🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

Join Whatsapp Channel
المستدرك على الصحيحين سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم الرسالہ
ترقيم الشرکۃ
عربی لفظ
اردو لفظ
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

ترقیم الرساله سے تلاش کل احادیث (9018)
حدیث نمبر لکھیں:
ترقیم الشركة سے تلاش کل احادیث (8909)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:

179. ذَهَابُ خَدِيجَةَ بِالنَّبِيِّ إِلَى وَرَقَةَ وَتَصْدِيقُهُ
ان میں سے سیدہ خدیجہ بنت خویلد بن اسد بن عبدالعزیٰ رضی اللہ عنہا ہیں — سیدہ خدیجہ رضی اللہ عنہا کا نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو ورقہ کے پاس لے جانا اور ان کی تصدیق کرنا
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 4902
حدثنا أبو زكريا يحيى بن محمد العَنْبري، حدثنا أبو عبد الله محمد بن إبراهيم، حدثنا أحمد بن حنبل وزهير بن حرب، قالا حدثنا يعقوب بن إبراهيم بن سعد، حدثني أبي، عن محمد بن إسحاق، عن يحيى بن أبي الأشعث، عن إسماعيل بن إياس بن عفيف، عن أبيه، عن جده (1) عَفيف بن عمرو، قال: كنتُ امرَأً تاجرًا وكنت صديقًا للعباس بن عبد المطَّلب في الجاهلية، فقدمتُ لِتجارةٍ فنزلتُ على العباس بن عبد المطلب بمِنًى، فجاء رجلٌ فنَظَر إلى الشمس حين مالَتْ، فقام يُصلِّي، ثم جاءت امرأةٌ فقامت تُصلّي، ثم جاء غُلامٌ حينَ راهَقَ الحُلُمَ فقام يُصلِّي، فقلت للعباس: من هذا؟ فقال: هذا محمدُ بن عبد الله بن عبد المُطّلب ابن أَخِي يَزْعُم أنه نبيٌّ، ولم يتابعْه على أمره غيرُ هذه المرأةِ وهذا الغلامِ، وهذه المرأةُ خديجةُ بنتُ خُويلِد امرأتُه، وهذا الغلام ابن عمِّه عليُّ بن أبي طالب. قال عَفِيف بن عَمرو - وأسلمَ وحَسُنَ إسلامه -: لوَدِدتُ أني كنتُ أسلمتُ يومئذٍ، فيكونَ لي رُبعُ الإسلامِ (1) .
هذا حديث صحيح الإسناد، ولم يُخرجاه.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 4842 - صحيح
عفیف بن عمرو سے روایت ہے، انہوں نے کہا: میں ایک تاجر تھا اور زمانہ جاہلیت میں عباس بن عبدالمطلب کا دوست تھا، میں تجارت کی غرض سے آیا اور منیٰ میں عباس بن عبدالمطلب کے پاس ٹھہرا، (وہاں میں نے دیکھا کہ) ایک شخص آیا اور جب سورج ڈھل گیا تو وہ کھڑا ہو کر نماز پڑھنے لگا، پھر ایک خاتون آئیں اور وہ بھی کھڑی ہو کر نماز پڑھنے لگیں، پھر ایک لڑکا آیا جو ابھی جوانی کے قریب تھا اور وہ بھی کھڑا ہو کر نماز پڑھنے لگا، میں نے عباس سے پوچھا: یہ کون ہے؟ انہوں نے کہا: یہ محمد بن عبداللہ بن عبدالمطلب ہے، میرا بھتیجا، اس کا دعویٰ ہے کہ وہ نبی ہے، اور اس کے اس معاملے میں سوائے اس خاتون اور اس لڑکے کے کسی نے اس کی پیروی نہیں کی، یہ خاتون خدیجہ بنت خویلد اس کی بیوی ہے اور یہ لڑکا اس کا چچا زاد بھائی علی بن ابی طالب ہے، عفیف بن عمرو (جب وہ اسلام لائے اور ان کا اسلام بہترین ہو گیا) کہا کرتے تھے: میری یہ تمنا تھی کہ کاش میں اسی دن اسلام قبول کر لیتا تو میں اسلام کا چوتھا حصہ (چوتھا مسلمان) ہوتا۔
یہ حدیث صحیح الاسناد ہے لیکن شیخین نے اسے روایت نہیں کیا۔ [المستدرك على الصحيحين/كِتَابُ مَعْرِفَةِ الصَّحَابَةِ رَضِيَ اللهُ تَعَالَى عَنْهُمْ/حدیث: 4902]
تخریج الحدیث: [ترقيم الرساله 4902] [ترقيم الشركة 4870] [ترقيم العلميه 4842]

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 4903
حدثني علي بن حَمْشَاذَ العَدْل، حدثنا يزيد بن الهيثم الدَّقّاق، حدثني محمد بن إسحاق المُسيَّبي، حدثنا عبد الله بن معاذ الصَّنْعاني، حدثني مَعمَر بن راشد، عن الزُّهْري، قال: أخبرني عُرْوة بن الزبير، عن عائشةَ زوجِ النبي ﷺ، أنها قالت: أولُ ما بُدئ به رسولُ الله ﷺ منِ الوحي الرؤيا الصادقةُ في النوم، كان لا يرى رؤيا إلَّا جاءتْه مثلَ فَلَقِ الصُّبحِ، ثم حُبِّبَ إليه الخَلَاءُ، فكان يأتي جبلَ جِراءٍ فيتحنَّث - وهو التعبُّد - حتى فاجأَه الحقُّ وهو في غار حِراءٍ فجاءه الملَكُ فيه، فقال: اقرأْ، قال:"فقلت: ما أنا بقاريٍ، قال: فأخذني فغَطَّني حتى بلَغَ مني الجَهْدَ، ثم أرسلَني، فقال لي: ﴿اقْرَأْ بِاسْمِ رَبِّكَ الَّذِي خَلَقَ (1) خَلَقَ الْإِنْسَانَ مِنْ عَلَقٍ (2) اقْرَأْ وَرَبُّكَ الْأَكْرَمُ (3) الَّذِي عَلَّمَ بِالْقَلَمِ (4) عَلَّمَ الْإِنْسَانَ مَا لَمْ يَعْلَمْ﴾، قال: فرجَعَ بها تَرجُفُ بَوادِرُه، حتى دخل على خديجةَ، فقال:"زَمِّلُونِي زَمِّلُونِي" فَزَمَّلوه حتى ذهب عنه الرَّوعُ، فقال:"يا خديجةُ، ما لي؟" فأخبرَها الخبرَ، وقال:"قد خَشِيتُ عَلَيَّ" فقالت له: كلَّا أَبشِرْ، فواللهِ لا يُخزِيكَ اللهُ أبدًا، إنك لتَصِلُ الرحِمَ، وتَصدُقُ في الحديث، وتَحمِلُ الكَلَّ، وتَقرِي الضَّيف، وتُعينُ على نَوائبِ الحقِّ، ثم انطلَقتْ به خديجةُ حتى أتت به وَرَقةَ بنَ نَوفلِ بن أسد بن عبد العُزّى بن قُصي، وهو عمُّ خديجةَ أخو أبيها، وكان امرَأً تَنصَّر في الجاهلية، وكان يكتُب العربيةَ ويكتبُ بالعربيةَ من الإنجيل ما شاء الله أن يَكتبَ، وكان شيخًا كبيرًا قد عَمِي، قالت خديجةُ: أيْ عمِّ، اسمَعْ من ابن أخيك، قال ورقةُ بن نَوفَل: يا ابن أخي، ماذا تَرى؟ فأخبَرَه رسولُ الله ﷺ خبرَ ما رأى فقال ورقةُ: هذا الناموسُ الذي أُنزل على موسى ﷺ، (1) .
هذا حديث صحيح على شرط الشيخين ولم يُخرجاه بهذه السِّياقة!
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 4843 - حذفه الذهبي من التلخيص لضعفه
سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم پر وحی کی ابتدا نیند میں سچے خوابوں سے ہوئی، آپ صلی اللہ علیہ وسلم جو بھی خواب دیکھتے وہ صبح کی روشنی کی طرح واضح ہو کر سامنے آ جاتا، پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے دل میں تنہائی کی محبت ڈال دی گئی، آپ صلی اللہ علیہ وسلم غار حرا میں جا کر تحنث یعنی عبادت کیا کرتے تھے یہاں تک کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس حق آ پہنچا جبکہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم غار حرا میں ہی تھے، وہاں آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس فرشتہ آیا اور اس نے کہا: پڑھیے، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: میں پڑھا ہوا نہیں ہوں، آپ صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں: پس فرشتے نے مجھے پکڑ کر زور سے بھینچا یہاں تک کہ میری طاقت جواب دینے لگی، پھر اس نے مجھے چھوڑ دیا اور کہا: ﴿اقْرَأْ بِاسْمِ رَبِّكَ الَّذِي خَلَقَ (1) خَلَقَ الْإِنْسَانَ مِنْ عَلَقٍ (2) اقْرَأْ وَرَبُّكَ الْأَكْرَمُ (3) الَّذِي عَلَّمَ بِالْقَلَمِ (4) عَلَّمَ الْإِنْسَانَ مَا