المستدرك على الصحيحين سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم الرسالہ
ترقيم الشرکۃ
عربی لفظ
اردو لفظ
254. ذِكْرُ مَنَاقِبِ زَيْدِ بْنِ الْخَطَّابِ بْنِ نُفَيْلٍ أَخِي أَمِيرِ الْمُؤْمِنِينَ عُمَرَ بْنِ الْخَطَّابِ، وَكُنْيَتُهُ أَبُو عَبْدِ الرَّحْمَنِ وَكَانَ أَسَنَّ مِنْ أَخِيهِ عُمَرَ وَأَسْلَمَ قَبْلَهُ، آخَى رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ بَيْنَهُ وَبَيْنَ مَعْنِ بْنِ عَدِيٍّ وَقُتِلَا جَمِيعًا بِالْيَمَامَةِ شَهِيدَيْنِ .
سیدنا زید بن خطاب بن نفیل رضی اللہ عنہ کے فضائل
یہ حضرت عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ کے بھائی ہیں، ان کی کنیت ابوعبدالرحمن ہے، آپ اپنے بھائی حضرت عمر رضی اللہ عنہ سے بڑے ہیں، اور ان سے پہلے ایمان لائے ہیں، رسول اللہ ﷺ نے ان کو اور حضرت معن بن عدی رضی اللہ عنہ کو بھائی بھائی بنایا تھا، یہ دونوں جنگ یمامہ میں شہید ہوئے۔
حدیث نمبر: 5075
حدثنا أبو بكر بن إسحاق، أخبرنا بشر بن موسى، حدثنا عَبد الله بن يزيد المُقرئ، حدثنا حَيْوةُ بن شُريح، أخبرني أبو صَخْر، أن زيد بن أسلَمَ حدثه عن أبيه، عن عمر، أنه قال لأصحابه: تَمنَّوا، فقال بعضُهم: أتمنَّى لو أنَّ هذه الدارَ مملوءةٌ ذهبًا أُنفِقُه في سبيل الله، قال: ثم قال: تَمنَّوا، فقال رجلٌ: أتمنّى لو أنها مملوءةٌ لُؤلؤًا وزَبَرجَدًا وجَوهَرًا فأنفِقُه في سبيلِ الله وأتصدّقُ، ثم قال عمر: تَمنَّوا، فقالوا: ما نَدري يا أميرَ المؤمنين، فقال عمر: أتمنّى لو أنها مملوءةٌ رجالًا مثلَ أبي عُبيدة بن الجَرّاح ومُعاذِ بن جَبَل وسالمٍ مولى أبي حُذيفةَ وحذيفةَ بن اليَمان (1) . ذكرُ مناقب زيد بن الخَطّاب بن نُفَيل أخو أمير المؤمنين عُمر بن الخَطَّاب، وكنيتُه أبو عبد الرحمن، وكان أسنَّ من أخيه عمر، وأسلمَ قبلَه، آخَى رسولُ الله ﷺ بينَه وبينَ مَعْنِ بن عَدِيّ، وقُتِلا جميعًا باليَمامةِ شَهِيدَين.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 5005 - على شرط البخاري ومسلم
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 5005 - على شرط البخاري ومسلم
سیدنا عمر رضی اللہ عنہ کے بارے میں مروی ہے کہ انہوں نے اپنے ساتھیوں سے کہا: تم لوگ کسی چیز کی خواہش کرو، ایک نے کہا: میری خواہش یہ ہے کہ یہ گھر سونے سے بھرا ہوا اور میں اس کو اللہ کی راہ میں صدقہ کر دوں، ایک اور نے یوں کہا: میری خواہش یہ ہے کہ یہ مکان ہیرے، جواہرات سے بھر جائے اور میں اس کو اللہ کی راہ میں خرچ کر دوں۔ پھر سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے پھر فرمایا: تم اور کوئی خواہش کرو! انہوں نے کہا: مزید ہمیں سمجھ نہیں آ رہی کہ ہم کیا خواہش کریں، سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے فرمایا: میری یہ خواہش ہے کہ یہ گھر سیدنا ابوعبیدہ بن جراح رضی اللہ عنہ، سیدنا معاذ بن جبل رضی اللہ عنہ، سالم مولیٰ ابوحذیفہ رضی اللہ عنہ، اور سیدنا حذیفہ بن یمان رضی اللہ عنہ جیسے لوگوں سے بھرا ہوا ہو۔ [المستدرك على الصحيحين/كِتَابُ مَعْرِفَةِ الصَّحَابَةِ رَضِيَ اللهُ تَعَالَى عَنْهُمْ/حدیث: 5075]