المستدرك على الصحيحين سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم الرسالہ
ترقيم الشرکۃ
عربی لفظ
اردو لفظ
219. ذكر مناقب حارثة بن النعمان . وهو ابن نفع أحد بني غنم بن مالك يكنى أبا عبد الله شهد بدرا فاستشهد رضى الله عنه .
سیدنا حارثہ بن نعمان (رضی اللہ عنہ) کے مناقب کا تذکرہ۔ وہ ابنِ نقع ہیں اور بنو غنم بن مالک سے تعلق رکھتے ہیں، ان کی کنیت ابو عبداللہ ہے۔ وہ غزوۂ بدر میں شریک ہوئے اور اسی میں مرتبہ شہادت پر فائز ہوئے، اللہ ان سے راضی ہو۔
حدیث نمبر: 4993
أخبرنا أحمد بن سُلَيمان المَوصِلي، حَدَّثَنَا علي بن حَرْب، حَدَّثَنَا سفيان، عن الزُّهري، عن عَمْرة، عن عائشة، أنَّ النَّبِيّ ﷺ قال:"دخَلتُ الجنةَ فسمعتُ فيها قراءةً، فقلتُ: مَن هذا؟ قالوا: حارثةُ بن النُّعمان، كذلِكُم البِرُّ، كذلِكُم البِرُّ" (1) .
هذا حديث صحيح على شرط الشيخين، ولم يُخرجاه.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 4929 - على شرط البخاري ومسلم
هذا حديث صحيح على شرط الشيخين، ولم يُخرجاه.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 4929 - على شرط البخاري ومسلم
ام المومنین سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں: نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: میں جنت میں داخل ہوا، میں نے وہاں پر قراءے کی آواز سنی، میں نے پوچھا: یہ کون ہے؟ ملائکہ نے جواب دیا: یہ حارثہ بن نعمان ہیں۔ تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: نیکی کا صلہ یہی ہے، نیکی کا صلہ یہی ہے۔ ٭٭ یہ حدیث امام بخاری رحمۃ اللہ علیہ امام مسلم رحمۃ اللہ علیہ کے معیار کے مطابق صحیح ہے لیکن شیخین رحمۃ اللہ علیہما نے اس کو نقل نہیں کیا۔ [المستدرك على الصحيحين/كتاب معرفة الصحابة رضي الله تعالى عنهم/حدیث: 4993]
المستدرك على الصحيحين کی حدیث نمبر 4993 پر
الشیخ عادل مرشد، ڈاکٹر احمد برہوم، ڈاکٹر محمد کامل قرہ بلی، ڈاکٹر سعید اللحام کی
تخريج وتحقيقِ محدثانہ نکات و اصطلاحی مطالعہ
الشیخ عادل مرشد، ڈاکٹر احمد برہوم، ڈاکٹر محمد کامل قرہ بلی، ڈاکٹر سعید اللحام کی
تخريج وتحقيقِ محدثانہ نکات و اصطلاحی مطالعہ
(1) إسناده صحيح. سفيان: هو ابن عُيينة، والزهري: هو محمد بن مسلم بن عُبيد الله، وعَمْرة: هي ابنة عبد الرحمن بن سَعْد بن زُرارة.
⚖️ درجۂ حدیث: (1) اس کی سند "صحیح" ہے۔ (سند میں موجود) سفیان سے مراد ابن عیینہ، زہری سے مراد محمد بن مسلم بن عبیداللہ، اور عمرہ سے مراد (تابعیہ) بنت عبدالرحمن بن سعد بن زرارہ ہیں۔
وأخرجه أحمد 40/ (24080)، وكذلك ابن حبان (7014) من طريق عبد الأعلى بن حماد، كلاهما (أحمد وعبد الأعلى) عن سفيان بن عيينة، بهذا الإسناد.
📖 حوالہ / مصدر: اسے مسند احمد: 40/ (24080) اور ابن حبان: (7014) نے عبدالاعلیٰ بن حماد کے طریق سے، دونوں (احمد اور عبدالاعلیٰ) نے سفیان بن عیینہ سے اسی سند کے ساتھ روایت کیا ہے۔
وجاء في رواية الحُميدي في "مسنده" (287) ما نصّه: قيل لسُفيان هو عن عَمْرة؟ قال: نعم لا شكَّ فيه، كذلك قال الزهري.
📌 اہم نکتہ / تحقیق: حمیدی کی روایت ["مسند حمیدی": (287)] میں یہ الفاظ آئے ہیں کہ سفیان سے پوچھا گیا: "کیا یہ عمرہ سے روایت ہے؟" انہوں نے کہا: "ہاں، اس میں کوئی شک نہیں، زہری نے ایسا ہی کہا تھا"۔
وسيأتي عند المصنّف برقم (7434) من طريق إسحاق الدَّبَري، عن عبد الرزاق، عن معمر، عن الزهري، عن عروة بن الزبير، عن عائشة. فذكر عروة بدلٌ عمرة، وبعضُ من رواه عن عبد الرزاق وافق فيه سفيان بن عُيينة في ذكر عَمْرة كما سيأتي بيانه هناك!
🧾 تفصیلِ روایت: عنقریب مصنف کے ہاں نمبر (7434) میں اسحاق الدبری > عبدالرزاق > معمر > زہری > عروہ بن زبیر > عائشہ ؓ کے طریق سے آئے گا؛ وہاں (سند میں) عمرہ کی جگہ "عروہ" کا ذکر ہے۔ البتہ عبدالرزاق سے روایت کرنے والے بعض راویوں نے عمرہ کے ذکر میں سفیان بن عیینہ کی موافقت کی ہے جیسا کہ وہاں بیان ہوگا۔
وقوله: "كذلكم البِرُّ"؛ أي: مثل تلك الدرجة تُنال بسبب البِرّ.
🔍 فنی نکتہ / لغت: (حدیث میں) "کذلکم البر" کا مطلب ہے: نیکی کی وجہ سے ایسا ہی درجہ حاصل ہوتا ہے۔