لَمْ يَعْلَمْ﴾ [سورة العلق: 1-5] ، راویہ کہتی ہیں: پھر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ان آیات کے ساتھ واپس لوٹے تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے کندھے لرز رہے تھے یہاں تک کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم سیدہ خدیجہ رضی اللہ عنہا کے پاس پہنچے اور فرمایا: مجھے چادر اڑھا دو، مجھے چادر اڑھا دو، پس انہوں نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو چادر اڑھا دی یہاں تک کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کا خوف دور ہو گیا، پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اے خدیجہ! مجھے کیا ہو گیا ہے؟ اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے انہیں سارا واقعہ سنایا اور فرمایا: مجھے اپنی جان کا ڈر لگ گیا ہے، تو انہوں نے عرض کیا: ہرگز نہیں، آپ کو خوشخبری ہو، اللہ کی قسم! اللہ آپ کو کبھی رسوا نہیں کرے گا، آپ تو صلہ رحمی کرتے ہیں، سچ بولتے ہیں، بے سہارا لوگوں کا بوجھ اٹھاتے ہیں، مہمان نوازی کرتے ہیں اور حق کی راہ میں پیش آنے والی مصیبتوں میں لوگوں کی مدد کرتے ہیں، پھر سیدہ خدیجہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو ورقہ بن نوفل بن اسد کے پاس لے گئیں جو کہ سیدہ خدیجہ کے چچا زاد بھائی تھے اور زمانہ جاہلیت میں عیسائی ہو گئے تھے، وہ عربی لکھنا جانتے تھے اور انجیل کا جتنا حصہ اللہ چاہتا وہ عربی میں لکھ لیا کرتے تھے، وہ بہت بوڑھے اور نابینا ہو چکے تھے، سیدہ خدیجہ نے کہا: اے میرے چچا کے بیٹے! اپنے بھتیجے کی بات سنیں، ورقہ بن نوفل نے پوچھا: اے میرے بھتیجے! آپ کیا دیکھتے ہیں؟ تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے جو کچھ دیکھا تھا وہ بتا دیا، ورقہ نے کہا: یہ وہی ناموس یعنی فرشتہ ہے جو موسیٰ علیہ السلام پر نازل کیا گیا تھا۔
یہ حدیث شیخین کی شرط پر صحیح ہے لیکن انہوں نے اسے اس سیاق کے ساتھ روایت نہیں کیا۔ [المستدرك على الصحيحين/كِتَابُ مَعْرِفَةِ الصَّحَابَةِ رَضِيَ اللهُ تَعَالَى عَنْهُمْ/حدیث: 4903]
تخریج الحدیث: «إسناده ضعيف، يحيى بن أبي الأشعث ومَن فوقه مجاهيل. ومع ذلك حسَّنه ابن عبد البر في "الاستيعاب" ص 588.» [ترقيم الرساله 4903] [ترقيم الشركة 4871] [ترقيم العلميه 4843]

الحكم على الحديث: إسناده ضعيف
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 4904
حدثنا أبو العبّاس محمد بن يعقوب، حدثنا عبد الله بن أسامة الحَلَبي، حدثنا حجّاج بن أبي مَنيع، حدثني عُبيد الله بن أبي زياد، عن الزُّهْري، قال: كانت خديجةُ أولَ مَنْ آمَنَ برسولِ الله ﷺ من النساء (1) .
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 4844 - حذفه الذهبي من التلخيص لضعفه
امام زہری سے روایت ہے کہ خواتین میں سب سے پہلے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم پر ایمان لانے والی شخصیت سیدہ خدیجہ رضی اللہ عنہا کی تھی۔ [المستدرك على الصحيحين/كِتَابُ مَعْرِفَةِ الصَّحَابَةِ رَضِيَ اللهُ تَعَالَى عَنْهُمْ/حدیث: 4904]
تخریج الحدیث: «إسناده جيد إلى الزهري.» [ترقيم الرساله 4904] [ترقيم الشركة 4872] [ترقيم العلميه 4844]

الحكم على الحديث: إسناده جيد
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں