المستدرك على الصحيحين سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم الرسالہ
ترقيم الشرکۃ
عربی لفظ
اردو لفظ
283. ذِكْرُ مَنَاقِبِ عَمْرِو بْنِ سَعِيدِ بْنِ الْعَاصِ بْنِ أُمَيَّةَ بْنِ عَبْدِ شَمْسِ بْنِ عَبْدِ مَنَافٍ
سیدنا عمرو بن سعید بن العاص بن امیہ بن عبد شمس بن عبد مناف کے مناقب کا بیان — سیدنا عمرو بن سعید رضی اللہ عنہ کی شہادت کا ذکر
حدیث نمبر: 5121
أخبرنا محمد بن المُؤمَّل بن الحسن، حدثنا الفضْل بن محمد الشَّعْراني، حدثنا إسحاق بن محمد الفَرْوي، حدثنا موسى بن محمد بن إبراهيم بن الحارث التَّيمي، حدثني أبي، عن أبي سَلَمة بن عبد الرحمن، قال: أسلمَ طُلَيب بن عُمَير في دار الأرقم، ثم خرج فدخل على أمّه، وهي أرْوى بنت عبد المُطَّلب، فقال: تَبعتُ محمدًا وأسلمتُ لله رب العالمين، فقالت أمُّه: إن أحقَّ من وَازرْتَ ومن عاضَدْتَ ابنُ خالك، والله لو كنا نقدِرُ على ما يَقدِرُ عليه الرجالُ لتَبِعناهُ، ولذَيَبنا عنه، قال: فقلتُ: يا أماه، وما يمنعُك أن تُسلِمِي وتَتّبعيه؟! فقد أسلم أخوك حمزة! فقالت: أنظُرُ ما يصنعُ أخَواتي ثم أكونُ إحداهُن، قال: قلتُ: أسألُك باللهِ إلَّا أتيتيهِ فسلّمتِ عليه وصدقتِيهِ، وشهدتِ أنَّ لا إله إلَّا الله، قالت: فإني أشهدُ أن لا إله إلَّا الله وأشهد أنَّ محمدًا رسولُ الله، وكانت بعد تعضُد النبيَّ ﷺ بلسانها (1) ، وتَحُضُّ ابنَها على نُصرتِه وبالقيام بأمرِه (2) . صحيح غريب على شرط البخاري، ولم يُخرجاه. ذكرُ مناقب عمرو بن سعيد بن العاص بن أُميّة بن عبد شَمْس بن عبد مَنَاف
سیدنا طلیب بن عمیر رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ انہوں نے دارِ ارقم میں اسلام قبول کیا، پھر وہ اپنی والدہ اروی بنت عبدالمطلب (جو کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی پھوپھی تھیں) کے پاس گئے اور کہا: میں نے محمد صلی اللہ علیہ وسلم کی پیروی اختیار کر لی ہے اور اللہ رب العالمین کے لیے اسلام لے آیا ہوں، ان کی والدہ نے کہا: بے شک تمہارے خالہ زاد (محمد صلی اللہ علیہ وسلم ) اس بات کے سب سے زیادہ حقدار ہیں کہ تم ان کی مدد کرو اور ان کا ساتھ دو، اللہ کی قسم! اگر ہم وہ کچھ کرنے کی طاقت رکھتے جو مرد رکھتے ہیں تو ہم بھی ان کی پیروی کرتے اور ان کا دفاع کرتے، طلیب کہتے ہیں کہ میں نے عرض کیا: اے میری ماں! آپ کو اسلام قبول کرنے اور ان کی پیروی کرنے سے کیا چیز روک رہی ہے؟! جبکہ آپ کے بھائی حمزہ رضی اللہ عنہ بھی اسلام لا چکے ہیں، انہوں نے کہا: میں دیکھتی ہوں کہ میری بہنیں کیا کرتی ہیں پھر میں بھی ان میں سے ایک بن جاؤں گی، طلیب نے کہا: میں آپ کو اللہ کا واسطہ دے کر کہتا ہوں کہ آپ ان کے پاس جائیں، انہیں سلام کریں، ان کی تصدیق کریں اور گواہی دیں کہ اللہ کے سوا کوئی معبود نہیں، اروی نے کہا: میں گواہی دیتی ہوں کہ اللہ کے سوا کوئی معبود نہیں اور میں گواہی دیتی ہوں کہ محمد اللہ کے رسول ہیں، چنانچہ اس کے بعد وہ اپنی زبان سے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی تائید فرماتی تھیں اور اپنے بیٹے کو آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی نصرت اور آپ کے احکامات کی بجا آوری پر ابھارتی رہتی تھیں۔
یہ حدیث امام بخاری کی شرط پر صحیح غریب ہے لیکن شیخین نے اسے روایت نہیں کیا۔ [المستدرك على الصحيحين/كِتَابُ مَعْرِفَةِ الصَّحَابَةِ رَضِيَ اللهُ تَعَالَى عَنْهُمْ/حدیث: 5121]
یہ حدیث امام بخاری کی شرط پر صحیح غریب ہے لیکن شیخین نے اسے روایت نہیں کیا۔ [المستدرك على الصحيحين/كِتَابُ مَعْرِفَةِ الصَّحَابَةِ رَضِيَ اللهُ تَعَالَى عَنْهُمْ/حدیث: 5121]
تخریج الحدیث: «إسناده ضعيف لضعف موسى بن محمد بن إبراهيم بن الحارث التَّيمي، وإسحاق بن محمد الفَرْوي ليّنُ الحديث، لكن تابعه محمد بن عمر الواقدي عند ابن سعد في "الطبقات الكبرى" 3/ 114 و 10/ 42، غير أنَّ الواقدي لم يذكر في إسناده أبا سلمة بن عبد الرحمن، فجعله من مرسل محمد ابن إبراهيم التيمي.» [ترقيم الرساله 5121] [ترقيم الشركة 5080]
الحكم على الحديث: إسناده ضعيف لضعف موسى بن محمد بن إبراهيم بن الحارث التَّيمي