المستدرك على الصحيحين سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم الرسالہ
ترقيم الشرکۃ
عربی لفظ
اردو لفظ
280. ذِكْرُ مَنَاقِبِ أَبِي كَبْشَةَ مَوْلَى رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ
سیدنا ابو کبشہ، مولیٰ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے مناقب کا بیان
حدیث نمبر: 5116
حدَّثَناه أبو العباس محمد بن يعقوب، حدثنا أبو عمر أحمد بن عبد الجبار، حدثنا يونس بن بُكَير، عن محمد بن إسحاق، أخبرني داود بن الحُصين، عن عِكْرمة، عن ابن عباس: أنَّ ضِرار بن الأزْوَر لما أسلَمَ أتى النبيَّ ﷺ، فأنشأَ يقول: تركتُ القِداحَ وعَزْفَ القِيَا … نِ والخمرَ تصْلِيةً وابتِهالا وكَرُّ المُحبَّرِ في عُمْرةٍ … وجَهدِي على المشركين القِتالا وقالت جميلةُ: بَدَّدْتَنا … وطَرَّحتَ أهْلَكَ شَتَّى شِلالا فيا ربِّ لا أُغْبَنَنْ صَفْقَتي … فقد بِعتُ أهلي ومالي بِدَالا فقال رسول الله ﷺ:"ما غُبِنتَ صَفْقتك يا ضِرارُ" (2) . ذكرُ مناقب أبي كَبْشة مولى رسول الله ﷺ
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 5042 - صحيح
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 5042 - صحيح
سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ جب سیدنا ضرار بن ازور رضی اللہ عنہ اسلام لائے تو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوئے اور یہ اشعار پڑھے: ”میں نے جوئے کے تیر، سارنگیوں کی آواز اور شراب کو چھوڑ کر اب نماز اور گریہ و زاری کو اپنا لیا ہے، اب میرا شوق عمرہ میں اللہ کی حمد و ثنا کرنا اور مشرکین کے خلاف قتال میں اپنی پوری کوشش صرف کرنا ہے، میری بیوی جمیلہ نے کہا کہ تم نے ہمیں برباد کر دیا اور اپنے اہل و عیال کو منتشر کر کے دور پھینک دیا، پس اے میرے رب! میرے اس سودے میں مجھے خسارہ نہ دینا، کیونکہ میں نے اپنے اہل و مال کو (آخرت کے) بدلے میں بیچ دیا ہے۔“ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اے ضرار! تمہارا یہ سودا ہرگز خسارے والا نہیں رہا۔“ [المستدرك على الصحيحين/كتاب معرفة الصحابة رضي الله تعالى عنهم/حدیث: 5116]
تخریج الحدیث: «إسناده حسن من أجل محمد بن إسحاق.» [ترقيم الرساله 5116] [ترقيم الشركة 5075] [ترقيم العلميه 5042]
الحكم على الحديث:
إسناده حسن
المستدرك على الصحيحين کی حدیث نمبر 5116 پر
الشیخ عادل مرشد، ڈاکٹر احمد برہوم، ڈاکٹر محمد کامل قرہ بلی، ڈاکٹر سعید اللحام کی
تخريج وتحقيقِ محدثانہ نکات و اصطلاحی مطالعہ
الشیخ عادل مرشد، ڈاکٹر احمد برہوم، ڈاکٹر محمد کامل قرہ بلی، ڈاکٹر سعید اللحام کی
تخريج وتحقيقِ محدثانہ نکات و اصطلاحی مطالعہ
(2) إسناده حسن من أجل محمد بن إسحاق.
⚖️ درجۂ حدیث: اس کی سند محمد بن اسحاق کی وجہ سے "حسن" ہے۔
وسيأتي عند المصنف برقم (6747) من طريق أخرى ضعيفة عن ضرار.
🧾 تفصیلِ روایت: یہ روایت مصنف کے پاس آگے نمبر (6747) پر ایک اور "ضعیف" طریق سے ضرار سے آئے گی۔
قوله: تركت القِداح، أي: السَّهام التي كانوا يستكشفون بها الغيب.
📝 لغوی تحقیق: قول "تركت القِداح" کا مطلب ہے: میں نے ان تیروں کو چھوڑ دیا جن کے ذریعے وہ غیب معلوم کیا کرتے تھے (فال گیری کے تیر)۔
والقِيان: المغنيات من الجواري.
📝 لغوی تحقیق: "القِیان": گانے والی لونڈیاں۔
وتَصْليةً، أي: استغفارًا.
📝 لغوی تحقیق: "تَصْلِیَۃً": یعنی استغفار (بخشش مانگنا)۔
وابتهالًا: تضرعًا الله تعالى.
📝 لغوی تحقیق: "اِبتِہَالاً": اللہ تعالیٰ کے حضور گڑگڑانا / عاجزی کرنا۔
والمحبَّر: اسم فرس ضرار بن الأزور.
📝 لغوی تحقیق: "المحبَّر": یہ ضرار بن ازور کے گھوڑے کا نام ہے۔
وبَدَّدتَنا: فَرَّقتَنا.
📝 لغوی تحقیق: "بَدَّدتَنا": تو نے ہمیں تتر بتر (منتشر) کر دیا۔
وشِلالًا: أي: مطرودين.
📝 لغوی تحقیق: "شِلالاً": یعنی دھتکارے ہوئے۔
Al Mustadrak ala al‑Sahihayn Hadith 5116 in Urdu