🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

المستدرك على الصحيحين سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم الرسالہ
ترقيم الشرکۃ
عربی لفظ
اردو لفظ
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

ترقیم الرساله سے تلاش کل احادیث (9018)
حدیث نمبر لکھیں:
ترقیم الشركة سے تلاش کل احادیث (8909)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:

350. ذِكْرُ مَنَاقِبِ الْفَضْلِ بْنِ عَبَّاسِ بْنِ عَبْدِ الْمُطَّلِبِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا
سیدنا فضل بن عباس بن عبد المطلب رضی اللہ عنہما کے مناقب کا بیان — آپ یومِ یرموک شہید ہوئے
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 5276
حدثنا أبو عبد الله محمد بن أحمد الأصبَهاني، حدثنا الحَسن بن الجَهْم، حدثنا الحُسين بن الفَرَج، حدثنا محمد بن عُمر، حدثني عيسى بن النعمان، عن مُعاذ بن رِفاعة، عن جابر بن عبد الله قال: كان معاذُ بن جَبَل من أحسنِ الناس وجهًا، وأحسنِهم خُلقًا، وأسمحِهم كَفًّا، فادّانَ دَينًا كثيرًا، فلزمه غُرَمَاؤُه، حتى تَغَيَّب عنهم أيامًا في بيتِه حتى استأدَى (2) رسولَ الله ﷺ غرماؤُه، فأرسلَ رسول الله ﷺ إلى معاذٍ يدعُوه، فجاء ومعَه غُرماؤه، فقالوا: يا رسول الله، خذ لنا حَقَّنا منه، فقال رسول الله ﷺ:"رَحِمَ اللهُ مَن تَصدَّق عليه" فتصدَّق عليه ناسٌ وأبى آخرون، وقالوا: يا رسول الله، خذ لنا بحقِّنا منه، قال رسول الله ﷺ:"اصبر لهم يا مُعَاذُ" قال: فخَلَعه رسولُ الله ﷺ من ماله فدفعه إلى غُرمائه، فاقتَسَمُوه بينهم، فأصابهم خمسةُ أسباع حقوقِهم، قالوا: يا رسول الله، بِعْه لنا، قال رسول الله ﷺ:"خَلُّوا عنه، فليس لكم عليه سَبيلٌ"، فانصرفَ مُعاذٌ إلى بني سَلِمَة، فقال له قائل: يا أبا عبد الرحمن، لو سألتَ رسولَ الله ﷺ، فقد أصبحت اليوم مُعدِمًا، فقال: ما كنتُ لِأسألَه، قال: فمَكَثَ أيامًا، ثم دَعاهُ رسولُ الله ﷺ فبعثَه إلى اليَمَن، وقال:"لعلَّ اللَّهَ أَن يَجْبُرَكَ ويُؤدَّيَ عنك دَيْنَك". قال: فخرج معاذٌ إلى اليمن، فلم يَزَلْ بها حتى تُوفِّي رسولُ الله ﷺ، فوافَى السنةَ التي حَجَّ فيها عمرُ بنُ الخطاب مكةَ فاستعملَه أبو بكر على الحَجِّ، فالتقَيا يومَ التَّرْوية بها، فاعتَنَقا وعَزّى كلُّ واحدٍ منهما صاحبَه برسولِ الله ﷺ، ثم أخْلَدا إلى الأرض يَتحدَّثانِ، فرأى عمرُ عند مُعاذ غِلْمانًا، فقال: ما هؤلاء؟ ثم ذكر الأحرفَ التي ذكرتُها فيما تقدّم (1) . ذكرُ مناقب الفَضْل بن عبَّاس بن عبد المُطلّب ﵄
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 5195 - حذفه الذهبي من التلخيص لضعفه
سیدنا جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں: سیدنا معاذ بن جبل رضی اللہ عنہ سب سے زیادہ خوبصورت تھے اور سب سے زیادہ حسن اخلاق کے مالک تھے۔ اور اللہ کی راہ میں سب سے زیادہ خرچ کرنے والے تھے۔ بہت زیادہ قرضہ لیا ہوا تھا۔ قرض خواہ ان کے پیچھے پڑے رہتے تھے، حتی کہ ان سے بچنے کے لئے آپ کئی کئی دن اپنے گھر میں ہی چھپ کر بیٹھے رہتے۔ ان کے قرض خواہوں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی بارگاہ میں ان کی شکایت کر دی۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے سیدنا معاذ رضی اللہ عنہ کو بلا بھیجا، جب وہ حاضر بارگاہ رسالت ہوئے تو ان کے قرض خواہ بھی ان کے ہمراہ تھے۔ انہوں نے عرض کی: یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ہمیں اس سے ہمراہ حق دلوایئے۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جو شخص اس کو معاف کر دے اللہ تعالیٰ اس پر رحم فرمائے گا۔ چنانچہ کچھ لوگوں نے ان کو قرضہ معاف کر دیا لیکن کچھ لوگوں نے ان کو معاف کرنے سے انکار کر دیا۔ اور اپنا حق وصول کرنے پر بضد رہے۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے سیدنا معاذ کو کہا: اے معاذ ان کے لئے صبر اختیار کر۔ تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کا مال بیچ کر قرض خواہوں کو دے دیا۔ قرض خواہوں نے جب وہ مال (اپنے اپنے حصص کے مطابق تقسیم کر لیا) تو ہر ایک کو سات میں سے پانچواں حصہ ملا۔ انہوں نے کہا: یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ہمارے حقوق کی ادائیگی کے لیے ان کو بیچ ڈالیں۔ تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اس کی جان اب چھوڑ دو، اب تمہیں اس پر کوئی زور نہیں ہے۔ تو سیدنا معاذ رضی اللہ عنہ بنی سلمہ کی جانب آئے تو ایک آدمی نے ان سے کہا: اے ابوعبدالرحمن اگر تم رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے کچھ مانگ لیتے تو آج آپ امیر و کبیر ہوتے۔ انہوں نے کہا: میں نہیں مانگ سکتا تھا۔ راوی کہتے ہیں ابھی زیادہ دن نہیں گزرے تھے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کو بلایا اور یمن کا گونر بنا کر بھیج دیا اور فرمایا: ہو سکتا ہے کہ عنقریب اللہ تعالیٰ تیرے نقصان کی تلافی فرما دے اور تجھ سے تیرا دین پورا کروا دے۔ راوی کہتے ہیں: سیدنا معاذ رضی اللہ عنہ یمن کی جانب چلے گئے اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی وفات تک وہیں رہے، اور جب سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے مکہ مکرمہ میں حج کیا تو ان سے ملاقات ہو گئی۔ اور سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ نے ان کو حج کے امور کا نگران بنا دیا۔ یوم ترویہ کو ان کی ملاقات ہوئی، انہوں نے ایک دوسرے سے معانقہ کیا اور دونوں نے ایک دوسرے کو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی وفات کی تعزیت کی۔ پھر ایک جگہ پر کھڑے بہت دیر تک پرانی باتیں کرتے رہے۔ سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے سیدنا معاذ رضی اللہ عنہ کے پاس کچھ بچے دیکھے تو پوچھا یہ کیا ہے؟ پھر اس کے بعد وہ گفتگو فرمائی جس کا ابھی کچھ دیر پہلے ذکر گزرا ہے۔ [المستدرك على الصحيحين/كِتَابُ مَعْرِفَةِ الصَّحَابَةِ رَضِيَ اللهُ تَعَالَى عَنْهُمْ/حدیث: 5276]

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 5277
أخبرني أحمد بن يعقوب الثَّقَفي، حدثنا موسى بن زكريا التُّستَري، حدثنا خَليفة بن خَيّاط، قال: والفَضل بن عَباس بن عبد المُطّلب بن هاشم، يُكنى أبا محمد، غَزَا مع رسول الله ﷺ مكةَ وحُنينًا، وثَبَتَ معه حين ولَّى الناسُ مُنهزِمين، وشَهِدَ معه حَجّةَ الوداع، وكان فيمن غَسَّل رسولَ الله ﷺ ووَلِيَ دَفْنه، ثم خرج إلى الشام مُجاهدًا [فمات] (1) بناحية الأُردنِّ في طاعون عَمَواس سنة ثمانَ عشرةَ من الهجرة، وذلك في خِلافة عمر بن الخطاب (2) .
خلیفہ بن خیاط نے ان کا نسب یوں بیان کیا ہے فضل بن عباس بن عبدالمطلب بن ہاشم رضی اللہ عنہ ان کی کنیت ابومحمد ہے، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ہمراہ فتح مکہ اور غزوہ حنین میں شرکت کی، اور جس وقت دوسرے لوگ پیٹھ پھیر کر بھاگ رہے تھے، یہ اس وقت بھی ثابت قدم رہے۔ حضور صلی اللہ علیہ وسلم کے ہمراہ حجۃ الوداع میں شریک ہوئے۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو غسل دینے اور آپ کی تکفین و تدفین کرنے والوں میں یہ بھی تھے۔ پھر آپ 18 ہجری میں عمواس کے طاعون کے زمانے میں ملک شام کی جانب اردن کے ایک نواحی علاقے میں جہاد کے لئے گئے۔ یہ واقعہ سیدنا عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ کے دور خلافت کا ہے۔ [المستدرك على الصحيحين/كِتَابُ مَعْرِفَةِ الصَّحَابَةِ رَضِيَ اللهُ تَعَالَى عَنْهُمْ/حدیث: 5277]

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 5278
سمعت أبا العباس محمد بن يعقوب، سمعت العباس يقول: سمعت يحيى بن مَعِين يقول: قُتِل الفَضْل بن عباس يومَ اليرموك في عهد أبي بكر الصِّديق (3) .
یحیی بن معین کہتے ہیں: سیدنا فضل بن عباس بن عبدالمطلب رضی اللہ عنہ، سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ کے دور خلافت میں جنگ یرموک میں شہید ہوئے۔ [المستدرك على الصحيحين/كِتَابُ مَعْرِفَةِ الصَّحَابَةِ رَضِيَ اللهُ تَعَالَى عَنْهُمْ/حدیث: 5278]

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں