🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

Join Whatsapp Channel
المستدرك على الصحيحين سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم الرسالہ
ترقيم الشرکۃ
عربی لفظ
اردو لفظ
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

ترقیم الرساله سے تلاش کل احادیث (9018)
حدیث نمبر لکھیں:
ترقیم الشركة سے تلاش کل احادیث (8909)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:

219. ذِكْرُ مَنَاقِبِ حَارِثَةَ بْنِ النُّعْمَانِ . وَهُوَ ابْنُ نَفْعٍ أَحَدِ بَنِي غَنْمِ بْنِ مَالِكٍ يُكَنَّى أَبَا عَبْدِ اللَّهِ شَهِدَ بَدْرًا فَاسْتُشْهِدَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ .
سیدنا حارثہ بن نعمان (رضی اللہ عنہ) کے مناقب کا تذکرہ۔ وہ ابنِ نقع ہیں اور بنو غنم بن مالک سے تعلق رکھتے ہیں، ان کی کنیت ابو عبداللہ ہے۔ وہ غزوۂ بدر میں شریک ہوئے اور اسی میں مرتبہ شہادت پر فائز ہوئے، اللہ ان سے راضی ہو۔
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 4992
أخبرني عبد الله بن محمد بن زياد، حَدَّثَنَا محمد بن إسحاق، حَدَّثَنَا أبو موسى، حدثني أبو المُساوِر الفضل بن مُساوِرٍ، حَدَّثَنَا أبو عَوانةَ، عن الأعمش، حَدَّثَنَا أبو صالح، عن جابر بن عبد الله قال: سمعتُ رسولَ الله ﷺ يقول:"اهتزَّ عرشُ الرحمن لمَوتِ سَعْدِ بن مُعاذٍ" قال: فقال رجلٌ لجابر: فإنَّ البراءَ يقولُ: اهتَزَّ السَّريرُ، فقال: إنه كان بين هذَينِ الحيَّينِ الأوسِ والخزرجِ ضَغَائنُ، سمعتُ رسولَ الله ﷺ يقول:"اهتَزَّ عرشُ الرحمنِ لمَوتِ سَعْدِ بن معاذٍ" (1) . صحيح الإسناد، ولم يُخرجاه. ذكرُ مناقب حارثة بن النعمان وهو ابن نُفيع أحد بني غَنْم بن مالك بن النجَّار، يُكنى أبا عبد الله، شهد بدرًا فاستُشهِد.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 4928 - صحيح
سیدنا جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہما سے روایت ہے، انہوں نے کہا کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ فرماتے ہوئے سنا: سعد بن معاذ کی موت پر عرشِ رحمان ہل اٹھا، ایک شخص نے جابر سے کہا کہ براء (بن عازب) تو کہتے ہیں کہ (جنازے کا) تخت ہلا تھا، تو جابر نے جواب دیا: ان دونوں قبیلوں اوس اور خزرج کے درمیان کچھ پرانی رنجشیں تھیں (جس کی وجہ سے بات بدلی گئی)، میں نے تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو یہی فرماتے سنا کہ سعد بن معاذ کی موت پر عرشِ رحمان ہل اٹھا۔
یہ حدیث صحیح الاسناد ہے لیکن شیخین نے اسے روایت نہیں کیا۔ [المستدرك على الصحيحين/كِتَابُ مَعْرِفَةِ الصَّحَابَةِ رَضِيَ اللهُ تَعَالَى عَنْهُمْ/حدیث: 4992]
تخریج الحدیث: «إسناده صحيح،أبو موسى: هو محمد بن المثنّى، وأبو عوانة: هو الوضّاح بن عبد الله اليَشكُري، والأعمش: هو سليمان بن مهران، وأبو صالح: هو ذكوان السمّان.» [ترقيم الرساله 4992] [ترقيم الشركة 4958] [ترقيم العلميه 4928]

الحكم على الحديث: إسناده صحيح
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 4993
أخبرنا أحمد بن سُلَيمان المَوصِلي، حَدَّثَنَا علي بن حَرْب، حَدَّثَنَا سفيان، عن الزُّهري، عن عَمْرة، عن عائشة، أنَّ النَّبِيّ ﷺ قال:"دخَلتُ الجنةَ فسمعتُ فيها قراءةً، فقلتُ: مَن هذا؟ قالوا: حارثةُ بن النُّعمان، كذلِكُم البِرُّ، كذلِكُم البِرُّ" (1) .
هذا حديث صحيح على شرط الشيخين، ولم يُخرجاه.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 4929 - على شرط البخاري ومسلم
سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: میں جنت میں داخل ہوا تو وہاں قرآت کی آواز سنی، میں نے پوچھا: یہ کون ہے؟ فرشتوں نے جواب دیا: یہ حارثہ بن نعمان ہیں، (نیکی کا صلہ) ایسا ہی ہوتا ہے، والدین کے ساتھ حسنِ سلوک کا بدلہ ایسا ہی ہوتا ہے۔
یہ حدیث شیخین کی شرط پر صحیح ہے لیکن انہوں نے اسے روایت نہیں کیا۔ [المستدرك على الصحيحين/كِتَابُ مَعْرِفَةِ الصَّحَابَةِ رَضِيَ اللهُ تَعَالَى عَنْهُمْ/حدیث: 4993]
تخریج الحدیث: «إسناده صحيح،سفيان: هو ابن عُيينة، والزهري: هو محمد بن مسلم بن عُبيد الله، وعَمْرة: هي ابنة عبد الرحمن بن سَعْد بن زُرارة.» [ترقيم الرساله 4993] [ترقيم الشركة 4959] [ترقيم العلميه 4929]

الحكم على الحديث: إسناده صحيح
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں