🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

Join Whatsapp Channel
المستدرك على الصحيحين سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم الرسالہ
ترقيم الشرکۃ
عربی لفظ
اردو لفظ
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

ترقیم الرساله سے تلاش کل احادیث (9018)
حدیث نمبر لکھیں:
ترقیم الشركة سے تلاش کل احادیث (8909)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:

236. حِكَايَةُ يَهُودِيَّةٍ سَمَّتِ النَّبِيَّ وَأَصْحَابَهُ
سیدنا بشر بن براء بن معرور رضی اللہ عنہ کے مناقب کا بیان — اس یہودیہ کا واقعہ جس نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم اور آپ کے صحابہ کو زہر دیا
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 5032
أخبرنا أحمد بن جعفر، حَدَّثَنَا عبد الله بن أحمد بن حنبل، حدثني أبي، حَدَّثَنَا إبراهيم بن خالد، حَدَّثَنَا رَبَاح، عن مَعمَر، عن الزُّهري، عن عبد الرحمن بن عبد الله بن كعب بن مالك، عن أبيه، عن أم مُبشِّر، قالت: دخلتُ على رسول الله ﷺ في وَجَعِه الذي قُبِضَ فيه، فقلت: بأبي أنت يا رسول الله، ما تَتَّهم بنفسِك؟ فإني لا أتَّهِم بابني إلَّا الطعامَ الذي أكلَه معك بخَيبَر، وكان ابنُها بشرُ بنُ البراء بن مَعْرُور مات قبل النَّبِيِّ ﷺ، فقال رسول الله ﷺ:"وأنا لا أتَّهِمُ غيرَها، هذا أوانُ انقطاعِ أبْهَرِي" (1) . صحيح على شرط الشيخين، ولم يُخرجاه.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 4966 - على شرط البخاري ومسلم
ام مبشر رضی اللہ عنہا سے روایت ہے کہ میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں اس مرض کے دوران حاضر ہوئی جس میں آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی وفات ہوئی، میں نے عرض کی: اے اللہ کے رسول! میرے ماں باپ آپ پر قربان، آپ اپنی اس تکلیف کے بارے میں کیا محسوس فرماتے ہیں؟ کیونکہ میں اپنے بیٹے کے متعلق اسی زہریلے کھانے کو اس کی موت کا سبب سمجھتی ہوں جو اس نے آپ کے ساتھ خیبر میں کھایا تھا، اور ان کے بیٹے بشر بن براء بن معرور نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی وفات سے پہلے انتقال کر گئے تھے، تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اور میں بھی اس کے علاوہ کسی اور چیز کو (اپنی تکلیف کا) سبب نہیں سمجھتا، یہ میری شہ رگ کے کٹ جانے کا وقت ہے۔
یہ حدیث شیخین کی شرط پر صحیح ہے لیکن انہوں نے اسے روایت نہیں کیا۔ [المستدرك على الصحيحين/كِتَابُ مَعْرِفَةِ الصَّحَابَةِ رَضِيَ اللهُ تَعَالَى عَنْهُمْ/حدیث: 5032]
تخریج الحدیث: «رجاله ثقات، لكن اختُلف فيه على معمر - وهو ابن راشد - كما تقدَّم بيانه برقم (4441). وذكر عبد الرزاق فيما نقله عنه أبو داود بإثر (4513) أنَّ معمرًا كان يحدثهم بالحديث مرةً مرسلًا، فيكتُبُونه، ويحدثهم مرّةً به فيُسنده فيكتبونه، وكل صحيح عندنا، قال عبد الرزاق: فلما قدم ابن المبارك ...» [ترقيم الرساله 5032] [ترقيم الشركة 4997] [ترقيم العلميه 4966]

الحكم على الحديث: رجاله ثقات
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں