المستدرك على الصحيحين سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم الرسالہ
ترقيم الشرکۃ
عربی لفظ
اردو لفظ
179. ذهاب خديجة بالنبي إلى ورقة وتصديقه
ان میں سے سیدہ خدیجہ بنت خویلد بن اسد بن عبدالعزیٰ رضی اللہ عنہا ہیں — سیدہ خدیجہ رضی اللہ عنہا کا نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو ورقہ کے پاس لے جانا اور ان کی تصدیق کرنا
حدیث نمبر: 4902
حدثنا أبو زكريا يحيى بن محمد العَنْبري، حدثنا أبو عبد الله محمد بن إبراهيم، حدثنا أحمد بن حنبل وزهير بن حرب، قالا حدثنا يعقوب بن إبراهيم بن سعد، حدثني أبي، عن محمد بن إسحاق، عن يحيى بن أبي الأشعث، عن إسماعيل بن إياس بن عفيف، عن أبيه، عن جده (1) عَفيف بن عمرو، قال: كنتُ امرَأً تاجرًا وكنت صديقًا للعباس بن عبد المطَّلب في الجاهلية، فقدمتُ لِتجارةٍ فنزلتُ على العباس بن عبد المطلب بمِنًى، فجاء رجلٌ فنَظَر إلى الشمس حين مالَتْ، فقام يُصلِّي، ثم جاءت امرأةٌ فقامت تُصلّي، ثم جاء غُلامٌ حينَ راهَقَ الحُلُمَ فقام يُصلِّي، فقلت للعباس: من هذا؟ فقال: هذا محمدُ بن عبد الله بن عبد المُطّلب ابن أَخِي يَزْعُم أنه نبيٌّ، ولم يتابعْه على أمره غيرُ هذه المرأةِ وهذا الغلامِ، وهذه المرأةُ خديجةُ بنتُ خُويلِد امرأتُه، وهذا الغلام ابن عمِّه عليُّ بن أبي طالب. قال عَفِيف بن عَمرو - وأسلمَ وحَسُنَ إسلامه -: لوَدِدتُ أني كنتُ أسلمتُ يومئذٍ، فيكونَ لي رُبعُ الإسلامِ (1) .
هذا حديث صحيح الإسناد، ولم يُخرجاه.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 4842 - صحيح
هذا حديث صحيح الإسناد، ولم يُخرجاه.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 4842 - صحيح
سیدنا عفیف بن عمرو رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ میں تاجر شخص تھا اور زمانہ جاہلیت میں سیدنا عباس بن عبدالمطلب رضی اللہ عنہ کا دوست تھا، میں ایک مرتبہ تجارت کی غرض سے آیا ہوا تھا اور منی میں سیدنا عباس بن عبدالمطلب رضی اللہ عنہ کے پاس بیٹھا ہوا تھا، اسی اثناء میں ایک آدمی آیا، اور جب سورج ڈھل گیا تو نماز پڑھنے لگ گیا، پھر ایک عورت آئی اور وہ بھی نماز میں مشغول ہو گئی، اس کے بعد ایک قریب البلوغ بچہ آیا اور وہ بھی نماز پڑھنے لگ گیا۔ میں نے سیدنا عباس رضی اللہ عنہ سے پوچھا کہ یہ کون لوگ ہیں؟ انہوں نے بتایا کہ یہ میرا چچا زاد بھائی محمد بن عبداللہ بن عبدالمطلب ہے، یہ اپنے آپ کو نبی سمجھتا ہے، اور ابھی تک اس عورت اور بچے کے علاوہ کسی نے بھی اس کی پیروی اختیار نہیں کی ہے۔ اور یہ عورت اس کی بیوی خدیجہ بنت خویلد رضی اللہ عنہا ہے اور یہ لڑکا اس کا چچا زاد بھائی علی بن ابی طالب رضی اللہ عنہ ہے۔ بعد میں سیدنا عفیف الکندی ایمان لے آئے تھے، آپ فرمایا کرتے تھے، کاش کہ میں اس دن ایمان لے آتا تو میں چوتھا مسلمان ہوتا۔ ٭٭ یہ حدیث صحیح الاسناد ہے لیکن امام بخاری رحمۃ اللہ علیہ اور امام مسلم رحمۃ اللہ علیہ نے اس کو نقل نہیں کیا۔ سیدنا عفیف بن عمرو الکندی کی اولاد امجاد کی سند کے ہمراہ مروی ایک حدیث مذکورہ حدیث کی شاہد ہے۔ جو کہ درج ذیل ہے۔ [المستدرك على الصحيحين/كتاب معرفة الصحابة رضي الله تعالى عنهم/حدیث: 4902]
المستدرك على الصحيحين کی حدیث نمبر 4902 پر
الشیخ عادل مرشد، ڈاکٹر احمد برہوم، ڈاکٹر محمد کامل قرہ بلی، ڈاکٹر سعید اللحام کی
تخريج وتحقيقِ محدثانہ نکات و اصطلاحی مطالعہ
الشیخ عادل مرشد، ڈاکٹر احمد برہوم، ڈاکٹر محمد کامل قرہ بلی، ڈاکٹر سعید اللحام کی
تخريج وتحقيقِ محدثانہ نکات و اصطلاحی مطالعہ
(1) وقع في نسخ "المستدرك" وفي "تلخيصه" للذهبي: محمد بن إسحاق عن إسماعيل بن عمرو بن عفيف عن جدِّه عفيف بن عمرو، فأُبدل اسم إياس والد إسماعيل إلى عمرو، وسقط اسم والد إسماعيل من الإسناد، فصارت رواية إسماعيل عن جدِّه مباشرة، وسقط أيضًا اسم يحيى بن أبي الأشعث، وكذلك جاء في "إتحاف المهرة" لابن حجر (13849)، ومن قبله جاء في نسخة "المستدرك" التي اعتمدها الزيلعي في "نصب الراية" 3/ 459، ممّا يعني أن هذا خطأ قديم، وربما يكون كذلك وقع للحاكم، أصلًا، وعلى أي حالٍ فلا بد من تصحيح هذا الخطأ، وقد تمَّ تصحيحه من "المسند" لأحمد بن حنبل 3 / (1787)، ومن المصادر التي خرَّجت هذا الخبر من طريق زهير بن حرب مثل "التاريخ الكبير" لأحمد بن زهير بن حرب في السفر الثالث منه (388)، و "المعجم الكبير" للطبراني (18/ 1811)، و"الضعفاء الكبير" للعقيلي (95)، وكذلك رواه عن يعقوب بن إبراهيم بن سعدٍ جماعةٌ من الثقات الحفاظ غير أحمد وزهير بن حرب، وكذلك رواه عن محمد ابن إسحاق يونسُ بنُ بكير، فهذا المثبت هو الصواب لا محالة.
🔍 تصحیحِ سند: "المستدرک" اور ذہبی کی "التلخیص" میں سند یوں آئی ہے: "محمد بن اسحاق عن اسماعیل بن عمرو بن عفیف عن جدہ عفیف بن عمرو"۔ یہاں اسماعیل کے والد "ایاس" کا نام بدل کر "عمرو" کر دیا گیا، اور سند سے اسماعیل کے والد کا نام گر گیا، جس سے روایت اسماعیل کی اپنے دادا سے براہِ راست ہو گئی۔ نیز "یحییٰ بن ابی الاشعث" کا نام بھی گر گیا۔ ابن حجر کی "اتحاف المہرۃ" (13849) اور زیلعی کی "نصب الرایہ" (3/ 459) میں بھی یہی غلطی ہے، جس سے معلوم ہوتا ہے کہ یہ قدیم غلطی ہے، شاید حاکم سے ہی ہوئی ہو۔ بہرحال اس کی تصحیح ضروری تھی۔ اس کی تصحیح "مسند احمد" (3/ 1787) اور زہیر بن حرب کے طریق سے تخریج کرنے والے دیگر مصادر جیسے احمد بن زہیر کی "التاریخ الکبیر" (3/ 388)، طبرانی کی "المعجم الکبیر" (18/ 1811) اور عقیلی کی "الضعفاء الکبیر" (95) سے کی گئی ہے۔ نیز یعقوب بن ابراہیم بن سعد سے اسے دیگر ثقہ حفاظ نے بھی روایت کیا ہے، اور محمد بن اسحاق سے یونس بن بکیر نے بھی روایت کیا ہے۔ پس جو ہم نے ثابت کیا ہے وہی یقینی طور پر درست ہے۔