المستدرك على الصحيحين سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم الرسالہ
ترقيم الشرکۃ
عربی لفظ
اردو لفظ
277. ذِكْرُ مَنَاقِبِ ضِرَارِ بْنِ الْأَزْوَرِ الْأَسَدِيِّ الشَّاعِرِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ
سیدنا ضرار بن ازور اسدی، شاعر رضی اللہ عنہ کے مناقب کا بیان
حدیث نمبر: 5109
حدثنا أبو العباس محمد بن يعقوب، حدثنا أحمد بن عبد الجبار، حدثنا يونس بن بُكَير، عن محمد بن إسحاق، حدثني يحيى بن عبّاد بن عبد الله بن الزُّبَير، عن أبيه، عن عائشةَ زوجِ النبي ﷺ قالت: لما بعثَ أهلُ مكةَ في فِداء أُساراهم بَعثتْ زينبُ ابنةُ رسول الله ﷺ في فِداء أبي العاص بمالٍ، وبعثتْ فيه بقلادةٍ كانت خديجةُ أدخلَتْها بها على أبي العاص حين بَنى عليها، فلمّا رأى رسولُ الله ﷺ تلكَ القِلادةَ رَقَّ لها رِقّةً شديدةً، وقال:"إن رأيتُم أن تُطلِقوا أسيرَها، وتَردُّوا عليها الذي لها فافعلُوا"، فقالوا: نعم يا رسول الله، فأطلَقُوه ورَدُّوا عليه الذي لها (1) . ولم يَزَل أبو العاص مُقيمًا على شِرْكه حتى إذا كان قُبَيلَ فتح مكةَ خرج بتجارة إلى الشام بأموال من أموال قريش أَبضَعُوها معه، فلما فَرَغ من تجارتِه وأقبلَ قافلًا، لقيَتْه سريّةٌ لرسولِ الله ﷺ، وقيل: إنَّ رسول الله ﷺ كان هو الذي وجَّه السَّرِيَة للعِير التي فيها أبو العاص قافلةً من الشام، وكانوا سبعين ومئةَ راكبٍ، أميرُهم زيد بن حارثة، وذلك في جمادى الأولى في سنة ستٍّ من الهجرة، فأخَذُوا ما في تلك العِير من الأثقال، وأسرُوا أناسًا من العِير، فأعجزَهم أبو العاص هَرَبًا، فلما قَدِمَت السريّةُ بما أصابوا أقبل أبو العاص من الليل، حتى دخل على زينبَ ابنةِ رسول الله ﷺ، فاستجارَ بها فأجارتْه؛ في طلب ماله، فلمّا خرج رسولُ الله ﷺ إلى صلاة الصبح فكبَّر وكبَّر الناسُ معه (1)
سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے کہ جب اہل مکہ نے اپنے قیدیوں کے فدیہ کے لیے مال بھیجا تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی صاحبزادی سیدہ زینب رضی اللہ عنہا نے ابوالعاص کے فدیہ کے طور پر کچھ مال بھیجا، اس مال میں وہ ہار بھی شامل تھا جو سیدہ خدیجہ رضی اللہ عنہا نے اپنی بیٹی زینب کو ابوالعاص کے گھر رخصتی کے وقت دیا تھا۔ جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے وہ ہار دیکھا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم پر شدید رقت طاری ہو گئی اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے صحابہ سے فرمایا: ”اگر تم مناسب سمجھو تو ان کے قیدی کو رہا کر دو اور ان کا مال انہیں واپس کر دو۔“ صحابہ نے عرض کیا: جی ہاں اے اللہ کے رسول! چنانچہ انہوں نے انہیں رہا کر دیا اور ان کا مال واپس کر دیا۔ ابوالعاص مسلسل اپنے شرک پر قائم رہے یہاں تک کہ فتح مکہ سے کچھ عرصہ پہلے وہ قریش کا مالِ تجارت لے کر شام گئے، جب وہ اپنی تجارت سے فارغ ہو کر واپس لوٹے تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ایک فوجی دستے (سریہ) سے ان کا سامنا ہوا۔ کہا جاتا ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے خود اس قافلے کی طرف دستہ روانہ کیا تھا جس میں ابوالعاص شام سے واپس آ رہے تھے، اس دستے میں ایک سو ستر سوار تھے جن کے امیر زید بن حارثہ رضی اللہ عنہ تھے، یہ واقعہ جمادی الاولیٰ سن 6 ہجری کا ہے۔ پس انہوں نے اس قافلے کا تمام سامان قبضے میں لے لیا اور کچھ لوگوں کو قیدی بنا لیا، مگر ابوالعاص بھاگ نکلنے میں کامیاب ہو گئے، جب یہ لشکر مالِ غنیمت لے کر پہنچا تو ابوالعاص رات کے وقت آئے اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی صاحبزادی سیدہ زینب رضی اللہ عنہا کے پاس پہنچ کر پناہ مانگی تو انہوں نے انہیں پناہ دے دی تاکہ وہ اپنا مال واپس لے سکیں۔ جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم صبح کی نماز کے لیے نکلے اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے تکبیر کہی اور لوگوں نے بھی آپ کے ساتھ تکبیر کہی تو ایک آواز آئی۔ [المستدرك على الصحيحين/كِتَابُ مَعْرِفَةِ الصَّحَابَةِ رَضِيَ اللهُ تَعَالَى عَنْهُمْ/حدیث: 5109]
تخریج الحدیث: «إسناده حسن من أجل محمد بن إسحاق. وهو مكرر الحديث السالف برقم (4352).» [ترقيم الرساله 5109] [ترقيم الشركة 5071/1]
الحكم على الحديث: إسناده حسن
حدیث نمبر: 5110
قال ابن إسحاق: فحدثني يزيد بن رُومانَ، عن عُروة، عن عائشة، قالت: صرخَتْ زينبُ: أيُّها الناس، إني قد أجَرْتُ أبا العاص بن الربيع، قال: فلما سلَّم رسولُ الله ﷺ من صلاته أقبلَ على الناس، فقال:"أيها الناس، هل سمعتُم ما سمعتُ؟" قالوا: نعم، قال:"أما والذي نفسُ محمدٍ بيدِه، ما عَلِمتُ بشيءٍ كان حتى سمعتُ منه ما سمعتُم، إنه يُجِيرُ على المسلمين أدْناهُم"، ثم انصرفَ رسول الله ﷺ، فدخَل على ابنتِه زينبَ، فقال:"أيْ بُنيّةُ، أَكرِمي مَثْواهُ، ولا يَخلُصْ إليكِ، فإنك لا تَحِلِّين له" (1) .
سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں کہ سیدہ زینب رضی اللہ عنہا نے بلند آواز سے پکارا: اے لوگو! میں نے ابوالعاص بن ربیع کو پناہ دے دی ہے۔ جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے نماز سے سلام پھیرا تو لوگوں کی طرف متوجہ ہوئے اور فرمایا: ”اے لوگو! کیا تم نے وہ سنا جو میں نے سنا؟“ لوگوں نے عرض کیا: جی ہاں، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اس ذات کی قسم جس کے ہاتھ میں محمد کی جان ہے! مجھے اس بارے میں کچھ علم نہیں تھا یہاں تک کہ میں نے بھی وہی سنا جو تم نے سنا، بے شک مسلمانوں کا ایک ادنیٰ درجہ کا آدمی بھی کسی کو پناہ دے سکتا ہے۔“ پھر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم وہاں سے اپنی صاحبزادی سیدہ زینب رضی اللہ عنہا کے پاس تشریف لے گئے اور فرمایا: ”اے پیاری بیٹی! ان کی ٹھہرنے کی جگہ کو باعزت بنانا (یعنی ان کی مہمان نوازی کرنا) لیکن وہ تمہارے قریب (بطور شوہر) نہ آئیں کیونکہ اب تم ان کے لیے حلال نہیں ہو۔“ [المستدرك على الصحيحين/كِتَابُ مَعْرِفَةِ الصَّحَابَةِ رَضِيَ اللهُ تَعَالَى عَنْهُمْ/حدیث: 5110]
تخریج الحدیث: [ترقيم الرساله 5110] [ترقيم الشركة 5071/2]
حدیث نمبر: 5111
قال ابن إسحاق: وحدثني عبد الله بن أبي بكر بن محمد بن عمرو بن حَزْم، عن عَمْرة، عن عائشة: أنَّ رسولَ الله ﷺ بعث إلى السَّرِيّة الذين أصابُوا مالَ أبي العاص، وقال لهم:"إنَّ هذا الرجلَ منا حيثُ قد علمتُم، وقد أصبتُم له مالًا، فإن تُحسِنوا تَردُّوا عليه الذي له، فإنا نُحبُّ ذلك، وإن أبَيتُم ذلك فهو فَيْء الله الذي أفاءه عليكم، فأنتم أحقُّ به" قالوا يا رسول الله، بل نَردُّه عليه. قال: فرَدُّوا عليه مالَه، حتى إنَّ الرجلَ ليأتي بالحَبْل ويأتي الرجلُ بالشَّنّة والإداوة، حتى إنَّ أحدَهم ليأتي بالشِّظاظ (1) ، حتى رَدُّوا عليه مالَه بأسْرِه لا يَفقِدُ منه شيئًا، ثم احتَمَل إلى مكةَ، فأدّى إلى كُلّ ذِي مالٌ من قريشٍ مالَه ممَّن كان أبضَعَ معه، ثم قال: يا مَعشرَ قُريش، هل بقيَ لأحدٍ منكم عندي مالٌ لم يأخذْه؟ قالوا: لا، فجزاك اللهُ خيرًا، فقد وجدناك وفِيًّا كريمًا، قال: فإني أشهد أن لا إلهَ إِلَّا الله وأنَّ محمدًا عبدُه ورسولُه، وما مَنَعني من الإسلام عندَه إلَّا تخوُّفًا أن تَظُنُّوا أني إنما أردتُ أخذَ أموالِكم، فلما أدَّاها الله ﷿ إليكم، وفَرغْتُ منها أسلمتُ، ثم خرج حتى قدم على رسول الله ﷺ (2) .
سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس فوجی دستے (سریہ) کی طرف پیغام بھیجا جنہوں نے ابوالعاص کا مال قبضے میں لیا تھا اور ان سے فرمایا: ”یہ شخص ہمارے متعلقین میں سے ہے جیسا کہ تم جانتے ہو، اور تم نے اس کا مال حاصل کر لیا ہے، پس اگر تم بھلائی کرو اور اس کا مال اسے واپس لوٹا دو تو ہمیں یہ بات پسند ہے، لیکن اگر تم اسے واپس کرنے سے انکار کرو تو یہ اللہ کی طرف سے دیا گیا وہ مالِ فے ہے جو اس نے تمہیں عطا فرمایا ہے اور تم اس کے زیادہ حقدار ہو۔“ صحابہ نے عرض کیا: اے اللہ کے رسول! ہم اسے اس کا مال واپس کر دیں گے۔ راوی کہتے ہیں کہ انہوں نے اس کا سارا مال واپس کر دیا یہاں تک کہ جس کے پاس کوئی رسی تھی وہ رسی لے آیا، جس کے پاس چمڑے کا پرانا مشکیزہ یا پانی کا برتن تھا وہ لے آیا، یہاں تک کہ کوئی لکڑی کی کیل (جو کجاوے میں استعمال ہوتی ہے) لے کر آیا، یہاں تک کہ انہوں نے اس کا مکمل مال واپس کر دیا اور اس میں سے ذرہ برابر بھی کوئی چیز ضائع نہ ہوئی۔ پھر وہ مکہ روانہ ہوئے اور قریش کے ہر اس صاحبِ مال کو اس کا مال پہنچا دیا جس نے ان کے ساتھ تجارت کے لیے سامان بھیجا تھا، پھر ابوالعاص نے پکار کر کہا: ”اے گروہِ قریش! کیا تم میں سے کسی کا کوئی مال میرے پاس باقی ہے جو اسے نہ ملا ہو؟“ انہوں نے کہا: نہیں، اللہ تمہیں بہترین جزا دے، ہم نے تمہیں عہد کا پکا اور نہایت شریف پایا ہے، تب انہوں نے کہا: ”میں گواہی دیتا ہوں کہ اللہ کے سوا کوئی معبودِ برحق نہیں اور محمد صلی اللہ علیہ وسلم اللہ کے بندے اور اس کے رسول ہیں، اور مجھے تمہارے پاس مکہ میں اسلام لانے سے صرف یہ ڈر مانع تھا کہ کہیں تم یہ نہ سمجھو کہ میں تمہارا مال مارنا چاہتا ہوں، اب جبکہ اللہ نے وہ مال تمہیں ادا کروا دیا اور میں اس ذمہ داری سے فارغ ہو گیا تو اب میں اسلام لاتا ہوں“، پھر وہ وہاں سے ہجرت کر کے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہو گئے۔ [المستدرك على الصحيحين/كِتَابُ مَعْرِفَةِ الصَّحَابَةِ رَضِيَ اللهُ تَعَالَى عَنْهُمْ/حدیث: 5111]
تخریج الحدیث: [ترقيم الرساله 5111] [ترقيم الشركة 5071/3]
حدیث نمبر: 5112
قال ابن إسحاق: فحدثني داود بن الحُصين، عن عِكْرمة، عن ابن عباس، قال: ردَّ رسولُ الله ﷺ زينب بالنكاحِ الأول، لم يُحدِثْ شيئًا بعد ستِّ سنين (1) . ثم إنَّ أبا العاص رَجَعَ إلى مكة بعدما أسلم، فلم يشهد مع النبي ﷺ مَشهدًا، ثم قَدِمَ المدينةَ بعد ذلك فتُوفّي في ذي الحِجّة من سنة اثنتي عشرة، في خلافة أبي بكر ﵁، وأَوصى إلى الزُّبير بن العَوّام ﵁ (2) . ذكرُ مناقب ضِرار بن الأزوَر الأسَدي الشاعر ﵁ -
سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنی صاحبزادی سیدہ زینب رضی اللہ عنہا کو پہلے ہی نکاح کی بنیاد پر (ابوالعاص کے پاس) واپس لوٹا دیا اور چھ سال گزر جانے کے بعد بھی کوئی نیا نکاح نہیں پڑھایا۔ پھر ابوالعاص اسلام لانے کے بعد (اپنے معاملات درست کرنے) مکہ واپس چلے گئے تھے اس لیے وہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے ہمراہ کسی جنگ میں شریک نہیں ہوئے، پھر اس کے بعد وہ مدینہ منورہ آگئے اور سیدنا ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ کے دورِ خلافت میں سن 12 ہجری کے ماہِ ذی الحجہ میں ان کا انتقال ہوا اور انہوں نے سیدنا زبیر بن عوام رضی اللہ عنہ کو اپنی وصیتوں کے لیے وصی مقرر کیا تھا۔
سیدنا ضرار بن ازور اسدی شاعر رضی اللہ عنہ کے مناقب کا ذکر: [المستدرك على الصحيحين/كِتَابُ مَعْرِفَةِ الصَّحَابَةِ رَضِيَ اللهُ تَعَالَى عَنْهُمْ/حدیث: 5112]
سیدنا ضرار بن ازور اسدی شاعر رضی اللہ عنہ کے مناقب کا ذکر: [المستدرك على الصحيحين/كِتَابُ مَعْرِفَةِ الصَّحَابَةِ رَضِيَ اللهُ تَعَالَى عَنْهُمْ/حدیث: 5112]
تخریج الحدیث: «إسناده حسنٌ.» [ترقيم الرساله 5112] [ترقيم الشركة 5071/4]
الحكم على الحديث: إسناده حسنٌ