المستدرك على الصحيحين سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم الرسالہ
ترقيم الشرکۃ
عربی لفظ
اردو لفظ
331. ذِكْرُ وَفَاةِ أَبِي عُبَيْدَةَ ابْنِ الْجَرَّاحِ فِي الطَّاعُونِ
سیدنا ابو عبیدہ بن الجراح رضی اللہ عنہ کی وفات طاعون کے سبب ہونے کا بیان
حدیث نمبر: 5226
أخبرنا أبو بكر أحمد بن إسحاق، أخبرنا محمد بن غالب، حدثنا أبو حُذيفة، حدثنا سفيان، عن أبي إسحاق، عن أبي عُبيدة قال: كان عبدُ الله يقول: كان أخِلّائي من أصحاب رسول الله ثلاثةً ولم آلُ: أبو بكر وعمرُ وأبو عُبيدةَ (3) .
ابواسحاق نے ابوعبیدہ کا یہ بیان نقل کیا ہے کہ سیدنا عبداللہ کہا کرتے تھے: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے صحابہ کرام میں سے آپ کے سب سے گہرے دوست تین تھے۔ سیدنا ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ۔ سیدنا عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ۔ سیدنا ابوعبیدہ بن جراح رضی اللہ عنہ۔ [المستدرك على الصحيحين/كِتَابُ مَعْرِفَةِ الصَّحَابَةِ رَضِيَ اللهُ تَعَالَى عَنْهُمْ/حدیث: 5226]
حدیث نمبر: 5227
حدثنا علي بن حَمْشاذَ، حدثنا بِشر بن موسى، حدثنا الحُميدي، حدثنا سفيان، عن أيوب بن عائذٍ الطائي، عن قيس بن مسلم، عن طارق بن شهاب، قال: أتانا كتابُ عمرُ لمّا وقع الوَباءُ بالشام، فكتب عمرُ إلى أبي عُبيدة: إنه قد عَرَضَت لي إليك حاجةٌ لا غِنًى لي بك عنها، فقال أبو عُبيدة: يَرحمُ الله أميرَ المؤمنين، يريدُ بقاءَ قومٍ ليسوا بباقِين، قال: ثم كتب إليه أبو عُبيدة: إني في جيش من جُيوش المسلمين، لست أرغَبُ بنفسي عن الذي أصابَهم، فلما قرأ الكتابَ استرجَعَ، فقال الناس: ماتَ أبو عُبيدة، قال: لا، وكان كتب إليه بالعَزِيمة: فاظْهَرْ من أرض الأُردُنّ، فإنها غَمِقةٌ (1) وبِيّةٌ، إلى أرض الجابيَة، فإنها نَزِهةٌ نَدِيّةٌ، فلما أتاه الكتاب بالعزيمة أمر مُنادِيَه: أذِّن في الناس بالرَّحِيل، فلما قُدِّم إليه (2) ليَركَبَه، وضَعَ رِجْلَه في الغَرْزِ ثَنَى رجلَه، فقال: ما أُرى داءَكم إلَّا قد أصابَني. قال: وماتَ أبو عُبيدة، ورُفع الوَباءُ عن الناس (3) . رُواة هذا الحديثِ كلُّهم ثقات، وهو عَجيبٌ بمرّةٍ.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 5146 - على شرط الشيخين
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 5146 - على شرط الشيخين
طارق بن شہاب کہتے ہیں: جب ملک شام میں وباء پھوٹی تو سیدنا عمر رضی اللہ عنہ کا ایک مکتوب ہم تک پہنچا اس میں سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے سیدنا ابوعبیدہ بن جراح رضی اللہ عنہ کو لکھا تھا ” مجھے تمہارے ساتھ ایک ایسا کام ہے کہ جس کے لئے بغیر کوئی چارہ نہیں ہے “۔ سیدنا ابوعبیدہ رضی اللہ عنہ نے کہا: اللہ تعالیٰ امیرالمومنین پر رحم فرمائے، وہ ایسی قوم کو بچانا چاہتے ہیں جو بچتے ہوئے نظر نہیں آتے۔ پھر سیدنا ابوعبیدہ رضی اللہ عنہ نے سیدنا عمر رضی اللہ عنہ کو جوابی مکتوب میں لکھا: میں اس وقت ایک لشکر میں ہوں اور جو تکلیف ان لوگوں کو پہنچی ہے میں اس سے جان نہیں چھڑانا چاہتا۔ یہ مکتوب جب سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے پڑھا تو ” انا للہ وانا الیہ راجعون “ پڑھا۔ لوگوں نے پوچھا: کیا ابوعبیدہ وفات پا گئے؟ آپ نے فرمایا: نہیں۔ پھر آپ نے ان کو حکماً کہا (کہ وہ اس وبائی علاقہ سے کوچ کر جائیں اور) اردن کے علاقے میں چلے جائیں کیونکہ وہ نشیبی علاقہ ہے اور سرزمین جابیہ کے قریب ہے، اور یہ علاقہ بہت سرسبز و شاداب ہے۔ جب سیدنا ابوعبیدہ بن جراح رضی اللہ عنہ کے پاس ان کا حکم نامہ پہنچا تو انہوں نے اس علاقے سے کوچ کرنا جانے کا اعلان کروا دیا۔ اور جب سیدنا ابوعبیدہ روانگی کے لئے سوار ہونے لگے، ابھی رکاب میں قدم رکھا ہی تھا کہ ان کے پاؤں میں موچ آ گئی۔ سیدنا ابوعبیدہ رضی اللہ عنہ نے کہا: تمہاری جو بھی تکلیف تھی وہ مجھے پہنچ چکی ہے۔ چنانچہ سیدنا ابوعبیدہ رضی اللہ عنہ وفات پا گئے اور وباء چلی گئی۔ ٭٭ یہ حدیث کے تمام راوی ثقہ ہیں اور وہ مرہ کے ساتھ پسندیدہ ہے۔ [المستدرك على الصحيحين/كِتَابُ مَعْرِفَةِ الصَّحَابَةِ رَضِيَ اللهُ تَعَالَى عَنْهُمْ/حدیث: 5227]