے ثابت کیا ہے جیسا کہ ان مصادر میں ہے جنہوں نے یہ خبر ذکر کی، جیسے بلاذری کی "انساب الاشراف" (3/ 282) اور ابوالفرج الاصبہانی کی "مقاتل الطالبیین" (ص 64)۔ یاقوت (حموی) نے کہا: "مظلم ساباط"؛ یہ "ساباط" کی طرف مضاف ہے جو کہ مدائن کے قریب ایک جگہ کا نام ہے۔
(2) إسناده تالف وهو معضل أيضًا، وقد روى هذا الخبر أيضًا البلاذري في "أنساب الأشراف" 3/ 280 - 283، وأبو الفرج الأصبهاني في "مقاتل الطالبيين" 62 - 65، غير أنهما خالفا رواية المصنف هنا في أمور، فسمّيا الذي كان على مقدّمة جيش الحسن بن علي عبيد الله بن العباس بن عبد المطلب، وسمَّيا الذي طعن الحسن بن علي الجراح بن سِنان، وسمَّيا الذي قَطَع أنفَ الجرّاح ظبيان بن عُمارة.
⚖️ درجۂ سند: یہ سند "تالف" (برباد) ہے اور "معضل" بھی ہے۔ 📖 موازنہ / حوالہ: اس خبر کو بلاذری نے "انساب الاشراف" (3/ 280-283) اور ابوالفرج الاصبہانی نے "مقاتل الطالبیین" (62-65) میں بھی روایت کیا ہے۔ لیکن انہوں نے چند امور میں یہاں مصنف کی روایت کی مخالفت کی ہے: 1. انہوں نے حسن بن علی کے لشکر کے مقدمۃ الجیش (ہر اول دستے) کے سردار کا نام "عبیداللہ بن العباس بن عبدالمطلب" بتایا ہے۔ 2. حسن بن علی کو خنجر مارنے والے کا نام "جراح بن سنان" بتایا ہے۔ 3. اور جس نے جراح کی ناک کاٹی اس کا نام "ظبیان بن عمارہ" بتایا ہے۔
والمكاشفة: إظهار العداوة.
📝 لغوی تشریح: "المکاشفۃ": دشمنی ظاہر کرنا۔