🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

المستدرك على الصحيحين سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم الرسالہ
ترقيم الشرکۃ
عربی لفظ
اردو لفظ
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

ترقیم الرساله سے تلاش کل احادیث (9018)
حدیث نمبر لکھیں:
ترقیم الشركة سے تلاش کل احادیث (8909)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:

277. ذِكْرُ مَنَاقِبِ ضِرَارِ بْنِ الْأَزْوَرِ الْأَسَدِيِّ الشَّاعِرِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ
سیدنا ضرار بن ازور اسدی، شاعر رضی اللہ عنہ کے مناقب کا بیان
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 5109
حدثنا أبو العباس محمد بن يعقوب، حدثنا أحمد بن عبد الجبار، حدثنا يونس بن بُكَير، عن محمد بن إسحاق، حدثني يحيى بن عبّاد بن عبد الله بن الزُّبَير، عن أبيه، عن عائشةَ زوجِ النبي ﷺ قالت: لما بعثَ أهلُ مكةَ في فِداء أُساراهم بَعثتْ زينبُ ابنةُ رسول الله ﷺ في فِداء أبي العاص بمالٍ، وبعثتْ فيه بقلادةٍ كانت خديجةُ أدخلَتْها بها على أبي العاص حين بَنى عليها، فلمّا رأى رسولُ الله ﷺ تلكَ القِلادةَ رَقَّ لها رِقّةً شديدةً، وقال:"إن رأيتُم أن تُطلِقوا أسيرَها، وتَردُّوا عليها الذي لها فافعلُوا"، فقالوا: نعم يا رسول الله، فأطلَقُوه ورَدُّوا عليه الذي لها (1) . ولم يَزَل أبو العاص مُقيمًا على شِرْكه حتى إذا كان قُبَيلَ فتح مكةَ خرج بتجارة إلى الشام بأموال من أموال قريش أَبضَعُوها معه، فلما فَرَغ من تجارتِه وأقبلَ قافلًا، لقيَتْه سريّةٌ لرسولِ الله ﷺ، وقيل: إنَّ رسول الله ﷺ كان هو الذي وجَّه السَّرِيَة للعِير التي فيها أبو العاص قافلةً من الشام، وكانوا سبعين ومئةَ راكبٍ، أميرُهم زيد بن حارثة، وذلك في جمادى الأولى في سنة ستٍّ من الهجرة، فأخَذُوا ما في تلك العِير من الأثقال، وأسرُوا أناسًا من العِير، فأعجزَهم أبو العاص هَرَبًا، فلما قَدِمَت السريّةُ بما أصابوا أقبل أبو العاص من الليل، حتى دخل على زينبَ ابنةِ رسول الله ﷺ، فاستجارَ بها فأجارتْه؛ في طلب ماله، فلمّا خرج رسولُ الله ﷺ إلى صلاة الصبح فكبَّر وكبَّر الناسُ معه (1)
ام المومنین سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں: جب اہل مکہ نے اپنے قیدیوں کے فدیے بھیجے، تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی صاحبزادی سیدہ زینب رضی اللہ عنہا نے اپنے شوہر سیدنا ابوالعاص رضی اللہ عنہ کے فدیے کی مد میں مال بھیجا، اس مال میں وہ ہار بھی تھا جو ان کی والدہ محترمہ سیدہ خدیجہ رضی اللہ عنہا نے سیدنا ابوالعاص رضی اللہ عنہ کے ساتھ نکاح کے موقع پر ان کو پہنایا تھا، جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے وہ ہار دیکھا تو آپ پر رقت طاری ہو گئی، آپ بہت روئے، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے (صحابہ سے مخاطب ہو کر) فرمایا: اگر تم (مناسب سمجھو تو) زینب کے قیدی کو رہا کر دو، اور اس نے فدیے میں جو مال بھیجا ہے وہ واپس لوٹا دو۔ صحابہ کرام رضی اللہ عنہم نے اس بات کو دل و جان سے قبول کر لیا، اور سیدنا ابوالعاص رضی اللہ عنہ کو رہا کر دیا اور سیدہ زینب رضی اللہ عنہ کا بھیجا ہوا مال واپس کر دیا، اس کے بعد بھی سیدنا ابوالعاص رضی اللہ عنہ حالت شرک پر ہی قائم رہے، فتح مکہ سے کچھ عرصہ پہلے سیدنا ابوالعاص رضی اللہ عنہ قریش مکہ کا سامان تجارت لے کر ملک شام گئے، جب تجارت سے فارغ ہو کر واپس آ رہے تھے، تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ایک لشکر کی جماعت کی ان سے ملاقات ہوئی، (یہ بھی کہا گیا ہے کہ اس لشکر کو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے بذات خود اسی قافلے سے ملاقات کے لئے روانہ کیا تھا، جو شام سے واپس آ رہا تھا اور اس میں ابوالعاص بھی تھے، یہ لشکر 170 مجاہدین پر مشتمل تھا اور ان کے امیر سیدنا زید بن حارثہ رضی اللہ عنہ تھے، (یہ بات جمادی الاولی چھٹی سن ہجری کی ہے) اس لشکر نے اس قافلے والوں کا مال چھین لیا اور ان کو گرفتار کر لیا، لیکن ابوالعاص رضی اللہ عنہ ان کے ہاتھ نہ آئے، جب یہ لشکر واپس آ گیا، ابوالعاص رضی اللہ عنہ اپنا مال لینے کے لئے، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی صاحبزادی سیدہ زینب رضی اللہ عنہا کے پاس آئے، اور ان سے پناہ مانگی، سیدہ زینب رضی اللہ عنہا نے ان کو پناہ دے دی، پھر جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نماز فجر کے لئے نکلے اور (نماز کے لئے) تکبیر کہی، تو تمام لوگوں نے بھی آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے ہمراہ تکبیر کہی [المستدرك على الصحيحين/كِتَابُ مَعْرِفَةِ الصَّحَابَةِ رَضِيَ اللهُ تَعَالَى عَنْهُمْ/حدیث: 5109]

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 5110
قال ابن إسحاق: فحدثني يزيد بن رُومانَ، عن عُروة، عن عائشة، قالت: صرخَتْ زينبُ: أيُّها الناس، إني قد أجَرْتُ أبا العاص بن الربيع، قال: فلما سلَّم رسولُ الله ﷺ من صلاته أقبلَ على الناس، فقال:"أيها الناس، هل سمعتُم ما سمعتُ؟" قالوا: نعم، قال:"أما والذي نفسُ محمدٍ بيدِه، ما عَلِمتُ بشيءٍ كان حتى سمعتُ منه ما سمعتُم، إنه يُجِيرُ على المسلمين أدْناهُم"، ثم انصرفَ رسول الله ﷺ، فدخَل على ابنتِه زينبَ، فقال:"أيْ بُنيّةُ، أَكرِمي مَثْواهُ، ولا يَخلُصْ إليكِ، فإنك لا تَحِلِّين له" (1) .
ام المومنین سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں: جب اہل مکہ نے اپنے قیدیوں کا فدیہ بھجوایا تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی صاحبزادی سیدہ زینب رضی اللہ عنہا نے (اپنے شوہر) ابوالعاص کے فدیے کے طور پر کچھ مال بھجوایا، جس میں انہوں نے وہ ہار بھی بھجوا دیا، جو سیدہ خدیجہ رضی اللہ عنہا نے سیدہ زینب رضی اللہ عنہا کی رخصتی کے موقع پر انہیں دیا تھا، جب نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے وہ ہار ملاحظہ فرمایا تو آپ پر شدید رقت طاری ہو گئی۔ ام المومنین سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں: سیدہ زینب رضی اللہ عنہا نے بآواز بلند پکار کر کہا: اے لوگو! میں نے ابوالعاص بن ربیع کو پناہ دے دی ہے، جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نماز سے فارغ ہوئے تو لوگوں کی جانب متوجہ ہو کر فرمایا: اے لوگو! جو آواز میں نے سنی ہے، کیا وہ آواز تم نے بھی سنی ہے؟لوگوں نے کہا: جی ہاں۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اس ذات کی قسم جس کے قبضہ قدرت میں میری جان ہے جو آواز تم نے سنی اس کے سننے سے پہلے مجھے بھی اس بات کا پتا نہیں تھا، بیشک ایک ادنیٰ مسلمان بھی کسی کو پناہ دے سکتا ہے، پھر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سیدہ زینب رضی اللہ عنہا کے پاس تشریف لائے، اور فرمایا: اے بیٹی! اس کا خیال رکھنا، لیکن اس کے ساتھ تنہا نہ ہونا کیونکہ تم اس پر حلال نہیں ہو۔ [المستدرك على الصحيحين/كِتَابُ مَعْرِفَةِ الصَّحَابَةِ رَضِيَ اللهُ تَعَالَى عَنْهُمْ/حدیث: 5110]

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 5111
قال ابن إسحاق: وحدثني عبد الله بن أبي بكر بن محمد بن عمرو بن حَزْم، عن عَمْرة، عن عائشة: أنَّ رسولَ الله ﷺ بعث إلى السَّرِيّة الذين أصابُوا مالَ أبي العاص، وقال لهم:"إنَّ هذا الرجلَ منا حيثُ قد علمتُم، وقد أصبتُم له مالًا، فإن تُحسِنوا تَردُّوا عليه الذي له، فإنا نُحبُّ ذلك، وإن أبَيتُم ذلك فهو فَيْء الله الذي أفاءه عليكم، فأنتم أحقُّ به" قالوا يا رسول الله، بل نَردُّه عليه. قال: فرَدُّوا عليه مالَه، حتى إنَّ الرجلَ ليأتي بالحَبْل ويأتي الرجلُ بالشَّنّة والإداوة، حتى إنَّ أحدَهم ليأتي بالشِّظاظ (1) ، حتى رَدُّوا عليه مالَه بأسْرِه لا يَفقِدُ منه شيئًا، ثم احتَمَل إلى مكةَ، فأدّى إلى كُلّ ذِي مالٌ من قريشٍ مالَه ممَّن كان أبضَعَ معه، ثم قال: يا مَعشرَ قُريش، هل بقيَ لأحدٍ منكم عندي مالٌ لم يأخذْه؟ قالوا: لا، فجزاك اللهُ خيرًا، فقد وجدناك وفِيًّا كريمًا، قال: فإني أشهد أن لا إلهَ إِلَّا الله وأنَّ محمدًا عبدُه ورسولُه، وما مَنَعني من الإسلام عندَه إلَّا تخوُّفًا أن تَظُنُّوا أني إنما أردتُ أخذَ أموالِكم، فلما أدَّاها الله ﷿ إليكم، وفَرغْتُ منها أسلمتُ، ثم خرج حتى قدم على رسول الله ﷺ (2) .
ابن اسحاق کہتے ہیں: ام المومنین سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں: جو لشکر ابوالعاص کا قافلہ لوٹ کر آیا تھا، اس کی جانب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے پیغام بھیجا یہ آدمی ہمارا ہے اور تم لوگوں نے اس کا مال چھینا ہے، اگر تم مہربانی کر کے اس کا مال اس کو لوٹا دو تو مجھے دلی خوشی ہو گی، اور اگر تمہیں اس بات سے انکار ہو تو بھی مجھے کوئی اعتراض نہیں ہے، کیونکہ یہ وہ مال غنیمت ہے جو اللہ تعالیٰ نے تمہیں عطا فرمایا ہے، اور تم لوگ ہی اس کے زیادہ حقدار ہو، صحابہ کرام رضی اللہ عنہم نے عرض کی: یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم (ہماری کیا مجال ہے کہ آپ کا حکم ٹالیں) ہم اس کا مال اس کو لوٹا دیتے ہیں۔ چنانچہ انہوں نے ابوالعاص کا مال اس کو لوٹا دیا۔ حتی کہ کسی کے پاس اگر ان کی کوئی ایک رسی بھی تھی تو وہ بھی اس کو دے دی گئی، کسی کے پاس کوئی چھوٹا موٹا برتن یا پرانی کمان یا مشکیزہ تھا وہ بھی واپس کر دیا گیا، ایک آدمی ایک خوبصورت لونڈی لے کے آیا، اور واپس کر دی، الغرض ان کی پائی پائی واپس کر دی گئی۔ پھر وہ مکہ کی جانب روانہ ہو گئے، مکہ مکرمہ پہنچ کر قریش مکہ کا تمام مال ان کے مالکوں کو واپس کر دیا۔ پھر قریش سے کہا: اے گروہ قریش! تم میں کوئی آدمی ایسا تو نہیں بچا جس کو اس کا مال واپس نہ ملا ہو؟ قریش نے جواباً کہا: نہیں، اللہ تعالیٰ آپ کو جزائے خیر عطا فرمائے، ہم نے آپ کو امانتدار اور اچھا انسان پایا۔ اس کے بعد ابوالعاص نے کہا: تو میں گواہی دیتا ہوں کہ اللہ تعالیٰ کے سوا کوئی عبادت کے لائق نہیں ہے اور میں گواہی دیتا ہوں کہ بے شک محمد صلی اللہ علیہ وسلم اس کے بندے اور رسول ہیں۔ اور ابھی تک میں قبول اسلام سے صرف اس لئے رکا رہا کہ تم کہیں میرے بارے میں یہ بدگمانی نہ کرو کہ میں نے تمہارا مال ہتھیانے کے لئے اسلام قبول کیا ہے اب جبکہ میں نے وہ تمام مال تمہیں ادا کر دیا ہے اور میں تمہاری طرف سے فارغ ہوں تو میں نے اسلام قبول کر لیا، پھر وہ وہاں سے نکلے اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی بارگاہ میں حاضر ہو گئے۔ [المستدرك على الصحيحين/كِتَابُ مَعْرِفَةِ الصَّحَابَةِ رَضِيَ اللهُ تَعَالَى عَنْهُمْ/حدیث: 5111]

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 5112
قال ابن إسحاق: فحدثني داود بن الحُصين، عن عِكْرمة، عن ابن عباس، قال: ردَّ رسولُ الله ﷺ زينب بالنكاحِ الأول، لم يُحدِثْ شيئًا بعد ستِّ سنين (1) . ثم إنَّ أبا العاص رَجَعَ إلى مكة بعدما أسلم، فلم يشهد مع النبي ﷺ مَشهدًا، ثم قَدِمَ المدينةَ بعد ذلك فتُوفّي في ذي الحِجّة من سنة اثنتي عشرة، في خلافة أبي بكر ﵁، وأَوصى إلى الزُّبير بن العَوّام ﵁ (2) . ذكرُ مناقب ضِرار بن الأزوَر الأسَدي الشاعر ﵁ -
ابن اسحاق کہتے ہیں: داود بن حصین نے عکرمہ کے حوالے سے ابن عباس رضی اللہ عنہما کا یہ بیان نقل کیا ہے: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے سات سال بعد سیدہ زینب رضی اللہ عنہا کو پہلے نکاح کی بنیاد پر ابوالعاص کے ساتھ رخصت فرما دیا، نیا کچھ نہیں کیا۔ ابوالعاص رضی اللہ عنہ اسلام قبول کرنے کے بعد دوبارہ مکہ میں آ گئے، انہوں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے ہمراہ کسی غزوہ میں شرکت نہیں کی۔ بعد میں وہ مدینہ منورہ میں آ گئے اور بارہویں سن ہجری میں ذی الحجہ میں سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ کے دور خلافت میں فوت ہوئے۔ اور انہوں نے سیدنا زبیر بن عوام رضی اللہ عنہ کی طرف وصیت فرمائی تھی۔ [المستدرك على الصحيحين/كِتَابُ مَعْرِفَةِ الصَّحَابَةِ رَضِيَ اللهُ تَعَالَى عَنْهُمْ/حدیث: 5112]

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں