🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

المستدرك على الصحيحين سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم الرسالہ
ترقيم الشرکۃ
عربی لفظ
اردو لفظ
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

ترقیم الرساله سے تلاش کل احادیث (9018)
حدیث نمبر لکھیں:
ترقیم الشركة سے تلاش کل احادیث (8909)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:

174. وَمِنْهُمُ الْبَرَاءُ بْنُ مَعْرُورِ بْنِ صَخْرِ بْنِ خَنْسَاءَ
ان میں سے سیدنا براء بن معرور بن صخر بن خنساء رضی اللہ عنہ ہیں — نقیبوں میں سب سے پہلے گفتگو کرنے والے سیدنا براء بن معرور رضی اللہ عنہ تھے
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 4891
حدثنا أبو العبّاس محمد بن يعقوب، حدثنا أحمد بن عبد الجبار، حدثنا يونس بن بُكير، عن محمد بن إسحاق، قال: حدثني الحُصين بن عبد الرحمن بن سعد بن معاذٍ أخو بني عبد الأشهَل (1) ، عن محمود بن لَبيدٍ أخي بني عبد الأشهَل (1) ، قال: لما قَدِمَ أبو الحَيْسَر أنس بن رافع مكةَ، ومعه فِتيةٌ من بني عبد الأشهل فيهم إياس بن معاذ، يَلتمِسُون الحِلْفَ من قريش على قومهم من الخزرج، فسمع بهم رسولُ الله ﷺ فأتاهم فجلس إليهم، فقال:"هل لكم إلى خيرٍ ممّا جئتُم له؟" قالوا: وما ذاك؟ قال:"أنا رسولُ الله، بَعَثني الله إلى العباد أدعُوهم إلى أن يعبدوا الله ولا يُشرِكوا به شيئًا، وأنزلَ عليَّ الكتاب"، ثم ذكرُ لهم الإسلامَ، وتلا عليهم القرآنَ، فقال إياس بن معاذ وكان غلامًا حَدَثًا: أيْ، قومِ هذا واللهِ خيرٌ ممّا جئتُم له، قال: فيأخُذُ أبو الحَيْسَر حفنةً من البَطْحاء، فضرب بها وجهَ إياس بن معاذ وقال: دَعْنا منك، فلَعَمْرِي لقد جئنا لِغيرِ هذا، فصَمَت إياسٌ، فقام رسولُ الله ﷺ فانصرفوا إلى المدينة، فكانت وقعةُ بُعاثٍ بين الأوس والخَزرج، قال: ثم لم يَلبَث إياسُ بن مُعاذ أن هَلَكَ. قال محمود بن لَبيد: فأخبرني من حَضَره مِن قومي عند موته: أنهم لم يزالوا يسمعونه يُهلِّل الله ويُكبِّرُه ويَحمده ويُسبِّحُه حتى مات قال: فما كانوا يشُكُّون أن قد مات مسلمًا، لقد كان استشعرَ الإسلامَ في ذلك المجلسِ حين سمعَ من رسولِ الله ﷺ ما سمعَ (2) .
هذا حديث صحيح على شرط مسلم، ولم يُخرجاه. ومنهم: البراء بن مَعْرُور بن صخر بن خَنْساء أولُ نَقيبٍ كان في الإسلام ﵁ -
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 4831 - مرسل
ابوعبداللہ الاشہلی کے بھائی محمود بن لبید بیان کرتے ہیں: جب ابوالحیسر انس بن رافع مکہ میں آیا، اس کے ہمراہ بنی عبدالاشہل کے کچھ نوجوان تھے، ان میں ایاس بن معاذ بھی تھے، یہ لوگ خزرج کو اپنی قوم کے خلاف اپنا حلیف بنانے کی غرض سے آئے تھے، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو ان کی آمد کا پتہ چلا تو آپ خود ان کے پاس تشریف لے آئے اور ان کے پاس بیٹھ گئے اور فرمایا: کیا تم یہاں جس مقصد کی خاطر آئے ہو، کیا تمہیں ایسی بھلائی میں کوئی دلچسپی ہے جو اس سے بھی بہتر ہے؟ انہوں نے پوچھا وہ کیا ہے؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: میں اللہ تعالیٰ کا رسول ہوں، اس نے مجھے بندوں کی جانب مبعوث فرمایا ہے تاکہ میں ان کو اللہ تعالیٰ کی عبادت کی طرف بلاؤں اور ان کو شرک کرنے سے روکوں اور اس نے مجھ پر کتاب نازل فرمائی ہے۔ پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کو اسلام کی تعلیمات سے آگاہ کیا اور ان کو قرآن کریم کی تلاوت سنائی۔ ایاس بن معاذ نوجوان تھے، بولے: اے میری قوم! تم جس مقصد کی خاطر آئے ہو اس کے حصول سے زیادہ بہتر یہ ہے۔ (یہ سنتے ہی) ابوالحیسر نے (غصے میں آ کر) زمین سے ایک مٹھی مٹی اٹھا کر سیدنا ایاس رضی اللہ عنہ کے منہ پر ماری اور کہنے لگا: ہمیں اس کی ضرورت نہیں ہے، ہم کسی اور مقصد کی خاطر آئے ہیں۔ لیکن سیدنا ایاس رضی اللہ عنہ جواباً خاموش رہے۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم وہاں سے اٹھ کر مدینہ میں تشریف لے آئے۔ پھر اوس اور خزرج (دونوں قبیلوں) کے درمیان بعاث والا واقعہ رونما ہو گیا، اس کے کچھ ہی دنوں بعد سیدنا ایاس رضی اللہ عنہ کا انتقال ہو گیا۔ محمود بن لبید کہتے ہیں: ان کی وفات کے وقت جو لوگ وہاں موجود تھے، انہوں نے مجھے یہ بات بتائی ہے کہ روح نکلنے تک سیدنا ایاس رضی اللہ عنہ مسلسل اللہ تعالیٰ کی تکبیر، تسبیح و تحمید کرتے رہے۔ آپ فرماتے ہیں: صحابہ کرام رضی اللہ عنہم کو اس بات پر یقین تھا کہ ان کا خاتمہ اسلام پر ہوا ہے۔ اس مجلس میں جب انہوں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی گفتگو سنی تھی تو اسی وقت ان کو اسلام کا شعور آ گیا تھا۔ (اور وہ مسلمان ہو گئے تھے) ٭٭ یہ حدیث امام مسلم رحمۃ اللہ علیہ کے معیار کے مطابق صحیح ہے لیکن امام بخاری رحمۃ اللہ علیہ اور امام مسلم رحمۃ اللہ علیہ نے اس کو نقل نہیں کیا۔ [المستدرك على الصحيحين/كِتَابُ مَعْرِفَةِ الصَّحَابَةِ رَضِيَ اللهُ تَعَالَى عَنْهُمْ/حدیث: 4891]

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 4892
حدثنا أبو عبد الله محمد بن أحمد بن بَطّة الأصبهاني، حدثنا الحسن بن جَهْم، حدثنا الحسين بن الفَرَج، عن محمد بن عمر، عن يحيى بن عبد الله بن أبي قَتَادة، عن أبيه، عن جده، قال: كان موتُ البَراء بن مَغرور في صَفَر قبل قُدوم النبي ﷺ بشهر. وكان أول من تكلم من النُّقَباء (1) .
سیدنا یحیی بن عبداللہ بن ابی قتادہ اپنے والد سے وہ ان کے دادا سے روایت کرتے ہیں کہ سیدنا براء بن معرور رضی اللہ عنہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے مدینہ تشریف لانے سے ایک مہینہ پہلے ماہ صفر المظفر میں انتقال کر گئے تھے۔ اور یہ نقباء صحابہ میں سب سے پہلے صحابی ہیں۔ [المستدرك على الصحيحين/كِتَابُ مَعْرِفَةِ الصَّحَابَةِ رَضِيَ اللهُ تَعَالَى عَنْهُمْ/حدیث: 4892]

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں