🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

المستدرك على الصحيحين سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم الرسالہ
ترقيم الشرکۃ
عربی لفظ
اردو لفظ
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

ترقیم الرساله سے تلاش کل احادیث (9018)
حدیث نمبر لکھیں:
ترقیم الشركة سے تلاش کل احادیث (8909)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:

255. ذِكْرُ شَهَادَةِ ابْنِ الْخَطَّابِ
سیدنا زید بن خطاب رضی اللہ عنہ کی شہادت کا بیان
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 5076
حدثنا بذلك أبو عبد الله بن بُطَّة، حدثنا الحسن بن الجَهْم، أخبرنا الحُسين ابن الفَرَج، عن محمد بن عُمر، قال: حدثني الجَحّاف بن عبد الرحمن من ولَدِ زيد بن الخطاب، عن أبيه، قال: كان زيدُ بن الخَطّاب يَحمِل رايةَ المسلمين يومَ اليَمامةِ، وقد انكشفَ المسلمون حتى غَلَبَت حَنيفةُ على الرِّجال، فجعل زيدُ بن الخَطّاب يقول: أمّا الرِّجالُ فلا رِجالَ، وأمّا الرِّجالُ فلا رِجالَ، ثم جعل يَصيحُ بأعلى صوتِه: اللهمَّ إني أعتذِرُ إليك من فِرار أصحابي، وأبْرأُ إليك ممّا جاء به مُسيلِمةُ ومُحكَّم (1) ابن الطُّفَيل، وجعل يَشَتَدُّ بالراية يتقدّمُ بها في نَحْرِ العَدوّ، ثم ضارَبَ بسيفِه، حتى قُتِل رحمةُ الله عليه، ووقعت الرايةُ فأخذَها سالمٌ مولى أبي حُذيفةَ، فقال المسلمون: يا سالمُ، أيُخَافُ أن نُؤْتَى من قِبَلِكَ؟ فقال: بِئسَ حاملُ القرآنِ أنا إن أُتِيتُم من قِبَلي. وقُتل زيدُ بن الخطّاب سنة اثنتي عشرةَ من الهجرة (2) .
عمر بن عبدالرحمن جو کہ سیدنا زید بن خطاب رضی اللہ عنہ کی اولادوں میں سے ہیں، اپنے والد کے حوالے سے بیان کرتے ہیں کہ سیدنا زید بن خطاب رضی اللہ عنہ جنگ یمامہ میں مسلمانوں کا جھنڈا اٹھائے ہوئے تھے، مسلمان منتشر ہو گئے، حتی کہ بنوحنیفہ ان پر غالب آ گئے، تو سیدنا زید بن خطاب رضی اللہ عنہ کہنے لگے: مردوں میں کوئی مرد نہیں ہے، مردوں میں کوئی مرد نہیں ہے۔ پھر آپ بآواز بلند کہنے لگے: اے اللہ! میں اپنے ساتھیوں کے بھاگ جانے سے تیری بارگاہ میں معافی مانگتا ہوں، اور تیری بارگاہ میں ان تمام نظریات سے براءت کا اظہار کرتا ہوں جو مسیلمہ اور محکم بن طفیل نے پیش کئے ہیں۔ آپ جھنڈے کو مضبوطی سے تھامے دشمن کی جانب پیش قدمی کرنے لگے، پھر اپنی تلوار کے ساتھ لڑائی شروع کر دی، حتی کہ آپ کو شہید کر دیا گیا، اور جھنڈا آپ کے ہاتھ سے چھوٹ گیا، پھر یہ جھنڈا سیدنا ابوحذیفہ رضی اللہ عنہ کے آزاد کردہ غلام سیدنا سالم رضی اللہ عنہ نے سنبھالا، تو مسلمان مجاہدین نے کہا: اے سالم! ہمیں خدشہ ہے کہ تیری طرف سے ہمیں نقصان ہو گا، تو انہوں نے فرمایا: اگر میری جانب سے تمہیں کوئی نقصان پہنچ جائے تو مجھ سے زیادہ کوئی برا حامل قرآن نہیں ہو گا۔ سیدنا زید بن خطاب رضی اللہ عنہ بارہویں سن ہجری میں شہید ہوئے۔ [المستدرك على الصحيحين/كِتَابُ مَعْرِفَةِ الصَّحَابَةِ رَضِيَ اللهُ تَعَالَى عَنْهُمْ/حدیث: 5076]

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 5077
أخبرنا أبو بكر بن إسحاق، أخبرنا بشر بن موسى، حدثنا الحُميدي، حدثنا سُفيان، عن عبد الملك بن نَوفل بن مُساحِق، قال: كان ابن عمر خامسَ خمسةِ رُفْقةٍ في غَزاةِ مُسَيلِمةَ فقُتِلُوا غيرَه، قُتِلَ زيد بن الخَطَّاب وعبد الله بن مَخْرمةَ واثنان آخران (1) .
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 5007 - حذفه الذهبي من التلخيص
عبدالملک بن نوفل بن مساحق فرماتے ہیں: جن پانچ ساتھیوں نے مسیلمہ کو قتل کیا تھا ان میں ایک تو سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما تھے اور باقی چار کے بارے میں یہ قول ہے کہ زید بن خطاب رضی اللہ عنہ اور عبداللہ بن مخرمہ رضی اللہ عنہ تھے اور دو آدمی ان کے علاوہ بھی تھے۔ [المستدرك على الصحيحين/كِتَابُ مَعْرِفَةِ الصَّحَابَةِ رَضِيَ اللهُ تَعَالَى عَنْهُمْ/حدیث: 5077]

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں