🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

Join Whatsapp Channel
المستدرك على الصحيحين سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم الرسالہ
ترقيم الشرکۃ
عربی لفظ
اردو لفظ
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

ترقیم الرساله سے تلاش کل احادیث (9018)
حدیث نمبر لکھیں:
ترقیم الشركة سے تلاش کل احادیث (8909)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:

289. إِيثَارُ الصَّحَابَةِ عَلَى أَنْفُسِهِمْ
صحابۂ کرام رضی اللہ عنہم کا اپنے اوپر دوسروں کو ترجیح دینا
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 5134
حدثنا أحمد بن سهل الفقيه ببُخارَى، حدثنا سهل بن المُتوكِّل، حدثنا إسماعيل بن أبي أُويس، عن أبيه، عن الزُّهْري، عن عُروة بن الزُّبَير، قال: قال عِكرمةُ بن أبي جَهْل: لما انتهيتُ إلى رسول الله ﷺ قلتُ: يا محمد، إن هذه أخبرتْني أنك أَمَّنتَني، فقال رسول الله ﷺ:"أنتَ آمِنٌ"، فقلتُ: أشهد أن لا إله إلَّا الله وحدَه لا شَريكَ له، وأنتَ عبدُ الله ورسولُه، وأنتَ أبَرُّ الناس، وأصدَقُ الناسِ، وأَوفَى الناس، قال عِكْرمةُ: أقولُ ذلك وإني لَمُطأطئٌ رأسي استحياءً منه، ثم قلتُ: يا رسول الله، استغِفرْ لي كلَّ عداوة عاديتُكَها، أو مَركبٍ أو ضَعتُ فيه أريدُ فيه إظهارَ الشِّرك، فقال رسول الله ﷺ:"اللهم اغفِرْ لعكرمةَ كلَّ عداوةٍ عادانيها أو مَركبٍ أَوضَعَ فيه يريدُ أن يَصُدَّ عن سَبيلك"، قلت: يا رسول الله، مُرْني بخيرِ ما تَعلَمُ فأعملَه، قال:"قُل: أشهدُ أن لا إلهَ إلَّا الله، وأنَّ محمدًا عبدُه ورسولُه، وتُجاهِدُ في سبيله"، ثم قال عكرمة: أما واللهِ يا رسولَ الله، لا أدعُ نفقةً كنتُ أُنفِقُها في صَدٍّ عن سبيل الله إلَّا أنفقتُ ضِعفَها (1) في سبيل الله، ولا قاتلتُ قتالًا في الصّدّ عن سبيلِ الله إِلَّا أَبْلَيتُ ضعفَه في سبيل الله. ثم اجتَهد في القتال حتى قُتل يومَ أجنادِينَ شهيدًا في خلافة أبي بكر، وقد كان رسول الله ﷺ استعملَه عامَ حَجِّه على هَوازِنَ يُصدِّقُها، فتوفِّي رسولُ الله ﷺ وعِكْرمةُ يومئذٍ بتَبَالَةَ (2) .
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 5057 - حذفه الذهبي من التلخيص لضعفه
سیدنا عروہ بن زبیر رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ سیدنا عکرمہ بن ابی جہل رضی اللہ عنہ نے فرمایا: جب میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوا تو میں نے عرض کیا: اے محمد ( صلی اللہ علیہ وسلم )! اس (میری بیوی) نے مجھے خبر دی ہے کہ آپ نے مجھے امان دے دی ہے، تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: تمہارے لیے امان ہے۔ میں نے عرض کیا: میں گواہی دیتا ہوں کہ اللہ کے سوا کوئی معبود نہیں وہ اکیلا ہے اس کا کوئی شریک نہیں، اور آپ اللہ کے بندے اور اس کے رسول ہیں، اور آپ لوگوں میں سب سے زیادہ صلہ رحمی کرنے والے، سب سے زیادہ سچے اور سب سے زیادہ وعدہ نبھانے والے ہیں۔ عکرمہ کہتے ہیں کہ میں یہ کلمات کہہ رہا تھا اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے شرمندگی کی وجہ سے میرا سر جھکا ہوا تھا، پھر میں نے عرض کیا: اے اللہ کے رسول! میرے لیے ہر اس دشمنی کی مغفرت کی دعا فرمائیں جو میں نے آپ کے خلاف کی، یا ہر اس مہم کی جس میں میں شریک ہوا اور میرا مقصد شرک کا غلبہ تھا، تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے دعا فرمائی: «اللَّهُمَّ اغْفِرْ لِعِكْرِمَةَ كُلَّ عَدَاوَةٍ عَادَانِيهَا أَوْ مَرْكَبٍ أَوْضَعَ فِيهِ يُرِيدُ أَنْ يَصُدَّ عَنْ سَبِيلِكَ» اے اللہ! عکرمہ کی ہر اس دشمنی کو معاف فرما جو اس نے مجھ سے کی یا ہر اس مہم کو جس میں اس نے تیرے راستے سے روکنے کے ارادے سے حصہ لیا۔ میں نے عرض کیا: اے اللہ کے رسول! مجھے اس بہترین کام کا حکم دیں جسے آپ جانتے ہوں تاکہ میں اس پر عمل کروں، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: یہ کہو کہ میں گواہی دیتا ہوں کہ اللہ کے سوا کوئی معبود نہیں اور محمد ( صلی اللہ علیہ وسلم ) اس کے بندے اور رسول ہیں، اور اس کی راہ میں جہاد کرو۔ پھر عکرمہ نے عرض کیا: اے اللہ کے رسول! اللہ کی قسم، میں نے اللہ کے راستے سے روکنے کے لیے جتنا مال خرچ کیا تھا اس سے دگنا اب اللہ کی راہ میں خرچ کروں گا، اور اللہ کے دین کی مخالفت میں جتنی جنگیں لڑی تھیں ان سے دگنی ہمت، اب اللہ کے راستے میں دکھاؤں گا۔ پھر انہوں نے قتال میں خوب محنت کی یہاں تک کہ سیدنا ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ کے دورِ خلافت میں جنگِ اجنادین میں شہید ہو گئے۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے انہیں حج والے سال قبیلہ ہوازن سے صدقات وصول کرنے کے لیے مقرر فرمایا تھا، اور جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی وفات ہوئی تو عکرمہ اس وقت مقامِ تبالہ میں (اپنی ذمہ داری پر) موجود تھے۔ [المستدرك على الصحيحين/كِتَابُ مَعْرِفَةِ الصَّحَابَةِ رَضِيَ اللهُ تَعَالَى عَنْهُمْ/حدیث: 5134]
تخریج الحدیث: «رجاله لا بأس بهم، لكنه مرسلٌ، وقد روي مثلُه عند أبي عبد الله محمد بن عمر الواقدي في "مغازيه" 2/ 850 - 852، ومن طريقه أخرجه ابن سعد في "طبقاته" 6/ 85، وابن عساكر في "تاريخ دمشق" 41/ 62 - 64، وابن الجوزي في "المنتظم" 4/ 155 - 156.» [ترقيم الرساله 5134] [ترقيم الشركة 5090] [ترقيم العلميه 5057]

الحكم على الحديث: رجاله لا بأس بهم
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 5135
أخبرني أبو الحسن العُمَري، حدثنا محمد بن إسحاق، حدثنا محمد بن المُثنّى، حدثنا محمد بن عبد الله الأنصاري، حدثني أبو يونس القُشَيري، حدثني حبيب بن أبي ثابت: أنَّ الحارث بن هشام وعكْرمة بن أبي جهل وعَيّاش بن أبي رَبيعة ارتُثُّوا (1) يومَ اليرموك، فدعا الحارثُ بماءٍ ليشربَه، فنَظَر إليه عِكْرمةُ، فقال الحارثُ: ادفَعُوه إلى عِكرمةَ، فنَظَر إليه عَيّاش بن أبي رَبيعة، فقال عِكرمةُ: ادفَعُوه إلى عيّاش، فما وَصَل إلى عَيّاشٍ ولا إلى أحدٍ منهم حتى ماتُوا وما ذاقُوه (2) .
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 5058 - حذفه الذهبي من التلخيص لضعفه
حبیب بن ابی ثابت سے روایت ہے کہ سیدنا حارث بن ہشام، سیدنا عکرمہ بن ابی جہل اور سیدنا عیاش بن ابی ربیعہ رضی اللہ عنہم جنگِ یرموک کے دن شدید زخمی ہوئے، حارث نے پینے کے لیے پانی مانگا تو انہوں نے دیکھا کہ عکرمہ ان کی طرف دیکھ رہے ہیں، حارث نے کہا: یہ پانی عکرمہ کو دے دو، عکرمہ نے دیکھا کہ عیاش بن ابی ربیعہ ان کی طرف دیکھ رہے ہیں، تو عکرمہ نے کہا: یہ پانی عیاش کو دے دو، پس وہ پانی عیاش تک یا ان میں سے کسی ایک تک بھی نہ پہنچ سکا یہاں تک کہ وہ سب جامِ شہادت نوش کر گئے اور انہوں نے پانی کو چکھا تک نہیں تھا۔ [المستدرك على الصحيحين/كِتَابُ مَعْرِفَةِ الصَّحَابَةِ رَضِيَ اللهُ تَعَالَى عَنْهُمْ/حدیث: 5135]
تخریج الحدیث: «رجاله ثقات، لكنه مرسل. أبو يونس القُشَيري: هو حاتم بن أبي صَغيرة.» [ترقيم الرساله 5135] [ترقيم الشركة 5091] [ترقيم العلميه 5058]

الحكم على الحديث: رجاله ثقات
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں