🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

المستدرك على الصحيحين سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم الرسالہ
ترقيم الشرکۃ
عربی لفظ
اردو لفظ
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

ترقیم الرساله سے تلاش کل احادیث (9018)
حدیث نمبر لکھیں:
ترقیم الشركة سے تلاش کل احادیث (8909)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:

295. ذِكْرُ مَنَاقِبِ نَوْفَلِ بْنِ الْحَارِثِ بْنِ عَبْدِ الْمُطَّلِبِ بْنِ هَاشِمِ بْنِ عَبْدِ مَنَافٍ وَكَانَ يُكَنَّى أَبَا الْحَارِثِ بِابْنِهِ الْحَارِثِ، وَكَانَ أَسَنَّ مَنْ أَسْلَمَ مِنْ بَنِي هَاشِمٍ، وَمِنْ عَمَّيْهِ حَمْزَةَ وَالْعَبَّاسِ، وَمِنْ إِخْوَتِهِ رَبِيعَةَ، وَأَبِي سُفْيَانَ وَعَبْدِ شَمْسٍ بَنِي الْحَارِثِ .
سیدنا نوفل بن حارث بن عبدالمطلب بن ہاشم بن عبد مناف رضی اللہ عنہ کے فضائل، ان کے بیٹے حارث کے نام کی وجہ سے ان کی کنیت ابوحارث تھی، یہ بنوہاشم میں اسلام قبول کرنے والے لوگوں میں سب سے عمر رسیدہ تھے۔ حضرت حمزہ رضی اللہ عنہ اور حضرت عباس رضی اللہ عنہ ان کے چچا ہیں اور حارث کے بیٹے ربیعہ اور حضرت ابوسفیان اور عبدشمس ان کے بھائی ہیں۔
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 5148
أخبرني أبو الحسن محمد بن الحسن النَّصْرَاباذي، حدثنا هارون بن يوسف (1) ، حدثنا ابن أبي عُمر، حدثنا سفيان، عن الوليد بن كثير، عن عُمارة بن عبد الله بن صَيّاد، عن سعيد بن المسيّب، عن أبي هريرة، قال: لما قُبض النبيُّ ﷺ بَلَغ أهلَ مكةَ الخبرُ، قال: فسمع أبو قُحافة الهائعةَ، فقال: ما هذا؟ قالوا: تُوفّي النبيُّ ﷺ، قال: أمرٌ جليلٌ، فمن قام بالأمرِ من بعده؟ قالوا: ابنُك، قال: ورَضِيَت بنو مَحْزُومٍ وبنو المُغيرة؟ قالوا: نعم، قال: اللهم لا واضِعَ لما رفَعتَ ولا رافعَ لما وَضَعتَ، فلما كان عند رأس الحَوْل تُوفّي أبو بكر، قال: فبلغَ أهلَ مكةَ الخبرُ، فسمع أبو قُحَافة الهائعةَ، فقال: ما هذا؟ قالوا: تُوفّي ابنُك، قال: أمرٌ جليلٌ، والذي كان قبلَه أجلُّ منه قال: فمَن قام بالأمر بعدَه؟ قالوا: عمرُ بن الخطاب، قال: هو صاحبُه (2) . صحيح على شرط الشيخين، ولم يُخرجاه. ذكرُ مناقب نَوفَل بن الحارث بن عبد المُطلّب بن هاشم بن عبد مَنَاف وكان يُكنى أبا الحارث بابنه الحارث، وكان أسنَّ مَن أسلَمَ من بني هاشم، ومن عمَّيه حمزةَ والعباس، ومن إخوتِه ربيعةَ وأبي سفيان وعبد شمسٍ بني الحارث.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 5071 - لم يخرجا لعمارة بن عبد الله بن صياد شيئا
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں: جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا انتقال ہوا تو یہ خبر اہل مکہ تک پہنچ گئی، سیدنا ابوقحافہ نے آہ و بکا کی آوازیں سنی تو پوچھا: یہ کیسی آہ و بکا ہے؟ لوگوں نے بتایا کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا انتقال ہو گیا ہے۔ انہوں نے کہا: یہ بہت بڑا معاملہ ہے۔ ان کے بعد اب انتظامی معاملات کون سنبھالے گا؟ لوگوں نے کہا: آپ کا بیٹا (ابوبکر) انہوں نے پوچھا: کیا اس بات پر بنی مخزوم اور بنی مغیرہ قبیلے راضی ہو گئے ہیں؟لوگوں نے کہا: جی ہاں۔ سیدنا ابوقحافہ رضی اللہ عنہ نے کہا: اے اللہ جس کو تو بلند کرے اس کو کوئی جھکا نہیں سکتا اور جس کو تو جھکا دے اس کو کوئی بلند نہیں کر سکتا۔ پھر جب ایک سال گزر گیا تو سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ کا بھی انتقال ہو گیا، یہ خبر بھی اہل مکہ تک پہنچی، سیدنا ابوقحافہ رضی اللہ عنہ نے آہ و بکا کی آواز سنی تو پوچھا کہ یہ کیسی آہ و بکا ہے؟ لوگوں نے بتایا کہ آپ کا بیٹا ابوبکر رضی اللہ عنہ فوت ہو گیا ہے۔ انہوں نے کہا: یہ معاملہ بہت بڑا ہے، اس کے بعد امور سلطنت کس نے سنبھالے ہیں؟ لوگوں نے کہا: سیدنا عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ نے۔ انہوں نے کہا: ٹھیک ہے وہ بھی ابوبکر کا ساتھی ہی ہے۔ ٭٭ یہ حدیث امام بخاری رحمۃ اللہ علیہ اور امام مسلم رحمۃ اللہ علیہ کے معیار کے مطابق صحیح ہے لیکن شیخین رحمۃ اللہ علیہما نے اس کو نقل نہیں کیا۔ [المستدرك على الصحيحين/كِتَابُ مَعْرِفَةِ الصَّحَابَةِ رَضِيَ اللهُ تَعَالَى عَنْهُمْ/حدیث: 5148]

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں