🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

المستدرك على الصحيحين سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم الرسالہ
ترقيم الشرکۃ
عربی لفظ
اردو لفظ
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

ترقیم الرساله سے تلاش کل احادیث (9018)
حدیث نمبر لکھیں:
ترقیم الشركة سے تلاش کل احادیث (8909)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:

246. دُعَاءُ أَبِي حُذَيْفَةَ لِشَهَادَتِهِ
سیدنا ابو حذیفہ رضی اللہ عنہ کی شہادت کی دعا
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 5057
أخبرني محمد بن يعقوب الحافظ، حَدَّثَنَا محمد بن إسحاق الثقَفي، حَدَّثَنَا إسحاق بن إبراهيم، أخبرنا وهب بن جَرير، حدثني أبي، سمعت محمدَ بن إسحاق يُحدِّث عن العباس بن مَعبَد، عن أبيه، عن ابن عباس قال: قُتِل أبو حذيفةَ ابن عُتبة بن رَبيعة يومَ اليمامةِ شهيدًا (1) .
سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں: سیدنا ابوحذیفہ بن عتبہ بن ربیعہ رضی اللہ عنہ جنگ یمامہ میں شہید ہوئے۔ [المستدرك على الصحيحين/كِتَابُ مَعْرِفَةِ الصَّحَابَةِ رَضِيَ اللهُ تَعَالَى عَنْهُمْ/حدیث: 5057]

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 5058
حَدَّثَنَا أبو العباس محمد بن يعقوب، حَدَّثَنَا أحمد بن عبد الجَبّار، حَدَّثَنَا يونس بن بُكَير، عن محمد بن إسحاق، عن العباس بن مَعبَد، عن أبيه، عن ابن عباس: أنَّ رسولَ الله ﷺ قال يومَ بدرٍ:"مَن لَقيَ منكم العباسَ فليَكفُفْ عنه، فإنه خَرجَ مُستَكْرَهًا"، فقال أبو حُذيفة بن عُتبة: أنقتُلُ آبَاءَنا وإخوانَنا وعَشائرَنا ونَدَعُ العباسَ؟! واللهِ لأُلحِمَنَّه (2) بالسيف، فبلَغَتْ رسولَ الله ﷺ، فقال لعمر بن الخطاب:"يا أبا حفص" قال عُمر: إنه لأوّلُ يوم كَنّاني فيه بحفص"أيُضرَبُ وجهُ عَمِّ رسولِ الله بالسَّيف؟" فقال عمر: دَعْني فَلْأضْرِبْ عُنُقَه، فإنه قد نافَقَ. وكان أبو حذيفة يقول: ما أنا بآمِنٍ من تلك الكلمة التي قلتُ، ولا أزالُ خائفًا حتَّى يُكفِّرَها اللهُ عني بالشهادة، قال: فقُتِل يومَ اليمامة شهيدًا (1) .
هذا حديث صحيح على شرط مسلم، ولم يُخرجاه.
سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے جنگ بدر کے دن فرمایا: تم میں سے جس کے سامنے عباس (رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے چچا) آئیں تو ان کو قتل نہ کرنا، کیونکہ وہ مجبور ہے۔ تو سیدنا ابوحذیفہ رضی اللہ عنہ نے کہا: ہم اپنے آباء و اجداد کو، اپنے بھائیوں کو اور اپنے خاندان والوں کو قتل کر دیں اور عباس کو چھوڑ دیں؟ خدا کی قسم! میں تو اس کو نہیں چھوڑوں گا۔ یہ بات رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم تک پہنچ گئی، آپ صلی اللہ علیہ وسلم سیدنا عمر رضی اللہ عنہ کے پاس تشریف لائے، اور فرمایا: اے ابوحفص! (سیدنا عمر فرماتے ہیں یہ پہلا دن تھا کہ حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھے ابوحفص کی کنیت سے پکارا) رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے چچا کے چہرے پر تلوار چلائی جائے گی، سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے عرض کی: حضور صلی اللہ علیہ وسلم ! مجھے اجازت عطا فرمایئے، میں اس کی گردن مار دیتا ہوں، یہ منافق ہو گیا ہے۔ (اس کے بعد) سیدنا ابوحذیفہ رضی اللہ عنہ فرمایا کرتے تھے اس دن والی گفتگو سے میں کبھی بھی بے خوف نہیں ہوا، اور میں اس کی وجہ سے ہمیشہ خوفزدہ رہا کرتا تھا، حتی کہ اللہ تعالیٰ مجھے شہادت دے کر اس گناہ کو مٹا دے (یعنی مجھے شہادت عطا فرما دے) آپ جنگ یمامہ میں شہید ہوئے۔ ٭٭ یہ حدیث امام مسلم رحمۃ اللہ علیہ کے معیار کے مطابق صحیح ہے لیکن شیخین رحمۃ اللہ علیہما نے اسے نقل نہیں کیا۔ [المستدرك على الصحيحين/كِتَابُ مَعْرِفَةِ الصَّحَابَةِ رَضِيَ اللهُ تَعَالَى عَنْهُمْ/حدیث: 5058]

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 5059
أخبرنا أبو جعفر محمد بن محمد البغدادي، حَدَّثَنَا يحيى بن عثمان بن صالح، حَدَّثَنَا أبي، حَدَّثَنَا ابن لَهِيعة، عن أبي زُرعة عمرو (2) بن جابر، عن سليمان بن مِهران، عن شَقِيق بن سَلَمة، عن ابن عباس: أنَّ معاوية دخَلَ على أبي حُذيفة بن عُتبة بن رَبيعة فوجده يَبكي، فقال: ما يُبكيك، أوجَعٌ أو حِرصٌ على الدنيا؟ فقال: كلّا، إني سمعتُ رسول الله ﷺ عَهِدَ إلى عهدًا، فقلتُ: ما هو؟ قال: قال رسول الله ﷺ:"لَعلّك يُدرِكُك زمانٌ وسَيَجمعُون جَمْعًا وأنت فيه"، وإني قد كنتُ فيه (3) . وصلَّى الله على محمدٍ وآله وسلَّم. في هذا الحديث وهمٌ فاحشٌ، وهو أنَّ أبا حُذيفة عُتبة بن ربيعة استُشهِد قبل أن يُسلَّمَ معاويةُ (1) ، وإنما قال معاويةُ هذا القولَ لعمِّه (2) أبي هاشم بن عُتبة بن ربيعة يومَ صِفّين (3) .
سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں: کہ سیدنا معاویہ رضی اللہ عنہ سیدنا ابوحذیفہ بن عتبہ بن ربیعہ رضی اللہ عنہ کے پاس آئے، اس وقت سیدنا ابوحذیفہ رو رہے تھے، سیدنا معاویہ رضی اللہ عنہ نے پوچھا: تم کیوں رو رہے ہو؟ کوئی درد ہے یا دنیا کی حرص کی وجہ سے رو رہے ہو؟ سیدنا ابوحذیفہ رضی اللہ عنہ نے کہا: نہیں، ہرگز یہ بات نہیں ہے بلکہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھ سے ایک عہد لیا تھا میں اس کی وجہ سے رو رہا ہوں، میں نے پوچھا: وہ کیا عہد تھا؟ تو انہوں نے فرمایا: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: ہو سکتا ہے کہ تم وہ زمانہ پاؤ جب لوگ مال جمع کر رہے ہوں گے ہو سکتا ہے کہ تم بھی ان میں سے ہو بے شک رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ارشاد کے مطابق میں نے وہ زمانہ پا لیا ہے۔ ٭٭ امام حاکم کہتے ہیں: اس حدیث میں ایک بہت بڑی غلطی ہے، وہ یہ کہ سیدنا ابوحذیفہ بن عتبہ بن ربیعہ رضی اللہ عنہ، سیدنا معاویہ رضی اللہ عنہ کے اسلام لانے سے پہلے شہید ہو گئے تھے۔ یہ بات سیدنا معاویہ رضی اللہ عنہ نے اپنے چچا ابوہاشم بن عتبہ بن ربیعہ سے جنگ صفین میں کہی تھی۔ [المستدرك على الصحيحين/كِتَابُ مَعْرِفَةِ الصَّحَابَةِ رَضِيَ اللهُ تَعَالَى عَنْهُمْ/حدیث: 5059]

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں