المستدرك على الصحيحين سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم الرسالہ
ترقيم الشرکۃ
عربی لفظ
اردو لفظ
304. رُجُوعُ خَالِدٍ وَإِخْوَتِهِ عَنْ أَعْمَالِهِمْ بَعْدَ وَفَاةِ النَّبِيِّ
نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی وفات کے بعد سیدنا خالد رضی اللہ عنہ اور ان کے بھائیوں کا اپنے عہدوں سے واپس آ جانا
حدیث نمبر: 5163
فحدثني أبو الحسين بن يعقوب الحافظ، حدثنا محمد بن إسحاق بن إبراهيم، حدثنا سَلْم بن جُنادة، حدثنا إبراهيم بن يوسف بن مَعمَر بن حمزة بن عمر بن سعد بن أبي وقّاص، حدثني خالد بن سعيد بن عمرو بن سعيد، حدثني أبي: أنَّ أعمامَه خالدًا وأبانًا وعمرَو بن سعيد بن العاص رَجَعُوا عن أعمالهم حين بلغَهم وفاةُ رسولِ الله ﷺ، فقال أبو بكر: ما أحدٌ أحقَّ بالعملِ من عُمّال رسولِ الله ﷺ، ارجِعُوا إلى أعمالِكم، فقالوا: لا نَعملُ بعدَ رسولِ الله ﷺ لأحدٍ، فخرجوا إلى الشام، فقُتِلوا عن آخِرِهم (4) .
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 5085 - سكت عنه الذهبي في التلخيص
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 5085 - سكت عنه الذهبي في التلخيص
سیدنا سعید بن عمرو بن سعید اپنے والد سے روایت کرتے ہیں کہ ان کے چچا خالد، ابان اور عمرو (جو سعید بن العاص کے بیٹے تھے) جب انہیں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی وفات کی خبر ملی تو وہ اپنے اپنے عہدوں سے دستبردار ہو کر واپس آگئے، سیدنا ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ نے ان سے فرمایا: ”رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے مقرر کردہ گورنروں سے زیادہ ان عہدوں کا کوئی اور حقدار نہیں ہے، تم اپنے کاموں پر واپس چلے جاؤ“، لیکن انہوں نے جواب دیا: ”ہم رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے بعد کسی اور کے لیے عامل کے طور پر کام نہیں کریں گے“، چنانچہ وہ جہاد کے لیے شام روانہ ہو گئے اور وہ سب وہیں شہید ہوئے۔ [المستدرك على الصحيحين/كِتَابُ مَعْرِفَةِ الصَّحَابَةِ رَضِيَ اللهُ تَعَالَى عَنْهُمْ/حدیث: 5163]
تخریج الحدیث: «رجاله لا بأس بهم، لكنه مرسلٌ من أجل أنَّ سعيد بن عمرو لم يدرك أحدًا من أعمامه المذكورين، وإبراهيم بن يوسف بن معمر المذكور يُعرف بالسَّعدي، روى عنه سَلْم بن جُنادة ومحمد بن عبيد الله بن يزيد المُنادي ومِنْجاب بن الحارث، وروى عنه هذا الأخيرُ كتاب "المبتدأ" لابن إسحاق، عن ...» [ترقيم الرساله 5163] [ترقيم الشركة 5118] [ترقيم العلميه 5085]
الحكم على الحديث: رجاله لا بأس بهم
حدیث نمبر: 5164
أخبرني أبو نُعيم محمد بن عبد الرحمن الغِفاري بمَرُو، حدثنا عَبْدان بن محمد بن عيسى الحافظ، سمعت عبد الله بن مُسلم يَذكُر عن أبي اليَقْظان وغيره: أنَّ خالد بن سعيد بن العاص أسلمَ قبلَ أبي بكر الصِّدّيق (1) . هذا وهمٌ من قائله، فقد قدّمتُ الروايةَ أنَّ أبا بكر هو الذي دَعَاه إلى الإسلامِ حتى أسلمَ (2) .
ابویقظان وغیرہ سے مروی ہے کہ سیدنا خالد بن سعید بن العاص رضی اللہ عنہ سیدنا ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ سے پہلے اسلام لائے تھے۔ (امام حاکم فرماتے ہیں:) یہ کہنے والے کا وہم ہے، کیونکہ میں پہلے یہ روایت پیش کر چکا ہوں کہ سیدنا ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ نے ہی انہیں اسلام کی دعوت دی تھی جس کے نتیجے میں وہ ایمان لائے تھے۔ [المستدرك على الصحيحين/كِتَابُ مَعْرِفَةِ الصَّحَابَةِ رَضِيَ اللهُ تَعَالَى عَنْهُمْ/حدیث: 5164]
تخریج الحدیث: «إسناده ضعيف منكر لضعف أبي اليقظان، وهو عثمان بن عمير البَجَلي - ثم هو مُعضَل لأنَّ أبا اليقظان من تبع الأتباع، وعبد الله بن مسلم - وهو ابن قُتيبة الدِّينَورِي - لم يدرك أبا اليقظان، إنما يروي عنه بواسطةٍ أو نقلًا عن كتاب أبي اليقظان.» [ترقيم الرساله 5164] [ترقيم الشركة 5119]
الحكم على الحديث: إسناده ضعيف منكر لضعف أبي اليقظان
حدیث نمبر: 5165
وحدثنا أبو العباس محمد بن يعقوب، حدثنا أحمد بن عبد الجبار، حدثنا يونس بن بُكَير، حدثني ابن إسحاق، عن محمد بن عبد الله بن أبي بكر، عن أبيه: أنَّ خالد بن سعيد حين وَلّاه رسولُ الله ﷺ اليمنَ قَدِمَ بعد وفاةِ رسول الله ﷺ، وتَربَّص ببيعتِه، شهرَين، يقول: قد أمَّرني رسولُ الله ﷺ، ثم لم يَعزِلْني حتى قَبضَه اللهُ ﷿، وقد لقي عليَّ بنَ أبي طالب وعثمانَ بنَ عفّان، فقال: يا بَني عبد مَنافٍ، طِبتُم نَفْسًا عن إمرتِكم، يَلِيهِ غَيرُكم، قال: فأما أبو بكر فلم يَحفِلْها (3) عليه، وأما عمرُ فاضطَغَنَها (1) عليه، ثم بعث أبو بكر الجنودَ إلى الشام، فكان أولَ من استَعمَل على رَبْعٍ منها خالدُ بنُ سعيد، فأخذ عمرُ يقول: أتُؤمِّره وقد صَنَع ما صَنَع وقال ما قال؟! فلم يَزلْ بأبي بكر حتى عَزَله وأمَّر يزيدَ بنَ أبي سفيان (2) . حديث صحيح على شرط مسلم، ولم يُخرجاه.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 5087 - ذا منقطع
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 5087 - ذا منقطع
محمد بن عبداللہ بن ابی بکر اپنے والد سے روایت کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے سیدنا خالد بن سعید رضی اللہ عنہ کو یمن کا گورنر مقرر فرمایا تھا، وہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی وفات کے بعد مدینہ پہنچے اور دو ماہ تک بیعت سے رکے رہے، وہ کہتے تھے: ”مجھے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے امیر مقرر کیا تھا اور اللہ عزوجل کے آپ کی روح قبض کرنے تک آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھے معزول نہیں فرمایا“، انہوں نے سیدنا علی بن ابی طالب اور سیدنا عثمان بن عفان رضی اللہ عنہما سے ملاقات کی اور کہا: ”اے بنو عبد مناف! کیا تم نے اپنی خلافت کو بخوشی چھوڑ دیا کہ اب کوئی دوسرا اسے سنبھالے؟“ راوی کہتے ہیں: سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ نے تو ان کی اس بات کی پرواہ نہ کی لیکن سیدنا عمر رضی اللہ عنہ کے دل میں یہ بات کھٹکتی رہی، پھر جب سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ نے لشکر شام روانہ کیے تو سب سے پہلے خالد بن سعید کو ایک چوتھائی لشکر کا امیر مقرر کیا، تو سیدنا عمر رضی اللہ عنہ کہنے لگے: ”کیا آپ انہیں امیر بنا رہے ہیں حالانکہ انہوں نے جو کچھ کیا اور کہا وہ آپ کے سامنے ہے؟!“ وہ مسلسل سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ کو قائل کرتے رہے یہاں تک کہ انہوں نے خالد کو معزول کر کے یزید بن ابی سفیان کو امیر مقرر کر دیا۔
یہ حدیث امام مسلم کی شرط پر صحیح ہے لیکن شیخین نے اسے روایت نہیں کیا۔ [المستدرك على الصحيحين/كِتَابُ مَعْرِفَةِ الصَّحَابَةِ رَضِيَ اللهُ تَعَالَى عَنْهُمْ/حدیث: 5165]
یہ حدیث امام مسلم کی شرط پر صحیح ہے لیکن شیخین نے اسے روایت نہیں کیا۔ [المستدرك على الصحيحين/كِتَابُ مَعْرِفَةِ الصَّحَابَةِ رَضِيَ اللهُ تَعَالَى عَنْهُمْ/حدیث: 5165]
تخریج الحدیث: «حسنٌ لغيره، وهذا إسناد رجاله لا بأس بهم، لكن المحفوظ أنه من رواية محمد بن إسحاق صاحب السيرة عن عبد الله بن أبي بكر محمد بن عمرو بن حزم مرسلًا، وليس لعبد الله بن أبي بكر عَقِبٌ كما نصّ عليه الواقدي فيما نقله عنه ابن سعد في "طبقاته" 7/ 491، ...» [ترقيم الرساله 5165] [ترقيم الشركة 5120] [ترقيم العلميه 5087]
الحكم على الحديث: حسنٌ لغيره
حدیث نمبر: 5166
أخبرنا أبو نُعَيم الغِفاري بمَرْوٍ محمد (3) بن عبد الرحمن، حدثنا عَبْدان بن محمد بن عيسى الحافظ، سمعت أحمد بن سَيّار، يقول: خالد بن سعيد بن العاص وُلِد لأبيه سعيدٍ عشرون (4) ابنًا وعشرون ابنةً، فأما العاصُ بن سعيد فإنَّ أمير المؤمنين علي بن أبي طالب قتلَه مُشركًا يومَ بدرٍ، وأما خالدُ بن سعيد فإنه قُتل يوم مَرْجِ الصُّفَّر في المُحرَّم سنة أربعَ عشرةَ في خلافة عُمر بن الخطاب (1) .
احمد بن سیار بیان کرتے ہیں کہ خالد بن سعید بن العاص کے والد سعید کے بیس بیٹے اور بیس بیٹیاں تھیں، جہاں تک العاص بن سعید کا تعلق ہے تو انہیں امیر المؤمنین علی بن ابی طالب رضی اللہ عنہ نے غزوہ بدر کے دن مشرک ہونے کی حالت میں قتل کیا تھا، اور جہاں تک خالد بن سعید کا تعلق ہے تو وہ سیدنا عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ کے دورِ خلافت میں محرم سن 14 ہجری میں مرج الصفر کے مقام پر شہید ہوئے۔ [المستدرك على الصحيحين/كِتَابُ مَعْرِفَةِ الصَّحَابَةِ رَضِيَ اللهُ تَعَالَى عَنْهُمْ/حدیث: 5166]
تخریج الحدیث: [ترقيم الرساله 5166] [ترقيم الشركة 5121]