المستدرك على الصحيحين سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم الرسالہ
ترقيم الشرکۃ
عربی لفظ
اردو لفظ
289. إِيثَارُ الصَّحَابَةِ عَلَى أَنْفُسِهِمْ
صحابۂ کرام رضی اللہ عنہم کا اپنے اوپر دوسروں کو ترجیح دینا
حدیث نمبر: 5134
حدثنا أحمد بن سهل الفقيه ببُخارَى، حدثنا سهل بن المُتوكِّل، حدثنا إسماعيل بن أبي أُويس، عن أبيه، عن الزُّهْري، عن عُروة بن الزُّبَير، قال: قال عِكرمةُ بن أبي جَهْل: لما انتهيتُ إلى رسول الله ﷺ قلتُ: يا محمد، إن هذه أخبرتْني أنك أَمَّنتَني، فقال رسول الله ﷺ:"أنتَ آمِنٌ"، فقلتُ: أشهد أن لا إله إلَّا الله وحدَه لا شَريكَ له، وأنتَ عبدُ الله ورسولُه، وأنتَ أبَرُّ الناس، وأصدَقُ الناسِ، وأَوفَى الناس، قال عِكْرمةُ: أقولُ ذلك وإني لَمُطأطئٌ رأسي استحياءً منه، ثم قلتُ: يا رسول الله، استغِفرْ لي كلَّ عداوة عاديتُكَها، أو مَركبٍ أو ضَعتُ فيه أريدُ فيه إظهارَ الشِّرك، فقال رسول الله ﷺ:"اللهم اغفِرْ لعكرمةَ كلَّ عداوةٍ عادانيها أو مَركبٍ أَوضَعَ فيه يريدُ أن يَصُدَّ عن سَبيلك"، قلت: يا رسول الله، مُرْني بخيرِ ما تَعلَمُ فأعملَه، قال:"قُل: أشهدُ أن لا إلهَ إلَّا الله، وأنَّ محمدًا عبدُه ورسولُه، وتُجاهِدُ في سبيله"، ثم قال عكرمة: أما واللهِ يا رسولَ الله، لا أدعُ نفقةً كنتُ أُنفِقُها في صَدٍّ عن سبيل الله إلَّا أنفقتُ ضِعفَها (1) في سبيل الله، ولا قاتلتُ قتالًا في الصّدّ عن سبيلِ الله إِلَّا أَبْلَيتُ ضعفَه في سبيل الله. ثم اجتَهد في القتال حتى قُتل يومَ أجنادِينَ شهيدًا في خلافة أبي بكر، وقد كان رسول الله ﷺ استعملَه عامَ حَجِّه على هَوازِنَ يُصدِّقُها، فتوفِّي رسولُ الله ﷺ وعِكْرمةُ يومئذٍ بتَبَالَةَ (2) .
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 5057 - حذفه الذهبي من التلخيص لضعفه
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 5057 - حذفه الذهبي من التلخيص لضعفه
سیدنا عکرمہ بن ابوجہل رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں: جب میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی بارگاہ میں حاضر ہوا تو میں نے عرض کی: اے محمد صلی اللہ علیہ وسلم اس (میری بیوی ام حکیم) نے مجھے بتایا ہے کہ آپ نے مجھے امان دے دی ہے؟ تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: بے شک تجھے امان حاصل ہے۔ (سیدنا عکرمہ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں) میں نے کہا: میں گواہی دیتا ہوں کہ اللہ تعالیٰ وحدہ لا شریک ہے اور یہ کہ آپ اللہ کے بندے اور اس کے رسول ہیں۔ آپ سب سے زیادہ بھلا کرنے والے ہیں، سب سے زیادہ سچ بولنے والے ہیں اور سب سے زیادہ وعدہ وفا کرنے والے ہیں۔ سیدنا عکرمہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں: یہ کہتے ہوئے شرم و حیاء سے میرا سر جھکا ہوا تھا، پھر میں نے کہا: یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم میں نے آج تک آپ کے ساتھ جو بھی دشمنی رکھی آپ مجھے معاف فرما دیں، یا جس بھی جماعت میں، میں نے شرک کے اظہار کے لئے شرکت کی ہو (وہ بھی معاف فرما دیں۔) تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اے اللہ! عکرمہ رضی اللہ عنہ نے مجھے جو بھی دشمنی کی یا تیرے دین کو روکنے کے لئے اس نے جس فوج میں بھی شرکت کی ہے اس کو معاف فرما دے۔ میں نے عرض کی: یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم آپ اپنے لائے ہوئے دین میں سے مجھے بھی کوئی نیکی کی بات ارشاد فرمایئے، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: یہ یقین رکھو کہ اللہ تعالیٰ کے سوا کوئی عبادت کے لائق نہیں ہے اور بے شک محمد صلی اللہ علیہ وسلم اللہ کے بندے اور رسول ہیں، اللہ تعالیٰ کی راہ میں جہاد کرو، پھر سیدنا عکرمہ رضی اللہ عنہ نے کہا: یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم میں نے اللہ تعالیٰ کے دین کی مخالفت میں جتنا مال خرچ کیا تھا، اب اللہ تعالیٰ کے دین کی خاطر اس سے دگنا خرچ کروں گا۔ اور جس قدر جنگ اللہ کے دین کی مخالفت میں کی ہے اب اس کے دین کی خاطر اس سے دگنا لڑوں گا۔ پھر وہ جہاد میں شرکت کرتے رہے حتی کہ سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ کے دور خلافت میں اجنادین کے دن شہید ہو گئے۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کو حجۃ الوداع کے سال ہوازن کا عامل بنایا۔ جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا ظاہری وصال شریف ہوا، اس وقت بھی سیدنا عکرمہ رضی اللہ عنہ تبالہ میں تھے۔ (تبالہ مکہ اور یمن کے درمیان ایک مقام کا نام ہے۔) [المستدرك على الصحيحين/كِتَابُ مَعْرِفَةِ الصَّحَابَةِ رَضِيَ اللهُ تَعَالَى عَنْهُمْ/حدیث: 5134]
حدیث نمبر: 5135
أخبرني أبو الحسن العُمَري، حدثنا محمد بن إسحاق، حدثنا محمد بن المُثنّى، حدثنا محمد بن عبد الله الأنصاري، حدثني أبو يونس القُشَيري، حدثني حبيب بن أبي ثابت: أنَّ الحارث بن هشام وعكْرمة بن أبي جهل وعَيّاش بن أبي رَبيعة ارتُثُّوا (1) يومَ اليرموك، فدعا الحارثُ بماءٍ ليشربَه، فنَظَر إليه عِكْرمةُ، فقال الحارثُ: ادفَعُوه إلى عِكرمةَ، فنَظَر إليه عَيّاش بن أبي رَبيعة، فقال عِكرمةُ: ادفَعُوه إلى عيّاش، فما وَصَل إلى عَيّاشٍ ولا إلى أحدٍ منهم حتى ماتُوا وما ذاقُوه (2) .
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 5058 - حذفه الذهبي من التلخيص لضعفه
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 5058 - حذفه الذهبي من التلخيص لضعفه
حبیب بن ابی ثابت بیان کرتے ہیں کہ حارث بن ہشام، عکرمہ بن ابوجہل اور عیاش بن ابی ربیعہ، جنگ یرموک کے دن کسی شک شبہ میں تھے، اسی اثناء میں حارث نے پینے کے لئے پانی منگوایا، عکرمہ رضی اللہ عنہ نے ان کی جانب دیکھا تو حارث نے کہا: یہ پانی ان (عکرمہ) کو دے دو، (جب پانی عکرمہ کے پاس پہنچا تو) عیاش ابن ابی ربیعہ نے ان کی جانب دیکھا تو عکرمہ نے کہا کہ یہ پانی ان (عیاش بن ابنی ربیعہ) کو دے دو، یہ پانی نہ تو سیدنا عیاش تک پہنچا اور نہ ان میں سے کسی تک پہنچا اور یہ پانی پیئے بغیر تمام لوگ شہید ہو گئے۔ [المستدرك على الصحيحين/كِتَابُ مَعْرِفَةِ الصَّحَابَةِ رَضِيَ اللهُ تَعَالَى عَنْهُمْ/حدیث: 5135]