🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

Join Whatsapp Channel
المستدرك على الصحيحين سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم الرسالہ
ترقيم الشرکۃ
عربی لفظ
اردو لفظ
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

ترقیم الرساله سے تلاش کل احادیث (9018)
حدیث نمبر لکھیں:
ترقیم الشركة سے تلاش کل احادیث (8909)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:

280. ذِكْرُ مَنَاقِبِ أَبِي كَبْشَةَ مَوْلَى رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ
سیدنا ابو کبشہ، مولیٰ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے مناقب کا بیان
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 5116
حدَّثَناه أبو العباس محمد بن يعقوب، حدثنا أبو عمر أحمد بن عبد الجبار، حدثنا يونس بن بُكَير، عن محمد بن إسحاق، أخبرني داود بن الحُصين، عن عِكْرمة، عن ابن عباس: أنَّ ضِرار بن الأزْوَر لما أسلَمَ أتى النبيَّ ﷺ، فأنشأَ يقول: تركتُ القِداحَ وعَزْفَ القِيَا … نِ والخمرَ تصْلِيةً وابتِهالا وكَرُّ المُحبَّرِ في عُمْرةٍ … وجَهدِي على المشركين القِتالا وقالت جميلةُ: بَدَّدْتَنا … وطَرَّحتَ أهْلَكَ شَتَّى شِلالا فيا ربِّ لا أُغْبَنَنْ صَفْقَتي … فقد بِعتُ أهلي ومالي بِدَالا فقال رسول الله ﷺ:"ما غُبِنتَ صَفْقتك يا ضِرارُ" (2) . ذكرُ مناقب أبي كَبْشة مولى رسول الله ﷺ
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 5042 - صحيح
سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ جب سیدنا ضرار بن ازور رضی اللہ عنہ اسلام لائے تو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوئے اور یہ اشعار پڑھے: میں نے جوئے کے تیر، سارنگیوں کی آواز اور شراب کو چھوڑ کر اب نماز اور گریہ و زاری کو اپنا لیا ہے، اب میرا شوق عمرہ میں اللہ کی حمد و ثنا کرنا اور مشرکین کے خلاف قتال میں اپنی پوری کوشش صرف کرنا ہے، میری بیوی جمیلہ نے کہا کہ تم نے ہمیں برباد کر دیا اور اپنے اہل و عیال کو منتشر کر کے دور پھینک دیا، پس اے میرے رب! میرے اس سودے میں مجھے خسارہ نہ دینا، کیونکہ میں نے اپنے اہل و مال کو (آخرت کے) بدلے میں بیچ دیا ہے۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اے ضرار! تمہارا یہ سودا ہرگز خسارے والا نہیں رہا۔ [المستدرك على الصحيحين/كِتَابُ مَعْرِفَةِ الصَّحَابَةِ رَضِيَ اللهُ تَعَالَى عَنْهُمْ/حدیث: 5116]
تخریج الحدیث: «إسناده حسن من أجل محمد بن إسحاق.» [ترقيم الرساله 5116] [ترقيم الشركة 5075] [ترقيم العلميه 5042]

الحكم على الحديث: إسناده حسن
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 5117
أخبرني أبو سعيد أحمد بن يعقوب الثَّقَفي، حدثنا موسى بن زكريا التُّستَري، حدثنا خَليفة بن خَيّاط العُصفُري، قال: مات أبو كَبْشةَ مولى رسولِ الله ﷺ سنةَ ثلاثَ عشرةَ (1) .
خلیفہ بن خیاط بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے آزاد کردہ غلام سیدنا ابوکبشہ رضی اللہ عنہ کی وفات سن 13 ہجری میں ہوئی۔ [المستدرك على الصحيحين/كِتَابُ مَعْرِفَةِ الصَّحَابَةِ رَضِيَ اللهُ تَعَالَى عَنْهُمْ/حدیث: 5117]
تخریج الحدیث: [ترقيم الرساله 5117] [ترقيم الشركة 5076]

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 5118
حدثنا أبو عبد الله الأصبهاني، حدثنا الحسن بن الجَهْم، حدثنا الحُسين بن الفَرَج، حدثنا محمد بن عمر، عن شيوخه، قالوا: أبو كَبْشة مولى رسولِ الله ﷺ اسمُه سُلَيم، وكان من مُولَّدي أرض دَوْس، شهدَ أبو كَبْشة مع رسول الله ﷺ بدرًا وأُحدًا والمَشاهدَ كلَّها. وتوفي أولَ يوم استُخلِف فيه عمرُ بن الخطّاب، وذلك يومَ الثلاثاء لثَمانِ ليالٍ بَقِين من جُمادى الأولى سنة ثلاثَ عشرةَ من الهجرة (2) .
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 5044 - حذفه الذهبي من التلخيص لضعفه
محمد بن عمر اپنے شیوخ سے روایت کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے آزاد کردہ غلام سیدنا ابوکبشہ رضی اللہ عنہ کا نام سلیم تھا، ان کی پیدائش سرزمینِ دوس میں ہوئی تھی، انہوں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ہمراہ غزوہ بدر، احد اور تمام غزوات میں شرکت کی، ان کی وفات سیدنا عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ کی خلافت کے پہلے دن ہوئی، جو کہ سن 13 ہجری جمادی الاولیٰ کی بائیس تاریخ بروز منگل کا دن تھا۔ [المستدرك على الصحيحين/كِتَابُ مَعْرِفَةِ الصَّحَابَةِ رَضِيَ اللهُ تَعَالَى عَنْهُمْ/حدیث: 5118]
تخریج الحدیث: [ترقيم الرساله 5118] [ترقيم الشركة 5077] [ترقيم العلميه 5044]

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں