🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

المستدرك على الصحيحين سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم الرسالہ
ترقيم الشرکۃ
عربی لفظ
اردو لفظ
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

ترقیم الرساله سے تلاش کل احادیث (9018)
حدیث نمبر لکھیں:
ترقیم الشركة سے تلاش کل احادیث (8909)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:

172. بَوْلُ الْغُلَامِ الَّذِي لَمْ يَأْكُلْ يُرَشُّ وَبَوْلُ الْجَارِيَةِ يُغْسَلُ
سیدنا حسین بن علی رضی اللہ عنہما کے ابتدائی فضائل — اس بچے کے پیشاب کا حکم جو ابھی دودھ کے سوا کچھ نہ کھاتا ہو کہ اس پر چھینٹے دیے جائیں، اور بچی کے پیشاب کو دھویا جائے
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 4888
حدثنا أبو علي الحسين بن علي الحافظ، أخبرنا يحيى بن محمد بن صاعد، حدثنا سعيد بن عبد الرحمن المخزومي، حدثنا حسين بن زيد العَلَوي، عن جعفر بن محمد، عن أبيه، عن جده، عن علي: أنَّ رسول الله ﷺ أمرَ فاطمةَ فقال:"زِني شعرَ الحُسين وتَصدّقي بوزِنه فضةً، وأَعطي القابلةَ رِجْلَ العَقيقةِ" (3)
هذا حديث صحيح الإسناد، ولم يُخرجاه.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 4828 - ليس بصحيح
سیدنا علی رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے سیدہ فاطمہ رضی اللہ عنہا کو فرمایا: حسین رضی اللہ عنہ کے بالوں کا وزن کر کے اس کے برابر چاندی صدقہ کر دو اور آیا (دائی) کو (کم از کم) عقیقہ کے جانور کا کھر دے دینا۔ ٭٭ یہ حدیث صحیح الاسناد ہے لیکن امام بخاری رحمۃ اللہ علیہ اور امام مسلم رحمۃ اللہ علیہ نے اس کو نقل نہیں کیا۔ [المستدرك على الصحيحين/كِتَابُ مَعْرِفَةِ الصَّحَابَةِ رَضِيَ اللهُ تَعَالَى عَنْهُمْ/حدیث: 4888]

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 4889
أخبرني أبو الحسن أحمد بن محمد العَنزَي، حدثنا عثمان بن سعيد الدِارمي، حدثنا أبو اليَمَان، حدثنا إسماعيل بن عيّاش، حدثنا عطاء بن عَجْلان، عن عِكْرمة، عن ابن عبّاس، عن أم الفضل، قالت: دَخَل علي رسول الله ﷺ وأنا أُرضِعُ الحُسين بن علي بلبن ابنٍ كان يقال له: قُثَم، قالت فتناولَه رسولُ الله ﷺ، فناولتُه إياه، فبالَ عليه، قالت: فأهوَيْتُ بيدي إليه، فقال رسول الله ﷺ:"لا تُزْرِمي ابني"، قالت: فرشَّه بالماء. قال ابن عباس: بَولُ الغلام الذي لم يأكل يُرَشُّ، وبول الجارية يُغسلُ (1) .
هذا حديث قد رُوي بأسانيد، ولم يُخرجاه، فأما إسماعيل بن عيّاش وعطاء بن عجلان، فإنهما لم يُخرجاهما.
سیدنا ام الفضل رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں: میرے پاس رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم تشریف لائے، میں اس وقت سیدنا حسین رضی اللہ عنہ کو اپنے بیٹے (جس کا نام قثم تھا) کے حصے کا دودھ پلا رہی تھی، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھ سے حسین کو مانگا، میں نے سیدنا حسین رضی اللہ عنہ کو آپ کی گود میں دے دیا، سیدنا حسین رضی اللہ عنہ نے آپ علیہ السلام پر پیشاب کر دیا، میں نے اپنے ہاتھ ان کی جانب بڑھائے (تاکہ حسین رضی اللہ عنہ کو میں لے لوں لیکن) حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: میرے بیٹے کو مجھ سے جدا مت کرو، آپ فرماتی ہیں: حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے اس پر پانی چھڑک دیا۔ سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں: دودھ پیتے لڑکے کے پیشاب پر پانی کے چھینٹے مارے جائیں گے جبکہ اسی عمر کی لڑکی کے پیشاب کو دھویا جائے گا۔ ٭٭ یہ حدیث متعدد سندوں کے ہمراہ مروی ہے لیکن اس کے باوجود امام بخاری رحمۃ اللہ علیہ اور امام مسلم رحمۃ اللہ علیہ نے اس کو نقل نہیں کیا۔ تاہم اسماعیل بن عیاش اور عطاء بن عجلان کی روایات شیخین رحمۃ اللہ علیہما نے نقل نہیں کیں۔ [المستدرك على الصحيحين/كِتَابُ مَعْرِفَةِ الصَّحَابَةِ رَضِيَ اللهُ تَعَالَى عَنْهُمْ/حدیث: 4889]

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں