المستدرك على الصحيحين سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم الرسالہ
ترقيم الشرکۃ
عربی لفظ
اردو لفظ
246. دعاء أبى حذيفة لشهادته
سیدنا ابو حذیفہ رضی اللہ عنہ کی شہادت کی دعا
حدیث نمبر: 5059
أخبرنا أبو جعفر محمد بن محمد البغدادي، حَدَّثَنَا يحيى بن عثمان بن صالح، حَدَّثَنَا أبي، حَدَّثَنَا ابن لَهِيعة، عن أبي زُرعة عمرو (2) بن جابر، عن سليمان بن مِهران، عن شَقِيق بن سَلَمة، عن ابن عباس: أنَّ معاوية دخَلَ على أبي حُذيفة بن عُتبة بن رَبيعة فوجده يَبكي، فقال: ما يُبكيك، أوجَعٌ أو حِرصٌ على الدنيا؟ فقال: كلّا، إني سمعتُ رسول الله ﷺ عَهِدَ إلى عهدًا، فقلتُ: ما هو؟ قال: قال رسول الله ﷺ:"لَعلّك يُدرِكُك زمانٌ وسَيَجمعُون جَمْعًا وأنت فيه"، وإني قد كنتُ فيه (3) . وصلَّى الله على محمدٍ وآله وسلَّم. في هذا الحديث وهمٌ فاحشٌ، وهو أنَّ أبا حُذيفة عُتبة بن ربيعة استُشهِد قبل أن يُسلَّمَ معاويةُ (1) ، وإنما قال معاويةُ هذا القولَ لعمِّه (2) أبي هاشم بن عُتبة بن ربيعة يومَ صِفّين (3) .
سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں: کہ سیدنا معاویہ رضی اللہ عنہ سیدنا ابوحذیفہ بن عتبہ بن ربیعہ رضی اللہ عنہ کے پاس آئے، اس وقت سیدنا ابوحذیفہ رو رہے تھے، سیدنا معاویہ رضی اللہ عنہ نے پوچھا: تم کیوں رو رہے ہو؟ کوئی درد ہے یا دنیا کی حرص کی وجہ سے رو رہے ہو؟ سیدنا ابوحذیفہ رضی اللہ عنہ نے کہا: نہیں، ہرگز یہ بات نہیں ہے بلکہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھ سے ایک عہد لیا تھا میں اس کی وجہ سے رو رہا ہوں، میں نے پوچھا: وہ کیا عہد تھا؟ تو انہوں نے فرمایا: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا:” ہو سکتا ہے کہ تم وہ زمانہ پاؤ جب لوگ مال جمع کر رہے ہوں گے ہو سکتا ہے کہ تم بھی ان میں سے ہو “ بے شک رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ارشاد کے مطابق میں نے وہ زمانہ پا لیا ہے۔ ٭٭ امام حاکم کہتے ہیں: اس حدیث میں ایک بہت بڑی غلطی ہے، وہ یہ کہ سیدنا ابوحذیفہ بن عتبہ بن ربیعہ رضی اللہ عنہ، سیدنا معاویہ رضی اللہ عنہ کے اسلام لانے سے پہلے شہید ہو گئے تھے۔ یہ بات سیدنا معاویہ رضی اللہ عنہ نے اپنے چچا ابوہاشم بن عتبہ بن ربیعہ سے جنگ صفین میں کہی تھی۔ [المستدرك على الصحيحين/كتاب معرفة الصحابة رضي الله تعالى عنهم/حدیث: 5059]
المستدرك على الصحيحين کی حدیث نمبر 5059 پر
الشیخ عادل مرشد، ڈاکٹر احمد برہوم، ڈاکٹر محمد کامل قرہ بلی، ڈاکٹر سعید اللحام کی
تخريج وتحقيقِ محدثانہ نکات و اصطلاحی مطالعہ
الشیخ عادل مرشد، ڈاکٹر احمد برہوم، ڈاکٹر محمد کامل قرہ بلی، ڈاکٹر سعید اللحام کی
تخريج وتحقيقِ محدثانہ نکات و اصطلاحی مطالعہ
(2) وقع في نسخنا الخطية أبي زرعة بن عمرو. بإقحام لفظة "بن"، وإنما أبو زرعة هي كنية عمرو بن جابر.
🔍 فنی نکتہ / علّت: قلمی نسخوں میں غلطی سے "ابی زرعہ بن عمرو" لکھا گیا ہے، حالانکہ "ابو زرعہ" تو عمرو بن جابر کی اپنی کنیت ہے (درست نام ابوزرعہ عمرو بن جابر ہے)۔
(3) خبر حسن لكن بذكر أبي هاشم بن عُتبة بدلٌ أبي حذيفة، وهذا إسناد ضعيف لضعف ابن لَهِيعة - وهو عبد الله - وضعف شيخه أبي زرعة عمرو بن جابر، وقد روى هذا الخبرَ عبد الرزاق وأبو معاوية محمد بن خازم الضرير - وهما ثقتان - عن سليمان بن مهران الأعمش، عن أبي وائل شقيق بن سَلَمة، قال: دخل معاوية على خاله أبي هاشم بن عُتبة، فذكره نحوه ووافقه سفيان الثوري في روايته عن منصور بن المعتمر عن أبي وائل، لكن رواه غير سفيان الثوري عن منصور بن المعتمر - كما سيخرجه المصنف برقم (6837)، ويأتي بيانه في الرواية التالية - عن أبي وائل شقيق بن سَلَمة عن سمُرة بن سَهْم، قال: نزلتُ على أبي هاشم بن عتبة وهو طَعِينٌ، فدخل عليه معاوية يعوده فبكى … وهذا هو الصحيح، أي: بذكر سَمُرة بن سَهْم، كما سيأتي.
⚖️ درجۂ حدیث: یہ خبر "حسن" ہے لیکن ابوحذیفہ کے بجائے ابوہاشم بن عتبہ کے ذکر کے ساتھ۔ 🔍 فنی نکتہ / علّت: یہ مخصوص سند ابن لہیعہ اور ان کے شیخ ابوزرعہ عمرو بن جابر کے ضعف کی وجہ سے ضعیف ہے۔ صحیح بات یہ ہے کہ یہ قصہ ابوہاشم بن عتبہ کا ہے اور اس میں "سمرہ بن سہم" کا ذکر ہونا چاہیے جیسا کہ آگے وضاحت آئے گی۔
وأخرجه ابن أبي شيبة 13/ 219، وأحمد 24/ (15664)، وهنّاد في "الزهد" (565)، وابن أبي عاصم في "الآحاد والمثاني" (557)، والدُّولابي في "الكنى والأسماء" (346)، وابن عبد البر في "الاستيعاب" ص 864، وفي "جامع بيان العلم" (1354)، وابن عساكر في "تاريخ دمشق" 67/ 288 من طريق أبي معاوية الضرير، وأحمد 24/ (15665)، والترمذي (2327)، والنسائي (9724) من طريق عبد الرزاق، كلاهما عن سليمان بن مهران الأعمش، عن أبي وائل شقيق بن سَلَمة، قال: دخل معاوية على خاله أبي هاشم بن عُتبة يعودُه … فذكره، ولفظ المرفوع عند أبي معاوية: "يا أبا هاشم، لعلك أن تدرك أموالًا يؤتاها أقوامٌ، وإنما يكفيك من جمع المال خادم ومركَب في سبيل الله تعالى".
📖 حوالہ / مصدر: اسے ابن ابی شیبہ (13/219)، احمد (24/15664)، ہناد بن السری (565)، ترمذی (2327) اور نسائی (9724) نے مختلف طرق سے روایت کیا ہے۔ 🧾 تفصیلِ روایت: مرفوع الفاظ یہ ہیں: "اے ابوہاشم! شاید تم وہ مال پاؤ جو لوگوں کو دیا جائے گا، لیکن تمہارے لیے مال جمع کرنے میں سے صرف ایک خادم اور اللہ کی راہ میں ایک سواری ہی کافی ہے"۔
(1) يعني قبل أن يسلَّم معاوية مقاليد الحكم بالشام، إذ ولي الشام في عهد عمر بن الخطّاب بعد اليمامة بنحو ستِّ أو سبعِ سنين.
📝 نوٹ / توضیح: یعنی اس وقت جب حضرت معاویہ رضی اللہ عنہ کو شام کا اقتدار نہیں ملا تھا، کیونکہ وہ جنگِ یمامہ کے تقریباً 6 یا 7 سال بعد عہدِ فاروقی میں شام کے گورنر بنے تھے۔
(2) كذا وقع في نسخ "المستدرك"! وهو خطأ، أو سبق، قلم، وربما كان لكونه ليس خاله شقيق أمّه هند، لأنَّ هند بنت عُتبة أمَّ معاوية أُمُّها صفية بنت أميّة بن حارثة بن الأَوقص، وأمُّ أبي هاشم خُناسُ بنتُ مالك بن مُضرِّب. وربما يكون على سبيل التعظيم لتقدُّمه في السِّنّ على معاوية.
🔍 فنی نکتہ / علّت: مستدرک کے نسخوں میں انہیں "خال" (ماموں) کہا گیا ہے جو کہ بظاہر سبقِ قلم (لکھنے کی غلطی) ہے کیونکہ ابوہاشم ان کی والدہ ہند کے سگے بھائی نہیں تھے۔ 📝 نوٹ / توضیح: یہ بھی ممکن ہے کہ حضرت معاویہ نے ان کی بڑی عمر کی وجہ سے بطورِ تعظیم انہیں ماموں کہا ہو۔
(3) هذا وهمٌ من المصنّف ﵀، لأنَّ أبا هاشم مات قبل صفِّين في خلافة عثمان، وكان معاوية أميرًا على الشام.
🔍 فنی نکتہ / علّت: امام حاکم سے یہاں "وہم" ہوا ہے، کیونکہ ابوہاشم کی وفات جنگِ صفین سے پہلے عہدِ عثمانی میں ہوئی تھی اور اس وقت حضرت معاویہ شام کے امیر تھے۔