🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

Join Whatsapp Channel
المستدرك على الصحيحين سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم الرسالہ
ترقيم الشرکۃ
عربی لفظ
اردو لفظ
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

ترقیم الرساله سے تلاش کل احادیث (9018)
حدیث نمبر لکھیں:
ترقیم الشركة سے تلاش کل احادیث (8909)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:

288. دُعَاءُ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ لِعِكْرِمَةَ
نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی سیدنا عکرمہ رضی اللہ عنہ کے لیے دعا
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 5133
أخبرَناهُ محمد بن محمد البغدادي، حدثنا محمد بن عمرو بن خالد الحَرّاني، حدثنا أبي، حدثنا ابن لَهِيعة، عن أبي الأسوَد، عن عُروة قال: فَرَّ عِكرمةُ بن أبي جَهْل يومَ الفتح عامدًا إلى اليمن، وأقبلَت أمُّ حكيم بنت الحارث بن هشام، وهي يومئذ مُسلِمةٌ، وهي تحت عِكرمةَ بن أبي جَهْل، فاستأذنتْ رسولَ الله ﷺ في طلب زوجِها، فأذِنَ لها وأمَّنَه، فخرجتْ برُوميٍّ لها، فراوَدَها عن نفسِها، فلم تَزَل تُمنِّيه وتُقرِّب له، حتى قَدِمتْ على أُناسٍ من عَكٍّ (1) ، فاستغاثَتْهم عليه، فأوثَقُوه، فأدركَتْ زوجها ببعضِ تِهامةَ، وقد كان رَكِبَ في سفينةٍ فلما جلس فيها نادى باللاتِ والعُزَّى، فقال أصحابُ السفينة: لا يجوزُ هاهنا أحدٌ يدعو شيئًا إلَّا الله وحده مُخلِصًا، فقال عِكْرمةُ: واللهِ لئن كان في البحر وحدَه، إنه في البَرِّ وحدَه، أُقسِمُ بالله لأرجعنّ إلى محمدٍ، فرَجَع عِكْرمةُ مع امرأتِه فدخَل على رسول الله ﷺ، فبايَعه فقَبِلَ منه. ودخَل رجلٌ مِن هُذيل حين هُزِمت بنو بَكْرٍ على امرأته فارًّا فلامَتُه وعَجَّزَتْه وعَيَّرتْه بالفِرَارِ، فقال: وأنتِ لو رأيتِنا بالخَندَمَهْ … إذ فَرَّ صفوانُ وفَرَّ عِكْرِمَهْ وأَلحَمُونا بالسُّيوفِ المُسلِمَهْ … يَقطَعن كلِّ ساعدٍ وجُمجُمَهْ لم تَنطِقي في اللَّوم أدنَى كَلِمَهْ قال عُروة: واستُشهِدَ يوم أجْنادِينَ من المسلمين، ثم من قريش، ثم بني مَخزُومٍ عِكْرمةُ بن أبي جَهل (1) .
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 5056 - حذفه الذهبي من التلخيص لضعفه
سیدنا عروہ بن زبیر رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ فتح مکہ کے دن عکرمہ بن ابی جہل یمن کی طرف بھاگ گئے، جبکہ ان کی زوجہ ام حکیم بنت حارث بن ہشام اس وقت مسلمان ہو چکی تھیں، انہوں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے اپنے شوہر کی تلاش کے لیے اجازت مانگی تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے انہیں اجازت دی اور عکرمہ کو امان عطا فرمائی۔ وہ اپنے ایک رومی غلام کے ساتھ روانہ ہوئیں جس نے ان کے ساتھ برا ارادہ کیا، وہ اسے ٹالتی رہیں یہاں تک کہ قبیلہ عک کے کچھ لوگوں تک پہنچیں اور ان سے مدد مانگی جنہوں نے اسے جکڑ دیا۔ وہ تہامہ کے ایک مقام پر اپنے شوہر تک پہنچ گئیں، عکرمہ اس وقت ایک کشتی پر سوار ہو چکے تھے، جب وہ کشتی میں بیٹھے تو انہوں نے لات اور عزیٰ کو پکارا جس پر ملاحوں نے کہا کہ یہاں اللہ کے سوا کسی کو پکارنا جائز نہیں، عکرمہ نے سوچا کہ اللہ کی قسم! اگر سمندر میں وہی اکیلا ہے تو خشکی پر بھی وہی اکیلا ہے، میں عہد کرتا ہوں کہ میں ضرور محمد صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس واپس جاؤں گا۔ چنانچہ عکرمہ اپنی زوجہ کے ہمراہ واپس لوٹے اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی بیعت کی جسے آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے قبول فرما لیا۔ اور جب بنو بکر کو شکست ہوئی تو ہذیل کا ایک شخص بھاگ کر اپنی بیوی کے پاس پہنچا، اس نے اسے ملامت کی تو اس نے کہا: کاش تم ہمیں مقامِ خندمہ پر دیکھتیں، جب صفوان اور عکرمہ بھاگ کھڑے ہوئے تھے اور مسلمانوں کی تلواریں ہم پر مسلط تھیں جو ہر کلائی اور کھوپڑی کو کاٹ رہی تھیں، تو تم ملامت کا ایک لفظ بھی نہ کہتیں۔ عروہ فرماتے ہیں کہ قریش کے خاندان بنو مخزوم سے تعلق رکھنے والے سیدنا عکرمہ بن ابی جہل رضی اللہ عنہ جنگِ اجنادین کے دن شہید ہوئے۔ [المستدرك على الصحيحين/كِتَابُ مَعْرِفَةِ الصَّحَابَةِ رَضِيَ اللهُ تَعَالَى عَنْهُمْ/حدیث: 5133]
تخریج الحدیث: [ترقيم الرساله 5133] [ترقيم الشركة 5089] [ترقيم العلميه 5056]

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں