🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

المستدرك على الصحيحين سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم الرسالہ
ترقيم الشرکۃ
عربی لفظ
اردو لفظ
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

ترقیم الرساله سے تلاش کل احادیث (9018)
حدیث نمبر لکھیں:
ترقیم الشركة سے تلاش کل احادیث (8909)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:

332. دَفْنُ مُعَاذٍ أَبَا عُبَيْدَةَ وَثَنَاؤُهُ عَلَيْهِ
سیدنا معاذ رضی اللہ عنہ کا سیدنا ابو عبیدہ رضی اللہ عنہ کو دفن کرنا اور ان کی تعریف کرنا
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 5229
أخبرني علي بن المُؤمَّل بن الحَسن بن عيسى، حدثنا أبي، حدثنا عمرو بن محمد العُثماني، حدثنا عَمرو بن خالد بن عاصم بن عمرو بن عثمان، حدثني عبد الملك بن نَوفَل بن مُساحِق، عن أبي سعيد المَقبُري، قال: لما طُعِن أبو عُبيدة، قال: يا معاذُ، صلِّ بالناس، فصلَّى معاذٌ بالناس، ثم مات أبو عُبيدة بن الجرَّاح، فقام معاذٌ في الناس، فقال: يا أيُّها الناسُ، تُوبوا إلى الله من ذُنوبِكم توبةً نَصُوحًا، فإِنَّ عبدَ الله لا يلقى الله تائبًا من ذنْبه إلَّا كان حقًّا على الله أن يغفرَ له، ثم قال: إنكم أيُّها الناسُ قد فُجِعتُم برجلٍ، واللهِ ما أَزعُمُ أني رأيتُ من عبادِ الله عبدًا قَطُّ أقلَّ غِمْرًا (3) ولا أبَرَّ صدرًا، ولا أبعدَ غائلةً، ولا أشدَّ حبًّا للعافية، ولا أنصحَ للعامّة منه، فترحَّمُوا عليه ﵀، ثم أَصْحِروا (4) للصلاةِ عليه، فوالله لا يَلِي عليكم مثلُه أبدًا، فاجتمع الناسُ وأُخرج أبو عُبيدة وتَقدَّم معاذٌ فصلَّى عليه، حتى إذا أُتي به قبرُه دَخَل قبرَه معاذُ بنُ جبل وعمرو بن العاص والضحّاك بن قيس، فلما وضعوه في لَحْده وخرجوا فسَنُّوا (1) عليه الترابَ قال معاذ بن جَبل: يا أبا عُبيدة، لأُثْنينَّ عليكَ ولا أقولُ باطلًا، أخافُ أن يَلْحَقَني بها من الله مَقْتٌ، كنتَ واللهِ ما علمتُ من الذاكرين الله كثيرًا، ومن الذين يَمشُون على الأرض هَوْنًا، وإذا خاطَبَهم الجاهِلون قالوا سَلامًا، ومن الذين إذا أنفَقُوا لم يُسرِفُوا ولم يَقْتُروا وكان بين ذلك قوَامًا، وكنتَ والله من المُخبِتِين المُتواضعين الذي يَرحَمُون اليتيمَ والمسكينَ، ويُبغِضُون الخائنين المُتكبِّرين (2) .
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 5148 - سكت عنه الذهبي في التلخيص
ابو سعید مقبری سے روایت ہے کہ جب سیدنا ابو عبیدہ رضی اللہ عنہ طاعون میں مبتلا ہوئے تو انہوں نے فرمایا: ”اے معاذ! لوگوں کو نماز پڑھاؤ“، چنانچہ معاذ رضی اللہ عنہ نے لوگوں کو نماز پڑھائی، پھر سیدنا ابو عبیدہ بن جراح رضی اللہ عنہ کی وفات ہو گئی، تب معاذ رضی اللہ عنہ لوگوں میں کھڑے ہوئے اور فرمایا: ”اے لوگو! اپنے گناہوں سے اللہ کی بارگاہ میں توبہ نصوح کرو، کیونکہ جو بندہ بھی اپنے گناہ سے توبہ کر کے اللہ سے ملے گا تو اللہ پر یہ حق ہے کہ وہ اسے معاف فرما دے“، پھر انہوں نے فرمایا: ”اے لوگو! تم ایک ایسے شخص کی وفات سے غمزدہ ہوئے ہو جس کے متعلق اللہ کی قسم! میں یہ گمان نہیں کرتا کہ میں نے اللہ کے بندوں میں اس سے کم کینہ رکھنے والا، اس سے زیادہ پاکیزہ سینے والا، اس سے زیادہ شر و فساد سے دور رہنے والا، عافیت کا سب سے زیادہ حریص اور عام لوگوں کا اس سے بڑا خیر خواہ کوئی دیکھا ہو، پس ان کے لیے دعائے رحمت کرو، پھر نمازِ جنازہ کے لیے میدان کی طرف نکل چلو، کیونکہ اللہ کی قسم! تم پر ان جیسا (مخلص) شخص کبھی حکمران نہیں بنے گا“، چنانچہ لوگ جمع ہوئے اور ابو عبیدہ رضی اللہ عنہ کے جسد مبارک کو لایا گیا، سیدنا معاذ رضی اللہ عنہ نے آگے بڑھ کر ان کی نماز جنازہ پڑھائی، یہاں تک کہ جب انہیں قبر کے پاس لایا گیا تو ان کی قبر میں معاذ بن جبل، عمرو بن العاص اور ضحاک بن قیس رضی اللہ عنہم اترے، پھر جب انہوں نے انہیں لحد میں رکھ دیا اور باہر نکل کر مٹی برابر کر دی تو معاذ بن جبل رضی اللہ عنہ نے (قبر پر کھڑے ہو کر) فرمایا: ”اے ابو عبیدہ! میں تمہاری تعریف بیان کروں گا اور کوئی باطل بات نہیں کہوں گا کیونکہ مجھے ڈر ہے کہ کہیں اس وجہ سے اللہ کی ناراضی نہ مول لوں، اللہ کی قسم! جہاں تک میں جانتا ہوں، تم اللہ کا کثرت سے ذکر کرنے والوں میں سے تھے، اور ان لوگوں میں سے تھے ﴿الَّذِينَ يَمْشُونَ عَلَى الْأَرْضِ هَوْنًا﴾ [سورة الفرقان: 63] ”جو زمین پر عاجزی کے ساتھ چلتے ہیں“، اور ﴿وَإِذَا خَاطَبَهُمُ الْجَاهِلُونَ قَالُوا سَلَامًا﴾ [سورة الفرقان: 63] ”اور جب جاہل ان سے مخاطب ہوتے ہیں تو وہ سلام کہتے ہیں“، اور ان لوگوں میں سے تھے ﴿وَالَّذِينَ إِذَا أَنفَقُوا لمْ يُسْرِفُوا وَلَمْ يَقْتُرُوا وَكَانَ بَيْنَ ذَٰلِكَ قَوَامًا﴾ [سورة الفرقان: 67] ”اور جو جب خرچ کرتے ہیں تو نہ فضول خرچی کرتے ہیں اور نہ بخل سے کام لیتے ہیں بلکہ ان کا خرچ ان دونوں انتہاؤں کے درمیان اعتدال پر ہوتا ہے“، اور اللہ کی قسم! تم عاجزی کرنے والے متواضع لوگوں میں سے تھے جو یتیموں اور مسکینوں پر رحم کرتے تھے اور خیانت کاروں و تکبر کرنے والوں سے بغض رکھتے تھے۔“ [المستدرك على الصحيحين/كِتَابُ مَعْرِفَةِ الصَّحَابَةِ رَضِيَ اللهُ تَعَالَى عَنْهُمْ/حدیث: 5229]
تخریج الحدیث: «إسناده ضعيف. عمرو بن خالد بن عاصم بن عمرو بن عثمان لم نتبيّنه، وقد تابعه عليه أبو مِخنَف لوط بن يحيى عند أبي بكر الدِّينَوري في "المُجالسة" (3143)، لكن أبا مِخنَف هذا تالف لا يوثق به، فلا اعتبار بمتابعته، على أنَّ الراوي عنه مبهم، ثم إنَّ أبا مخنف قال في ...» [ترقيم الرساله 5229] [ترقيم الشركة 5184] [ترقيم العلميه 5148]

الحكم على الحديث:
إسناده ضعيف. عمرو بن خالد بن عاصم بن عمرو بن عثمان لم نتبيّنه
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں