🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

المستدرك على الصحيحين سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم الرسالہ
ترقيم الشرکۃ
عربی لفظ
اردو لفظ
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

ترقیم الرساله سے تلاش کل احادیث (9018)
حدیث نمبر لکھیں:
ترقیم الشركة سے تلاش کل احادیث (8909)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:

237. ذِكْرُ مَنَاقِبِ أَبِي مَرْثَدٍ الْغَنَوِيِّ كَنَّازِ بْنِ الْحُصَيْنِ الْعَدَوِيُّ
سیدنا ابو مرثد غنوی کناز بن حصین عدوی رضی اللہ عنہ کے مناقب کا بیان بعض لوگوں نے ان کا نام کناز بن حصن بن یربوع بتایا ہے۔ رسول اللہ ﷺ نے ان کے اور حضرت عبادہ بن صامت رضی اللہ عنہ کے مابین عقد مواخات قائم فرمایا تھا (یعنی ہجرت کے بعد مدینہ منورہ میں جب مہاجرین اور انصاری صحابہ کرام کو آپس میں ایک دوسرے کا بھائی بھائی بنایا گیا تو حضرت کناز بن حصین رضی اللہ عنہ اور عبادہ بن صامت رضی اللہ عنہ کو بھائی بھائی بنایا) یہ جنگ بدر، جنگ احد اور خندق میں شریک ہوئے۔ اور مرثد بن ابی مرثد رضی اللہ عنہ کو رسول اللہ ﷺ نے اس لشکر کا امیر مقرر فرمایا تھا جس کو رجیع کی جانب بھیجا تھا، وہ وہاں پر شہید ہو گئے تھے۔
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 5033
حَدَّثَنَا محمد بن صالح بن هانئ، حَدَّثَنَا السَّرِيّ بن خُزيمة، حَدَّثَنَا عبد العزيز بن داود الحَرّاني، حَدَّثَنَا حماد سَلَمة بن عن محمد بن عمرو الليثي، عن أبي سلمة، عن أبي هريرة: أنَّ امرأةً يهوديةً دَعَتِ النَّبِيَّ ﷺ وأصحابًا له على شاةٍ مَصْليّة، فلما قَعَدوا يأكُلُون أخذَ رسولُ الله ﷺ لُقمةٌ فوضَعَها، ثم قال لهم:"أمسِكُوا، إِنَّ هذه الشاةَ مَسمُومةٌ" فقال لليهودية:"ويلَكِ، لأيِّ شيءٍ سَمَمْتِني؟!" قالت: أردتُ أن أَعلمَ إن كنتَ نبيًّا، فإنه لا يَضرُّك، وإن كان غيرَ ذلك أن أُريحَ الناسَ مِنك، فأكَلَ منها بِشرُ بن البَراء فمات، فقتَلَها رسولُ الله ﷺ (1) صحيح على شرط مسلم، ولم يُخرجاه. ذكرُ مناقب أبي مَرْثَد كَنّاز بن الحُصَين الغَنَوي (1) وقيل: كَنّاز بن حِصْن (2) بن يَربُوع، كان رسول الله ﷺ آخَى بينه وبين عُبادة بن الصامِت، شَهِدَ بدرًا وأُحدًا والخندق، وهو أبو مَرثَدِ بن أَبي مَرثَدٍ، أَمَّره (3) رسول الله ﷺ على السَرِيّة التي وجَّهها إلى الرَّجِيع فقُتِل بها.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 4967 - سكت عنه الذهبي في التلخيص
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں: ایک یہودیہ عورت نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم اور صحابہ کرام کی دعوت کی، اور کھانے میں ایک بھنی ہوئی بکری پیش کی، جب ان لوگوں نے کھانا شروع کیا تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے بھی ایک لقمہ کھا لیا، لیکن فوراً ہی کھانے سے ہاتھ کھینچ لیا اور تمام صحابہ کرام رضی اللہ عنہم کو فرمایا: رک جاؤ، اس بکری میں زہر ملا ہوا ہے، پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس یہودیہ عورت سے کہا: تو ہلاک ہو جائے تو نے مجھے زہر کیوں دیا؟ اس نے کہا: اس لئے کہ میں چاہتی تھی کہ اگر تم سچے نبی ہو تو یہ زہر تمہیں کچھ نہیں کہے گا اور اگر جھوٹے ہو تو لوگ تجھ سے بچ جائیں گے، اس میں سے سیدنا بشر بن البراء بن معرور رضی اللہ عنہ نے بھی کھایا تھا، تو وہ انتقال فرما گئے، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس یہودیہ کو قتل کروا دیا تھا۔ ٭٭ یہ حدیث امام مسلم رحمۃ اللہ علیہ کے معیار کے مطابق صحیح ہے لیکن شیخین رحمۃ اللہ علیہما نے اس کو نقل نہیں کیا۔ [المستدرك على الصحيحين/كِتَابُ مَعْرِفَةِ الصَّحَابَةِ رَضِيَ اللهُ تَعَالَى عَنْهُمْ/حدیث: 5033]

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 5034
أخبرنا بجميع ما ذكرته أبو عبد الله الأصبهاني، حَدَّثَنَا الحسن بن الجَهْم، حَدَّثَنَا الحُسين بن الفَرَج، حَدَّثَنَا محمد بن عُمر، عن شُيوخه (1) .
ہمیں یہ تمام مذکورہ روایات ابو عبداللہ الاصبهانی نے بتائیں، انہوں نے حسن بن جہم سے، انہوں نے حسین بن فرج سے اور انہوں نے محمد بن عمر (الواقدی) کے واسطے سے ان کے شیوخ سے روایت کیں۔ [المستدرك على الصحيحين/كِتَابُ مَعْرِفَةِ الصَّحَابَةِ رَضِيَ اللهُ تَعَالَى عَنْهُمْ/حدیث: 5034]

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں